Saturday , October 21 2017
Home / مضامین / رویش کمار کا کھلا مکتوب وزیراعظم مودی کے نام… مقتول گوری لنکیش کے بعد اب کیا میری باری ہے؟

رویش کمار کا کھلا مکتوب وزیراعظم مودی کے نام… مقتول گوری لنکیش کے بعد اب کیا میری باری ہے؟

 

رَویش کمار
رویش کمار مختلف صحافتی صلاحیتوں کے حامل صحافی ہیں، کھری سوچ اور بے باک انداز رکھتے ہیں؛ چنانچہ ٹی وی اینکر، رائٹر اور جرنلسٹ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں ہندوستانی سیاست اور سماج سے متعلق موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ رویش سینئر ایگزیکٹیو ایڈیٹر، این ڈی ٹی وی انڈیا ہیں اور کئی پروگراموں کی میزبانی کرتے ہیں جن میں اس چیانل کا اہم شو ’پرائم ٹائم‘، ’ہم لوگ‘ اور ’رویش کی رپورٹ‘ شامل ہیں۔ قارئین کرام! رویش نے حال ہی میں وزیراعظم مودی کو کھلا مکتوب تحریر کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
وزیراعظم نریندر مودی جی!
مجھے نہ صرف اُمید بلکہ یقین ہے کہ اِس تحریر کا آپ چاق و چوبند حالت میں ملاحظہ کریں گے۔ میں آپ کی اچھی صحت کیلئے ہمیشہ دعاگو ہوتا ہوں اور میری نیک تمنائیں ہیں کہ آپ کی بے پایاں توانائی بدستور قائم رہے۔ اس مکتوب کا مقصودِ کار کافی محدود ہے۔ یہ تو عام بات ہے کہ آج ’سوشل میڈیا‘ زرخیز میدان کی مانند ہے جہاں زبان کی متانت کی دھجیاں اُڑائی جاتی ہیں۔ ایسا محض آپ کی پارٹی کے ارکان اور آپ کے حامی، بلکہ اپوزیشن کی طرف سے بھی کیا جاتا ہے۔ اور اُن کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

افسوس کا پہلو یہ ہے کہ آپ کی ان لوگوں میں سے بعض کے ساتھ ’ٹوئٹر‘ پر وابستگی ہے، جو بے معنی زبان استعمال کرتے ہیں اور بلاامتیاز دھمکاتے رہتے ہیں۔ اور آپ نے اُن کے اکاؤنٹس سے وابستگی کو جاری رکھا ہوا ہے حالانکہ اُن کی بدخواہی برسرعام آشکار ہوچکی اور تنازعات پیدا ہوئے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کا آپ سے کوئی وابستگی کا دعویٰ کرنا یا فی الواقعی ایسا ہونا آپ کیلئے موزوں یا پھر آپ کے منصب کے وقار کیلئے شایانِ شان نہیں۔
آپ نے ضرور اُن کے اکاؤنٹس کو مشاہدہ میں رکھنے کا فیصلہ ان لوگوں کی بعض خاص قابلیتوں کی وجہ سے کیا ہوگا۔ لیکن میں امید کرتا ہوں کہ دھمکانے، تنگ کرنے اور فرقہ پرستی کو بھڑکانے کی قابلیتیں نہ ہوں۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ بہت مصروف ہوتے ہیں کہ اس معاملہ سے نمٹ پائیں، لیکن کم از کم آپ کی ٹیم یقینی بناسکتی ہے کہ آپ اس طرح کے لوگوں سے ’ٹوئٹر‘ پر جڑے نہ رہیں۔ یہ لوگ آپ کیلئے وقار گھٹانے کا موجب ہیں۔ ہندوستان کے عوام سے آپ کی بالعموم بہت تائید و حمایت حاصل ہوئی ہے؛ اگر کہیں کہیں کچھ کمی ہے تو آپ اُن تک رسائی کریں وہ بہ خوشی آپ کی مزید تائید و حمایت کریں گے۔ لیکن یہ وزیراعظم ہند کے شایانِ شان نہیں کہ ایسے لوگوں سے وابستہ رہے جو اُس (وزیراعظم) کے نقادوں کے حیات رہنے پر ملال کرتے ہیں۔
مجھے یہ اعتراف کرنے میں تامل نہیں کہ میں AltNews سے یہ جانکاری حاصل ہونے کے بعد سے کچھ حد تک خائف رہا ہوں کہ آپ ’واٹس ایپ‘ گروپ ’Om Dharmo Rakshati Rakshitah‘ کے بعض ارکان کی ’سوچ و فکر‘ پر دھیان دیتے ہو ، جو من چاہی مغلظات بکتے، فرقہ وارانہ جذبات مجروح کرتے آئے ہیں اور میرے بشمول بعض جرنلسٹوں کو دہشت گرد قرار دے رہے ہیں حالانکہ ہم فخر کے ساتھ محب وطن ہیں۔ میں وہ فحش زبان کو بہ آواز بلند پڑھ بھی نہیں سکتا جو میرے اور دیگر صحافیوں کے خلاف استعمال کی گئی ہے۔ سخت نکتہ چینی کا معاملہ بھی ہو تو آپ (وزیراعظم) کا احترام کرنا میرا فرض ہے، اس لئے میں تلخی کے بغیر اپنی بات کہتا ہوں۔ یہ ازحد شرمناک ہے جس قسم کی زبان یہ گروپوں کی جانب سے خاتون جرنلسٹوں کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ مجھے واقعی دکھ ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر آپ کو تک غیرمہذب زبان سے بخشا نہیں گیا ہے۔ لیکن فی الحال میں ان لوگوں کا معاملہ پیش کررہا ہوں جو آپ کے کیمپ میں شامل رہنے کا دعویٰ کرتے ہیں، جو میرے جیسے جرنلسٹوں کو دھمکاتے ہیں۔ جب کبھی میں نے اس واٹس ایپ گروپ سے خود کو الگ تھلگ رکھنے کی کوشش کی، وہ دوبارہ اپنی مخصوص زبان میں وار کرتے ہیں جیسے ’’جکڑو اُسے، وہ بچ نکل رہا ہے، اُسے مارو‘‘۔

