Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ریاستی بجٹ ترقی کی سمت گامزن کرنے والا بجٹ

ریاستی بجٹ ترقی کی سمت گامزن کرنے والا بجٹ

کانگریس قائدین کی تنقیدیں بوکھلاہٹ کی علامت ، کے ٹی راما راؤ کا بیان
حیدرآباد۔/14مارچ، ( سیاست نیوز) وزیر بلدی نظم و نسق و انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے ریاست کے بجٹ کو ترقی کی سمت گامزن کرنے والا بجٹ قرار دیا اور اپوزیشن جماعتوں کے اعتراضات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ حقائق کا پتہ چلائے بغیر ہی بجٹ پر تنقید کی جارہی ہے۔ کے ٹی آر نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کانگریس قائدین پر بوکھلاہٹ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اقتدار سے محرومی نے انہیں کہیں کا نہیں رکھا ہے، وہ عوامی تائید حاصل کرنے کیلئے طرح طرح کی کوششیں کررہے ہیں۔ تلنگانہ عوام کسی بھی صورت میں کانگریس پر بھروسہ کرنے والے نہیں اور دوبارہ اقتدار ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ حکومت عوام کو جوابدہ ہے اور انتخابی منشور میں جو وعدے کئے گئے تھے نہ صرف ان پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے بلکہ کئی نئی اسکیمات بھی شروع کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کیلئے ڈبل بیڈ روم مکانات کی اسکیمات کیلئے بجٹ میں رقم مختص نہ کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے، حکومت اس اسکیم پر عمل آوری کیلئے سنجیدہ ہے اور کسی بھی طرح ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر مکمل کی جائے گی، اس سلسلہ میں عوام کو کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شادی مبارک اور کلیان لکشمی جیسی اسکیمات انتخابی منشور میں شامل نہیں تھیں اور حکومت نے آئندہ سال سے امدادی رقم میں 51 ہزار سے اضافہ کرتے ہوئے 75ہزار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے غریب خاندانوں کی لڑکیوں کی شادی میں مدد ملے گی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ حکومت کی میعاد ابھی باقی ہے اور ہم عوام سے کئے گئے وعدوں سے فرار اختیار کرنے والے نہیں ہیں۔ عوام نے گذشتہ تین برسوں میں ہر ضمنی انتخاب اور مجالس مقامی کے انتخابات میں حکومت کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور آئندہ بھی عوام کا فیصلہ حکومت کے حق میں آئے گا۔ کے ٹی راما راؤ نے اپوزیشن کو چیلنج کیا کہ وہ بجٹ کو غلط ثابت کردکھائیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے بجٹ کو جھوٹا ثابت کرنے پر استعفی کا پیشکش کیا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو بدعنوانیوں اور اسکامس کے بارے میں اظہار خیال کا کوئی اخلاقی حق نہیں کیونکہ کانگریس کا دوسرا نام اسکامس اور بدعنوانیاں ہیں۔ کانگریس کی تاریخ بدعنوانیوں اور اسکامس سے بھری پڑی ہے اور اس کے کئی قائدین سی بی آئی تحقیقات کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اسکیمات پر تنقید کرنے سے قبل کانگریس کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ چیف منسٹر اور وزیر فینانس نے تلنگانہ کیلئے جو بجٹ تیار کیا ہے اس کا تصور بھی کانگریس قائدین نے اپنے خواب میں نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دیہی معیشت کو مستحکم کرنے اور پسماندہ طبقات کے ہر طبقہ کیلئے بجٹ میں گنجائش رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو دراصل اس بات کا خوف ہے کہ تمام طبقات حکومت کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔ قرض کے حصول اور تلنگانہ کے قرض میں اضافہ پر تنقیدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ دنیا بھر میں قرض کے حصول کے ذریعہ ترقیاتی اسکیمات پر عمل آوری کا رجحان عام ہے، کوئی بھی ملک قرض کے بغیر چل نہیں سکتا۔ کے ٹی آر نے نئی اصطلاح پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جو قرض حاصل کیا ہے وہ قرض نہیں بلکہ سرمایہ کاری ہے اس سے بہتر منافع حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تیز رفتار معیشت کے معاملہ میں ہندوستان دنیا میں 7ویں نمبر پر ہے۔ اس طرح ملک میں تلنگانہ 11ویں بڑی معیشت کے طور پر اُبھری ہے اور تلنگانہ میں جی ایس ڈی پی کی شرح 6.54 لاکھ ہے جو بہار، پنجاب اور ہریانہ سے آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ڈی پی کے معاملہ میں تلنگانہ سری لنکا سے بھی آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا قرض نہیں بلکہ تلنگانہ کے مستقبل کیلئے سرمایہ کاری ہے۔ عوام کو اپوزیشن کے گمراہ کن پروپگنڈہ سے متاثر نہیں ہونا چاہیئے۔ کے ٹی آر نے سوال کیا کہ گذشتہ 60برسوں کی حکمرانی میں کانگریس نے عوام کو صاف پینے کا پانی کیوں فراہم نہیں کیا اس کے علاوہ آج تک زرعی شعبہ پانی سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نلگنڈہ میں فلورائیڈ سے متاثرہ خاندانوں کو پانی کی سربراہی اور ایک کروڑ ایکر اراضی کو سیراب کرنا کیا کوئی جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس، سڑک، پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کیلئے حکومت نے قرض حاصل کیا ہے اور حکومت ہر پیسے کا حساب دینے کی ہمت رکھتی ہے۔ مہاراشٹرا، آندھرا پردیش، ٹاملناڈو اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں حکومت کا قرض ان کے بجٹ سے کہیں زیادہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT