Monday , May 1 2017
Home / شہر کی خبریں / ریاست آندھراپردیش کا ’’یوم سیاہ‘‘

ریاست آندھراپردیش کا ’’یوم سیاہ‘‘

جمہوریت کا قتل، وائی ایس آر کانگریس کے ارکان کی کابینہ میں شمولیت پر جگن کا ردعمل

حیدرآباد 2 اپریل (سیاست نیوز) صدر وائی ایس آر کانگریس پارٹی و قائد اپوزیشن آندھراپردیش قانون ساز اسمبلی مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرکے مختلف نوعیت کی ترغیبات دیئے جانے کے باعث تلگودیشم پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے چار ارکان کو بھی کابینہ میں شامل کئے جانے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو کے اس اقدام کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے اسے جمہوریت کے قتل سے تعبیر کیا اور کہاکہ آندھراپردیش کی تاریخ کے لئے آج کا یوم ’’بلیک ڈے‘‘ ہوگا۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنے والے ارکان اسمبلی کو تلگودیشم پارٹی میں شامل کرلینا ہی چندرابابو نائیڈو کی انتہائی گری ہوئی و نچلی سطح کی حرکت ہے اور تلگودیشم میں شمولیت اختیار کرنے والے ارکان اسمبلی کے منجملہ چار ارکان اسمبلی کو کابینہ میں شامل کرنا اور بھی انتہائی گری ہوئی و نچلی سطح کی حرکت ہے۔ جگن موہن ریڈی نے الزام عائد کیاکہ اسپیکر آندھراپردیش اسمبلی ڈاکٹر کے سیوا پرساد راؤ کی بھرپور مدد کے ذریعہ خود چیف منسٹر رہ کر حلف دلانے کے ساتھ ساتھ گورنر مسٹر نرسمہن خود بھی تمام حالات سے واقف رہتے ہوئے وائی ایس آر پارٹی کے منحرف چار ارکان اسمبلی کو کابینی وزیر کی حیثیت سے حلف دلانا خود ہی جمہوریت و دستور ہند کی صریحاً خلاف ورزی کی نئی مثال ہے۔ قائد اپوزیشن نے ریاستی عوام، دانشور طبقہ کے علاوہ ہر کوئی چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو کے غیر جمہوری کاموں پر نظر رکھنے کی اور سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی پرزور خواہش کی۔ وائی ایس جگن موہن ریڈی نے دریافت کیاکہ آیا دستور کا تحفظ کرنے والے یہ تمام قائدین متحدہ طور پر دستور کی خلاف ورزی کرنے کی روشنی میں انتخابات، عوامی جمہوریت، ریاستی وزراء کی کابینہ امن و ضبط (لاء اینڈ آرڈر) کے کیا معنی ہوں گے۔ انھوں نے کہاکہ ان تمام حالات کا ریاستی عوام بغور جائزہ لے رہے ہیں اور بہت جلد ان تمام قائدین کو بہتر سبق سکھائیں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT