Friday , August 18 2017
Home / مضامین / ریئل اسٹیٹ سیکٹر پر منڈلتا سیاہ گہن

ریئل اسٹیٹ سیکٹر پر منڈلتا سیاہ گہن

محمد فیاض الدین
موجودہ دور میں ہر ایک شخص کا یہ خواب ہے کہ  ایک عدد گھر تعمیر کریں یا تعمیر شدہ گھر خریدے لیکن یہ ایسا خواب ہے جو کہ کروڑوں افراد کے لئے عمر تمام محض ایک خواب ہی بن کر رہ جاتا ہے۔ عصر حاضر میں زمین، مکان یا فلیٹ کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ عام لوگوں کے لئے مکان خریدنا یا تعمیر کروانا ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ کچھ لوگ بینکوں وغیرہ سے قرض حاصل کرکے فلیٹ ضرور خرید رہے ہیں لیکن ایک مرتبہ قرض لینے کے بعد قرض دار کی زندگی قسطوں میں تقسیم ہوکر رہ جاتی ہے۔ وہ نہ تو کھل کر زندگی گذار سکتے اور نہ ہی چین و سکون کے ساتھ رہ پاتے ہیں۔ ہر چھوٹی موٹی خوشی کو پوری کرنے کے لئے بھی انہیں کئی قربانیاں دینی پڑتی ہیں زندگی کے ہر ایک موڑ پر انہیں صرف سمجھوتے کرتے ہوئے آگے بڑھنا ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2022ء تک ہندوستان کے ہر ایک شہری کو مکان مہیا کروانے کا وعدہ کیا ہے جو کہ حقیقت سے بعید معلوم ہوتا ہے۔ وہ اس لئے کہ آج ملک میں ریئل اسٹیٹ کا کاروبار زمینوں کی قیمتوں میں اچھا خاصا اچھال پیدا کرچکا ہے، ایسے میں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کیا واقعی مکان، فلیٹ یا زمین کی قیمتیں اتنی بڑھ چکی ہے یا کم قیمت والے فلیٹ یا زمینوں کی قیمت بڑھا چڑھاکر بتائی جارہی ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن آمدنی میں اتنا بھی اضافہ نہیں ہوا ہے کہ ملازم پیشہ افراد یا موسط طیفہ اور کاروباری حضرات کروڑوں کا فلیٹ یا زمین آسانی کے ساتھ خرید سکیں۔ ریئل اسٹیٹ میں درمیانی افراد کے بڑھتے رول کے سبب ہی آج ملک کے کئی بڑے شہروں میں اونچے اونچے شاپنگ مال اور رہائشی فلیٹس بغیر خریدار کے بے رونق اور نقصان کا سودہ ثابت ہو رہے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں جاری ہوئی ایک رپورٹ کے مطابق بغیر فروخت ہوئے مکانوں، فلیٹوں اور دوکانوں کی تعداد میں 18 تا 40 فیصد ہوا ہے اور جس میں سب سے زیادہ ہندوستان کے صدر مقام دہلی میں درج کیا گیا ہے۔ اس زمرے میں مکان اور دوکانوں کے دام اور صد فیصد گھٹانے کے باوجود فلیٹ کی مانگ میں 25 تا 30 فیصد گراوٹ آئی ہے۔ جبکہ سال گزشتہ دہلی کے اطراف و اکناف میں واقع کاروباری مراکز کی مانگ میں 35 تا 40 فیصد گراوٹ تھی، ممبئی، پونے اور دیگر میٹرو شہروں میں خیالی رہائشی مکان و دوکانیں اور فلیٹس بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ بنگلور اور چینائی میں بھی غیر فروخت شدہ رہائشی مکانات، فلیٹس کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ ممبئی میں غیر فروخت شدہ مکانات کی تعداد 27.5 فیصد ہے، بنگلور میں 25 فیصد، چینائی میں 22.5 ، احمد آباد میں 20، پونے میں 19.5 اور حیدرآباد میں 18 فیصد ہے۔رہائشی علاقوں میں سب سے زیادہ غیر فروخت شدہ مکان دہلی، این سی آر میں واقع ہیں۔ جبکہ دوسرے مقام پر ممبئی ہے جہاں پر تقریباًایک لاکھ مکان فروخت نہیں ہو پائے۔

بنگلور میں 66 ہزار چینائی میں 60 ہزار پونے میں 55 ہزار اور صرف ملک کے صدر مقام کے علاقے میں تقریباً ڈھائی لاکھ مکانات ایسے ہیں جن کے لئے ابھی تک کوئی خریدار رجوع نہیں ہوا۔ یہ تعداد زیر تعمیر شدہ مکانات کی کل تعداد میں قریب 35 فیصد ہے۔ ان مکانوں کے رجسٹریشن اور دیگر تنازعات کے سبب خریدو فروخت میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ریئل اسٹیٹ میں مندی کا سب سے زیادہ اثر معاشی سیکٹر اور کنسٹرکشنل شعبہ پر پڑا ہے۔ جس کے سبب ہی ریئل اسٹیٹ کا کاروبار کمزور پڑتا جارہا ہے۔ تعمیراتی شعبہ سے تقریباً 1.25 کروڑ افراد جڑے ہوئے ہیں۔ فردختگی میں گراوٹ اور جدید پالیسیوں کی عدم شروعات سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ رہائشی علاقوں میں قیمت کو لے کر مخالفت دیکھی جارہی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے رواں سال دہلی کے علاقہ میں نئی رہائشی پالیسیاں 30 تا 35 فیصد تک منسوخ ہوچکی ہیں۔ فی الحال بلڈروں کا مقصد یہ ہے کہ پہلے سے تعمیر شدہ مکانات کو فروخت کریں اور طویل عرصے سے پیش آرہی رکاوٹوں کو ختم کرنے پر زیادہ توجہ دیں۔ ریئل اسٹیٹ مارکٹ میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ بلڈر لاگت کی دوگنی سے زائد قیمت گاہکوں سے وصول کرتے ہیں اور زمینات کے معاملے میں تو حال اور بھی برا ہے۔ زمین کی قیمت کب آسمان چھو جائے اور کب فرش تلے آجائے، یہ کوئی نہیں مانتا۔ بلڈر اور ریئل اسٹیٹ کاروباری من مانی قیمتوں پر زمین فروخت کرتے آرہے ہیں، حالانکہ حکومت نے قانون سازی کے ذریعہ بلڈروں کے اُڑتے پر کاٹنے کی کوشش کی ہے لیکن حکومت کی یہ کارروائی موثر ثابت نہیں ہو پائی۔ آج ریئل اسٹیٹ شعبہ کالی کمائی کو سفید بنانے کا مفید اور آسان ذریعہ بن گیا ہے۔ بھلے ہی بڑے شہروں میں بلڈر چیک سے معاوضہ وصول کرتے ہیں لیکن چھوٹے شہر جیسے پٹنہ، لکھنؤ، بھوپال، رائے پور، چنڈی گڑھ اور دیگر شہروں میں آج بھی بڑے بڑے بلڈر چیک کے بجائے نقد رقم وصول کر رہے ہیں۔ جو بھی ہو ریئل اسٹیٹ ایک ایسا سیکٹر ہے جس سے ہر طرح کے افراد جڑے ہوئے ہیں۔ ملک کی معیشت میں رفتار تیز کرنے میں ریئل اسٹیٹ کا بھی اہم رول ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ مکانات کی بے تحاشہ بڑھتی قیمتوں کے سبب ہی آج وہ مکمل ہو جانے کے بعد بھی آباد نہیں ہو پا رہے ہیں اور بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کو خود کا ایک آشیانہ بنانے کے خواب سے بھی محروم کررکھا ہے۔

TOPPOPULARRECENT