اس طرح کی سیاست جو ہجوم کے ہاتھوں میں کھلونا بن جائے، جسے سوشل میڈیا اور سڑکوں پر پروان چڑھایا جارہا ہے، ایک دن ہمارے سماج ، خاص کر خواتین کیلئے بڑا مسئلہ بن جائے گی۔ ان میں کی اکثریت کیلئے لعن طعن میں پسندیدہ مشغلہ زَن بیزاری (صنف ِ نازک سے بے رغبتی) ہے۔ وہ اس قدر فرقہ پرست ہیں کہ خود آپ جو 2022ء تک ہندوستان سے تمام تر فرقہ پرستی کا صفایا کردینا چاہتے ہیں، ان کے جنونی جذبات کو برداشت نہیں کریں گے۔ مگر آپ کی 15 اگست کی تقریر کا بھی اُن پر کچھ اثر نہ ہوا اور وہ بدستور مجھے بُرا بھلا کہہ رہے ہیں۔ مجھے آپ سے ایک سوال پوچھنا ہے۔ کیا آپ واقعی نیرج دَوے اور نکھل داڈھچ کو ’فالو‘ کرتے ہو؟ کیوں؟ چند روز قبل، میں نے اُن کے واٹس ایپ گروپ سے ایک دو ’اسکرین شاٹس‘ میرے ’فیس بک‘ پیج @RavishKaPage پر شیئر کئے تھے۔ ’آلٹ نیوز‘ کے پرتیک سنہا اور نلیش پروہت نے پتہ چلایا کہ نیرج دوے ساکن راجکوٹ کسی اکسپورٹ کمپنی کا منیجنگ ڈائریکٹر ہے۔ آپ نیرج دوے کو ’فالو‘ کرتے ہو۔ جب میں نے اُس سے کہا کہ گندی زبان استعمال نہ کرے، اُس نے جواب دیا کہ اُسے (ابھی تک) میرے زندہ ہونے پر ملال ہے۔
وہی واٹس ایپ گروپ کے دیگر ممبر نکھل داڈھچ کے تعلق سے بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ گوری لنکیش کی موت کے بعد گوری کے تعلق سے نکھل نے جو کچھ کہا، آپ ہوسکتا ہے اسے پسند نہیں کرتے اور مجھے یقین ہے آپ کی تائید نہیں کرتے، مگر پھر بھی آپ میری جانکاری کے مطابق نکھل کو ہنوز ’فالو‘ کرتے ہیں۔ حال ہی میں امیت مالویا، بی جے پی کے آئی ٹی سل کے سربراہ نے میری تقریر کو توڑ مروڑ کر ایک ویڈیو پیش کیا جس کا مقصد غلط پیام پھیلانا ہے۔ حالانکہ AltNews نے سچائی کا انکشاف کردیا، پھر بھی امیت مالویا نے کچھ تاسف کا اظہار نہیں کیا ہے۔

جناب! مجھے واقعی معلوم نہ ہوا کہ اِس نکھل دانڈھچ کو کسی طرح میرے فون تک رسائی مل گئی۔ وہ غیرمعمولی فرقہ پرست گروپ کا ممبر ہے، جس میں مجھے زبردستی شامل کیا گیا اور تشدد کے ذریعے دھمکایا گیا۔ میں نے کبھی قیاس نہ کیا تھا کہ اس زہریلے جم گھٹ کے ارکان اور آپ کے درمیان کوئی تعلق ہوسکتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ AltNews کے انکشافات غیردرست پائے جائیں، لیکن نکھل داڈھچ کی تو آپ کے وزیروں کے ساتھ تصاویر ہیں۔
اتنا ہی نہیں بلکہ ’اوم دھرمو رَکشتی رکشیتا‘ واٹس ایپ گروپ کے بعض ’اڈمنسٹریٹرز‘ کے نام RSS-1 اور RSS-2 ہیں۔ ایک کا نام آکاش سونی ہے۔ اُس کی تصاویر وزیر دفاع نرملا سیتارمن، وزیر صحت جے پی نڈا، اور دہلی بی جے پی چیف منوج تیواری کے ساتھ ہیں۔ بلاشبہ، کوئی شخص کسی کے بھی ساتھ تصاویر میں ہوسکتا ہے، لیکن یہ شخص ایسا گروپ چلاتا ہے جو دھمکیاں دیتا ہے اور فرقہ وارانہ نزاع کو ہوا دیتا ہے۔ کیا آپ کی ٹیم کو یہ باتیں تشویشناک نہیں معلوم ہونا چاہئے؟ اگر کوئی آپ کے تعلق سے کچھ بھی لکھتا ہے تو متعلقہ واٹس ایپ گروپ کا اڈمنسٹریٹر گرفتار کرلیا جاتا ہے … میں نے اس طرح کی کئی خبریں پڑھی ہیں۔

کیا آکاش سونی آر ایس ایس کا عہدہ دار ہے؟ اُس نے ’آلٹ نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق میرے ساتھ ابھیسر شرما، راج دیپ سردیسائی اور برکھا دت کے فون نمبرز بھی گروپ میں رکھے ہیں۔ آپ کی آرگنائزیشن کے قائدین نے میرے نمبر کی تشہیر کردی، اور مجھے ماضی میں بھی دھمکیاں وصول ہوئی ہیں۔ میں فکرمند ہوا لیکن میں نے آپ کو مکتوب نہیں لکھا۔ میں اِس مرتبہ لکھ رہا ہوں کیونکہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ آیا آپ اس کی تحقیقات کرا سکتے ہیں: کیا اِس گروپ کے ممبرز واقعی میرا قتل کرسکتے ہیں۔ کیا میری زندگی کو خطرہ ہے؟ میں ایک عام شہری اور ادنیٰ شخص ہوں، لیکن میں چوکس اور پابند ِ عہد صحافی بھی ہوں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ اب کسی بھی روز، آپ کی مرضی سے، میں نوکری کھوکر خود کو سڑکوں پر پاؤں گا۔ چند روز قبل، سوشل میڈیا پر اس خیال سے خوشیاں بھی منائی گئیں کہ میں جاب سے محروم ہونے والا ہوں۔ کئی تو یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت میرے پیچھے پڑی ہے۔ میں نے ’The Wire‘ پر حالیہ رپورٹ میں پڑھا کہ ’ہندوستان ٹائمز‘ کے ایڈیٹر بابی گھوش کو برطرف کردیا گیا کیونکہ آپ نے ان کو پسند نہیں کیا۔ وہ اب میری باری بتا رہے ہیں۔ مجھے ایسی رپورٹس پر ہنسی آتی ہے لیکن مجھے تشویش بھی ہوتی ہے۔ میں یہ سوچنا تک پسند نہیں کرتا کہ طاقتور وزیراعظم ہند کسی جرنلسٹ کو برطرف پر توجہ مرکوز کرے گا۔ لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ بس چند دنوں کی بات کہ مجھے نوکری سے نکال دیا جائے گا۔ کیا ایسی بات ہے، جناب؟
اگر ایسا ہے تو میرے لئے فخر کا معاملہ ہوگا۔ لیکن آپ کو یہ کام نہیں ہونے دینا چاہئے۔ میرے لئے نہیں، بلکہ ہندوستان کی عظیم جمہوریت کی خاطر۔ ورنہ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ اگر اُن کی رائے دوسروں سے مختلف ہو، دوسروں سے زیادہ ناقدانہ ہو، تب اُن کیلئے اِس بڑی جمہوریت میں تک جگہ نہیں۔ کیا کسی جرنلسٹ کی نوکری کا فیصلہ کسی وزیراعظم اور وزیر فینانس کی سطح پر ہونا چاہئے؟ مجھے اس طرح کا خیال ان دھمکیوں کی مطابقت میں آتا ہے جو مجھے اُس واٹس ایپ گروپ پر ملتی ہیں۔ اگر آپ انھیں ’فالو‘ نہ کررہے ہوتے، میں واقعی یہ مکتوب تحریر نہیں کیا ہوتا۔
میرے پاس ایلیومینم کا صندوق ہے جسے لے کر میں دہلی آیا تھا۔ خدا نے مجھے گزشتہ 27 برسوں میں بہت کچھ عطا کیا ہے، لیکن وہ صندوق بدستور میرے پاس ہے۔ میں اُسے لے کر موتیہاری واپس ہوسکتا ہوں لیکن مجھے میری فیملی کی کفالت بھی کرنا ہے۔ معاش کیلئے کون فکر نہیں کرتا؟ بڑے اسٹارز پیسہ کی خاطر 70 یا 75 سال کی عمر میں تک اشتہارات کیلئے کام کرتے ہیں۔ جب وہ لوگ اپنے گھر چلانے کیلئے روزگار کے متلاشی ہوتے ہیں، کیا میرے جیسے کہیں کمتر لوگوں کو اس فکرمندی سے مستثنا رہنا پڑے گا؟ یقین ہے، آپ میری اولاد کو سڑکوں پر دیکھنا پسند نہیں کریں گے۔ کیا آپ کو اچھا لگے گا؟ کیا میرے لئے اس قدر نفرت ہے؟ میرے بچے پھر بھی آپ کا خیر ہی چاہیں گے اور مجھے میدان سنبھالنا پسند ہے۔ لہٰذا، وہاں بھی میں میرا سوالات پوچھنا جاری رہے گا۔ یہی کچھ باپو (گاندھی جی) نے کہا تھا جب وہ چمپارن گئے تھے: چاہے مقام کتنا ہی انجانا ہو، کوئی بھی فرد اپنے حُسنِ عمل کی طاقت کے بل پر وہاں سینہ تانے کھڑا ہوسکتا ہے۔ میں اُس عظیم سرزمین کا عشر عشیر ہوں۔

