Saturday , October 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / رکن اسمبلی جنگاؤں و رکن پارلیمنٹ بھونگیر میں ٹھن گئی

رکن اسمبلی جنگاؤں و رکن پارلیمنٹ بھونگیر میں ٹھن گئی

جنگاؤں ضلع کے مسئلہ پر دونوں قائدین کے الزامات و جوابی الزامات
مدور۔/22جون، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حکومت تلنگانہ نے بہتر نظم و نسق کے لئے جب سے ریاست میں نئے اضلاع کی تشکیل کرنے کا اشارہ دیا ہے تب ہی سے پوری ریاست میں مختلف تنظیموں و جماعتوں کے قائدین میں موجود داخلی و شخصی اختلافات منظر عام پر آنے شروع ہوچکے ہیں۔ہر قائد اپنے مخالف قائد کو نیچا دکھانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہا ہے جس کے باعث ایک دوسرے کے خلاف الزامات و جوابی الزامات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوکر عوام کو درپیش مختلف مسائل پس پشت چلے گئے ہیں۔ اس ضمن میں حلقہ اسمبلی جنگاؤں کی نمائندگی کرنے والے رکن اسمبلی مسٹر متی ریڈی یادگیری ریڈی و رکن پارلیمنٹ لوک سبھا بھونگیر ڈاکٹر بورا نرسیا گوڑ کے مابین جنگاؤں کو نیا ضلع بنانے کے مسئلہ کو لیکر سرد جنگ چھڑ گئی ہے۔ کل جنگاؤں میں رکن اسمبلی متی ریڈی یادگیری ریڈی نے جنگاؤں کو نیا ضلع بنانے کیلئے بڑھتے ہوئے عوامی مطالبہ و احتجاج سے متفکر ہوکر عجلت میں اپنی رہائش گاہ پر اخباری نمائندوں کو طلب کرکے جنگاؤں کو نیا ضلع بنانے سے متعلق ان کی طرف سے کی گئی اب تک کی مساعی کی تفصیلات پیش کردی اور اس ضمن میں رکن پارلیمنٹ بھونگیر بورا نرسیا گوڑ کو اصل رکاوٹ قرار دیا اور انکشاف کیا کہ رکن پارلیمنٹ نئے نام سے محبوب نگر کو نیا ضلع کیلئے کوشاں ہیں نیز ریاستی حکومت پر شدید دباؤ بنائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے جنگاؤں کا نیا ضلع بننا غیریقینی ہوگیا ہے۔ مقامی صحافت میں اس بات کے چھپتے ہی آج رکن پارلیمنٹ بھونگیر ڈاکٹر بورا نرسیا گوڑ نے مقامی صحافیوں کو فون کرتے ہوئے اپنی صفائی پیش کرنا شروع کردی۔ اس ضمن میں آج انہوں نے دہلی سے بذریعہ فون ’سیاست نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی جنگاؤں مسٹر متی ریڈی یادگیری ریڈی پر جوابی الزامات کی بوچھار کردی اور بتایا کہ ایم ایل اے کی من مانی اور انانیت کے باعث جنگاؤں کو نیا ضلع بنانے کے امکانات موہوم ہوچکے ہیں جس سے مایوس ہوکر دوسروں پر الزامات عائد کررہے ہیں۔ انہوں نے دلیل پیش کی کہ نئے ضلع جنگاؤں کے قیام کے لئے دوسرے سیاسی قائدین و تنظیموں اور جماعتوں کا ساتھ لئے بغیر ہی متی ریڈی یادگیری نے تنہا نمائندگی کرنا شروع کردی تھی جس کے منفی اثرات نئے ضلع کے قیام کے امکانات پر پڑے ہیں۔ ڈاکٹر نرسیا گوڑ نے الزام لگایا کہ رکن اسمبلی جنگاؤں نے جنگاؤں کو نیا ضلع بنانے کے لئے ون مین شو کرتے ہوئے اپنے آپ کو بطور ہیرو پیش کرنے کی ناکام کوشش کی ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے رکن اسمبلی جنگاؤں کو مشورہ دیا کہ وہ پہلے حلقہ میں شامل مدور و چیریال منڈل کے عوام کو راضی کرے جو کہ نئے ضلع سدی پیٹ میں شامل ہونے کے خواہاں ہیں۔ مذکورہ منڈلوں کے عوام کی رضامندی کے بعد دوبارہ مساعی شروع کرے جو کہ ثمر آور ثابت ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT