Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / رہائشی جائیدادوں کی قیمت میں 30 فیصد گراوٹ

رہائشی جائیدادوں کی قیمت میں 30 فیصد گراوٹ

منافع بخش کاروبار کی امید ختم ، نوٹ بندی سے رئیل اسٹیٹ تاجرین کی صورتحال ابتر
حیدرآباد۔25نومبر(سیاست نیوز) کرنسی تنسیخ کے اثرات رئیل اسٹیٹ پر مرتب ہونے کے سبب رئیل اسٹیٹ تاجرین کی حالت آئے دن ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ ملک میں کرنسی تنسیخ کے فوری بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کا سب سے زیادہ اثر رئیل اسٹیٹ پر ہوا ہے اور جائیدادوں کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی جار ہی ہے۔ حکومت کے فیصلہ کے بعد اندرون دو ہفتہ رہائشی جائیدادوں کی قیمت میں 30فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ کھلی اراضیات کی قیمتوں میں 50 تا 60 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ رئیل اسٹیٹ صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اس صنعت میں کوئی منافع بخش کاروبارکی گنجائش پیدا ہونے کے آثار نہیں رہے کیونکہ اب تک اس تجارت میں بھاری سرمایہ غیر محسوب آمدنی کے ذریعہ ہوا کرتا تھا لیکن اب جو حالات پیدا ہوئے ہیں ان حالات میں کاروبار اسی وقت منفعت بخش بن سکتے ہیں جب خریدار اور فروخت کنندہ دونوں ہی مکمل طور پر محسوب آمدنی کے ذریعہ خریدی کو یقینی بنائیں ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے بڑی کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے بعد شہری علاقوں بلکہ گنجان آبادیوں میں بھی جائیدادوں کی قیمت میں گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے بھی کئی رہائشی علاقوں میں جائیدادوں کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ کرنسی کی تنسیخ کے بعد جو لوگ اپنی جائیدادوں پر قرض حاصل کئے ہوئے ہیں وہ ان قرضہ ٔ جات کی ادائیگی کے لئے پرانی کرنسی قبول کرنے تیار ہیں اور جو لوگ پرانی کرنسی رکھتے ہیں وہ ان جائیدادوں کو خرید رہے ہیں تاکہ پرانی کرنسی کے استعمال کو یقینی بنا سکیں۔ رئیل اسٹیٹ صنعت سے وابستہ ایک سرکردہ تاجر نے بتایا کہ فی الحال جو حالات پیدا ہوئے ہیں ان میں رہائشی مکانات کی قیمت میں گراوٹ کی توقع نہیں کی جا رہی تھی لیکن اب خریدار بینک لون کے ذریعہ جائیداد خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کیلئے جائیداد کا تنازعات سے پاک ہونے کے علاوہ قانونی اجازت ناموں کے ساتھ تعمیر کیا ہونا ضروری ہے۔ اسی لئے جن جائیدادوں کی تعمیرکے اجازت نامے موجود نہیں ہیں ان کی قیمتوں میں بھی بھاری گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ قومی سطح پر رئیل اسٹیٹ میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کو دور ہونے کے لئے کافی عرصہ لگ جائے گا اور اس صنعت میں سرمایہ کاری میں کوئی دلچسپی باقی نہیں رہے گی ۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ نواحی علاقوں میں جائیدادوں کی قیمتوں میں آرہی گراوٹ کے فوری دور ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے بے نامی جائیدادوں کے متعلق کاروائی کے امکانات کے پیش نظر کئی جائیدادیں برائے فروخت ہیں لیکن کوئی ان کے خریدار موجود نہیں ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ فوری ان جائیدادوں کی خریدی کے ذریعہ خود کو مشکلات میں مبتلاء کریں ۔ جن جائیدادوں کی خریدی کی معاملتیں بے نامی ہیں ان کے خلاف کاروائی کی اطلاعات کے سبب بھی رئیل اسٹیٹ شعبہ کافی متاثر ہوا ہے اور شہری علاقوں میں وہ جائیدادیں حکومت کے نشانہ پر ہیں جو کافی عرصہ قبل فروخت ہو چکی ہیں لیکن ان کی رجسٹری منتقلی نہیں ہوئی ہے۔ جن جائیدادوں کی رجسٹری و خریدار کے نام پر منتقلی نہیں کی گئی ہے ان جائیدادوں کے متعلق تفصیلات کے حصول کے سبب رہائشی علاقوں کی جائیدادوں کی قیمت میں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے اور جن لوگوں نے یہ بے نامی جائیدادیں خرید رکھی ہیں وہ جلد از جلد ان جائیدادوں کو فروخت کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

TOPPOPULARRECENT