Tuesday , April 25 2017
Home / دنیا / روہنگیا مسلمانوں کے نسلی صفائے کی آنگ سان سوچی کی تردید

روہنگیا مسلمانوں کے نسلی صفائے کی آنگ سان سوچی کی تردید

بنگلہ دیش فرار ہوجانے والے دوبارہ میانمار آسکتے ہیں، بی بی سی کو انٹرویو

لندن ۔ 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) میانمار کی ہردلعزیز اور مقبول قائد آنگ سان سوچی نے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ ملک میں روہنگیا مسلمانوں کا نسلی صفایا کیا جارہا ہے۔ یاد رہیکہ اقوام متحدہ کی رائٹس کونسل کی جانب سے میانمار کی فوج کے خلاف عائد کئے گئے الزامات کی تحقیقات پر آمادگی کے بعد بی سی سی سے بات چیت کرتے ہوئے سوچی نے یہ بات کہی۔ سوچی کا انٹرویو کل نشر کیا گیا تھا جہاں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ملک میں روہنگیا مسلمانوں کا نسلی صفایا نہیںکیا جارہا ہے۔ ان کے خیال میں کسی بھی فرقہ کے خلاف کی جانے والی کارروائی کیلئے ’’نسلی صفایا‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنا انتہائی ناپسندیدہ ہے۔ یاد رہیکہ آنگ سان سوچی حکومت کی تشکیل کو ایک سال کا عرصہ گذر گیا ہے اور اس دوران وہاں کے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑے گئے اس کی وجہ سے میانمار کو بین الاقوامی تنقیدوں کا سامنا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش سے غیرقانونی طور پر میانمار ہجرت کرنے والے قرار دیا جارہا ہے جس کے بعد ہی اقوام  متحدہ کی رائٹس کونسل نے ملک کی اقلیتوں کے خلاف روا رکھے گئے برتاؤ کی تحقیقات پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔ جنیوا سے وابستہ اس مجلس کو اب روہنگیا مسلمانوں کی ایذاء رسانی، قتل اور عصمت ریزی جیسے رونگٹے کھڑے کردینے والے واقعات کی تحقیقات کرنی ہے جس کا ارتکاب فوجیوں نے کیا تھا۔ سوچی نے یہ اعتراف کیا کہ راکھین کے مغربی علاقہ میں تشدد کی کارروائیاں انجام دی گئیں جہاں زائد از ایک ملین روہنگیا مسلمان آباد ہیں۔ سوچی نے کہا کہ ایسا بھی ہوا ہیکہ ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کو صرف اس شبہ پر ہلاک کردیا کہ وہ (مہلوک مسلمان) حکام کے ساتھ سازباز کررہے ہیں یا ان سے ملے ہوئے ہیں۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ نسلی صفایا نہیں ہے بلکہ خود روہنگیا مسلمان آپس میں متحد نہیں ہیں بلکہ کسی نہ کسی معاملہ پر وہ منقسم ہیں۔ ہماری کوشش ہیکہ ہم تقسیم کے اس فاصلہ کو مزید بڑھنے سے روکیں۔ خود میانمار حکومت نے راکھین اسٹیٹ میں رونما ہوئے جرائم کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور تحقیقاتی کمیشن کی قیادت اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل کوفی عنان کے حوالے کی گئی ہے جس کے ذریعہ تحقیقاتی کمیشن مسلمانوں اور بدھسٹوں کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو پُر کرنے کی کوشش کرے گا۔ فوج کو اتنی آزادی نہیں ہے کہ وہ کسی کا قتل کرے یا عصمت ریزی کرے۔ فوج کا کام ہے ملک کی حفاظت کرنا اور دشمن سے لڑنا۔ لہٰذا فوج کے معاملات سے فوج کو ہی نمٹنا چاہئے۔ یاد رہیکہ فوج نے راکھین اسٹیٹ کے شمالی علاقوں میں جب اپنا آپریشن شروع کیا تھا اس وقت تقریباً 75000 روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش فرار ہوگئے تھے۔ فوج کو ان روہنگیا مسلمانوں کی تلاش تھی جنہوں نے گذشتہ سال اکٹوبر میں پولیس کی چوکیوں پر دھاوے کئے تھے۔ بعدازاں مفرور روہنگیا مسلمانوں نے اقوام متحدہ کے رائٹس دفتر کو بتایا کہ ان کے معصوم بچوں کو میانمار کے فوجیوں نے ان کی ماؤں کے سامنے قتل کیا جس کا مقصد دیگر مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا تھا۔ سوچی نے کہا کہ جو لوگ بنگلہ دیش فرار ہوگئے ہیں اگر وہ واپس آنا چاہیں تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ یاد رہیکہ ہفتہ کے روز ضمنی انتخابات میں سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریس (این ایل ڈی) کو ملک گیر پیمانے پر مختلف انتخابی حلقوں میں کامیابی حاصل ہوئی لیکن نسلی طور پر اقلیتی علاقوں بشمول راکھین میں این ایل ڈی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT