Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / رپبلکن کنونشن: سابق ری پبلکن صدور کی عدم شرکت

رپبلکن کنونشن: سابق ری پبلکن صدور کی عدم شرکت

ٹرمپ کی اہلیہ پر میشل کی تقریر کے سرقہ کا الزام، میرے شوہر ’’رحمدل‘‘

کلیولینڈ ۔ 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں رپبلکن پارٹی کی جانب سے متوقع صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے مخالفین کلیولینڈ میں جاری پارٹی کے سالانہ کنونشن کے دوران ٹرمپ کی نامزدگی کا راستہ روکنے کی کوشش کی جو ناکام ہو گئی۔ ٹرمپ کے مخالفین نے رائے شماری کروانے کی کوشش کی جس کے تحت کنونشن میں شامل مندوبین کو اپنی مرضی کے کسی امیدوار کا انتخاب کرنے کی آزادی مل جاتی، تاہم اطلاعات کے مطابق تین ریاستوں کے پیچھے ہٹ جانے کی وجہ سے یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں نے کنونشن میں سینیئر رہنماؤں کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ایوانِ نمائندگان کے سابق اسپیکر نیوٹ گنگرِچ نے بش خاندان کو ’بچکانہ‘ کہا ہے جب کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے ایک مشیر نے اوہائیو کے گورنر اور صدارتی امیدواری کی دوڑ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے حریف جان کیسک کو ’بدخو‘ قرار دیا ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارتی نامزدگی کی وجہ سے پارٹی کے اندر بظاہر دراڑیں پڑتی نظر آ رہی ہیں۔ پارٹی کے اندر ٹرمپ کے حامی اور مخالف دھڑوں کے درمیان کشیدگی پیر کی صبح جنگ کی صورت اختیار کر گئی۔ نیوٹ گنگرچ نے اے بی سی نیوز کو بتایاکہ رپبلکن پارٹی نے بش خاندان کے ساتھ اچھا سلوک کیا، (جس کے جواب میں) وہ انتہائی کم احسان مندی دکھا رہے ہیں۔

دو سابق رپبلکن صدور جارج ایچ ڈبلیو بش اور جارج ڈبلیو بش نے ٹرمپ کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے بش جونیئر پر عراق جنگ اور 9/11 حملوں کے حوالے سے تنقید کی تھی، جب کہ وہ صدارتی نامزدگی کی دوڑ کے دوران بش جونیئر کے چھوٹے بھائی اور فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ سابق صدارتی امیدوار مٹ رامنی بھی کنونشن میں شریک نہیں ہوئے۔ وہ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کی وجہ سے ان کے خلاف ہیں۔ امریکہ میں پولیس کے خلاف حالیہ حملوں کی وجہ سے کنونشن میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور لوگوں کو چار روزہ کنونشن میں اسلحہ لانے کی اجازت نہیں ہے۔ وفاقی اور ریاستی سکیورٹی اداروں کے ہزاروں ارکان کلیولینڈ میں موجود ہیں۔ توقع ہے کہ 50 ہزار کے قریب لوگ کنونشن میں شرکت کریں گے، اور اس دوران احتجاجی مظاہرے بھی کیے جائیں گے۔دوسری طرف ڈونالڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا توجہ کا مرکز رہیں لیکن ان پر صدر اوباما کی اہلیہ میشل اوباما کی تقریر کے سرقہ کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

مبصرین نے میلانیا کی تقریر میں صدر اوباما کی اہلیہ کی 2008 کی تقریر سے مماثلت پائی۔ ٹرمپ کی اہلیہ نے اپنی تقریر میں اپنے شوہر کو ’رحم دل‘ انسان کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ وہ ’ملک کے لیے لڑیں گے۔‘یہ ٹرمپ کے صدارتی امیدواری کی مہم کی ان کی پہلی تقریر تھی جس کے تیار کرنے میں تقریر لکھنے والی ٹیم کی مدد لی گئی تھی۔ تقریر کے ایک حصے میں مسز ٹرمپ نے کہا کہ میرے والدین نے مجھے یہ اقدار سکھائیں کہ آپ زندگی میں جو چاہتے ہیں اس کے لیے کڑی محنت کریں۔ آپ کے الفاظ آپ کے وعدے ہیں، آپ جو کہیں وہ کریں اور اپنے وعدے پورے کریں، کہ لوگوں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں۔ 2008 میں میشل اوباما کی تقریر کچھ اسی طرح تھی: کہ براک اور مجھے بہت سے مشترکہ اقدار کے ساتھ پالا پوسا گیا کہ آپ جو زندگی میں چاہتے ہیں اس کے لیے کڑی محنت کریں کہ آپ کے الفاظ آپ کے وعدے ہیں، آپ جو کہیں وہ کریں، کہ لوگوں کے ساتھ عزت و وقار سے پیش آئیں اگر چہ آپ انھیں نہ جانتے ہوں اور اگرچہ آپ ان سے اتفاق رائے نہ رکھتے ہوں۔

TOPPOPULARRECENT