میں سچائی اس لئے نہیں کہتا کہ کسی کو خوف میں مبتلا کردوں۔ باپو کہا کرتے تھے کہ سچ خودسری (سرکشی) کے ساتھ ہو تو پھر وہ سچ ہی نہیں۔ میں اظہار ِ خیال کرتا ہوں کہ خود کو زیادہ منکسر المزاج بناپاؤں، کچھ سیکھ سکوں، اور میرے اضداد کی تلافی ہوجائے۔ اگر میں اس تعلق سے لب کشائی یا تحریری کام نہ کرسکوں تو سچ میرے لئے وبال بن جاتا ہے۔ جب میں کچھ بولتا ہوں تو وہ میرے مشاہدہ کو پیش کرنے کا حصہ ہوتا ہے اور خود کو میری کئی کوتاہیوں سے کہیں دور لے جانے کی سعی ہوتی ہے، لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کیا مجھے حکومت کا ڈر نہیں؟ میں میری کوتاہیوں سے خائف ہوں۔ میں میری کوتاہیوں کے خلاف جدوجہد کیلئے بولتا اور لکھتا ہوں۔ اور میں کئی بار ہار جاتا ہوں۔ تب میں خود سے کہتا ہوں کہ میں بھلے ہی اِس مرتبہ ناکام ہوگیا، لیکن اگلی مرتبہ کامیاب ہوں گا۔ طاقت کے آگے سچ بولنا ہمت کا مظاہرہ ہے جو ہمارا دستور ہمیں دیتا ہے۔ آپ اس دستور کے محافظ ہو۔
میں اسے (مکتوب کو) منظرعام پر لارہا ہوں اور اس کی نقل آپ کو بھیج بھی رہا ہوں۔ اگر آپ نکھل داڈھچ، نیرج دَوے اور آکاش سونی کو جانتے ہو، برائے مہربانی اُن سے پوچھئے آیا وہ یا اُن کے گروپوں میں سے کوئی میرے قتل کا منصوبہ رکھتا ہے۔ میں ’AltNews‘ والی متعلقہ اسٹوری کا لنک بھی منسلک کروں گا۔ اگر میں نے اِس مکتوب کو تحریر کرنے میں آپ سے کسی بھی طرح کی گستاخی کی ہے تو میں معذرت چاہتا ہوں۔
آپ کا خیرخواہ!
رویش کمار
جرنلسٹ، NDTV India

TOPPOPULARRECENT