Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / روہنگیا مسلم خواتین پر مائنمار کے فوجیوں کے مظالم

روہنگیا مسلم خواتین پر مائنمار کے فوجیوں کے مظالم

خواتین کی اجتماعی عصمت ریزی، جسمانی و ذہنی ایذاء رسانی
تکناف (بنگلہ دیش) ۔ 25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مائنمار کے فوجیوں کے تشدد اور مظالم کے رونگھٹے کھڑا کرنے والی داستانوں کا اس وقت انکشاف ہوا جب ان کے چنگل سے بچتے ہوئے فرار ہونے کے بعد بنگلہ دیش پہنچنے والی ہزاروں روہنگیا مسلم خواتین نے اپنے تلخ تجربات کا انکشاف کیا۔ ان میں ایک لڑکی سمیرا اور اس کی بہن حبیبہ نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مائنمار فوج کی بربریت کے دلخراش واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ فوجیوں نے اس کو اور اس کی بہن کو پلنگ سے باندھ دیا اور ایک کے بعد دیگر کئی فوجیوں نے ان دونوں کی اجتماعی عصمت ریزی کی۔ 20 سالہ حبیب نے جس کو اب مائنمار ۔ بنگلہ دیش سرحد سے چند کیلو میٹر کے فاصلہ پر ایک پناہ گزین کیمپ میں قیام کی سہولت ہوگئی ہے، کہا کہ وہ اس نفسیاتی و جسمانی اذیت سے ہنوز سنبھل نہ پائی ہے اس دوران انہیں یہاں بھی بھوک اور فاقہ کشی کا سامنا ضرور ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہ یکہ کوئی انہیں مارنے والا یا اذیت دینے والا نہیں ہے۔ تھائی لینڈ میں سرگرم ایک غیرسرکاری تنظیم ویمنس لیگ آف برما نے 2010 تا 2015ء جنسی حملوں کے 92 واقعات کی نشاندہی کی ہے۔ تازہ واقعات میں صرف سمیار، حبیبہ ہی نہیں ہے ایسی دیگر سینکڑوں بے بس مسلم لڑکیوں میں 20 سالہ محسنہ بھی شامل ہے جس کو فوجیوں نے اجتماعی عصمت ریزی کے لئے کمبھ سے باندھ دیا تھا لیکن اس کے بھائی مجیب اللہ نے جان پر کھیل کر اپنی بہن کی عزت اور جان کو بچا لیا لیکن خود شدید زخمی ہوگیا تھا۔ 2012ء کے دوران اس الزام پر کہ مسلمانوں نے بدھسٹوں کی عصمت ریزی کی ہے، بڑے پیمانے پر تشدد بھڑک اٹھا تھا جس کے نتیجہ میں ہزاروں روہنگی مسلمانوں کو اپنے گھر چھوڑ فرار ہونا پڑا تھا۔

TOPPOPULARRECENT