Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں کی بہبود پر نمایاں توجہ

ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں کی بہبود پر نمایاں توجہ

حکومت کو تجاویز پیش کی جائیں گی ، صدر نشین اقلیتی بہبود کمیٹی شکیل عامر کا بیان
حیدرآباد ۔ 6 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی کے صدرنشین شکیل عامر نے کہا اقلیتی بہبود کی بھلائی کے سلسلہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سنجیدہ ہیں اور جاریہ سال اقلیتی بہبود کے بجٹ کو 1200 کروڑ روپئے سے زائد کیا گیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے عامر شکیل نے اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی کا صدرنشین نامزد کرنے پر چیف منسٹر سے اظہار تشکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لے گی اور حکومت کو تجاویز پیش کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ضلع میں اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر موثر عمل آوری کیلئے ضلع کلکٹر کی قیادت میں کمیٹی قائم کی جائے گی ۔ عامر شکیل نے کہا کہ اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور 2014 ء میں غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کیلئے 33,000 غریب خاندانوں کو شادی مبارک اسکیم کے تحت 100 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کی دیگر اقلیتوں عیسائی ، سکھ ، پارسی اور جین طبقات کیلئے اس اسکیم سے استفادہ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسپیکر نے کمیٹی کیلئے جو جگہ فراہم کی ہے ، اسے قبول کرلیا گیا ۔ اس سلسلہ میں تلگو دیشم پارٹی کے اعتراضات ناقابل قبول ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسمبلی کے احاطہ میں اسپیکر کا فیصلہ تمام جماعتوں کیلئے حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔ عامر شکیل نے کہاکہ ملک کی کسی بھی ریاست میں اقلیتی بہبود پر اس قدر توجہ نہیں دی گئی جتنی کہ تلنگانہ میں دی گئی ہے۔ اقلیتی بہبود کے سلسلہ میں تلنگانہ کی اسکیمات دیگر ریاستوںکیلئے مثالی ہے اور کئی ریاستوں میں یہاں کی اسکیمات کی تفصیلات حاصل کی ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ اسپیکر کے فیصلوں پر اعتراض سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں اپوزیشن جماعتیں عوام کے اعتماد سے محروم ہوچکی ہیں۔ ارکان اسمبلی کے بال راجو ، سرینواس ریڈی بی وینکٹیشورلو فاروق حسین کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے عامر شکیل نے کہا کہ آنے والے دنوں میں اقلیتوںکی بھلائی کیلئے مزید اقدامات کئے جائیں گے ۔ ٹی آر ایس ارکان اسمبلی نے تلگو دیشم پارٹی کے اسپیکر پر کئے جانے والے اعتراضات کو مسترد کردیا اور کہا کہ اگر تلگودیشم کے 5 ارکان ہوں تو اسے اسمبلی میں مسلمہ حیثیت دی جاسکتی ہے جبکہ فی الوقت اس کے ارکان کی تعداد صرف 3 ہے ۔ ارکان اسمبلی نے ریونت ریڈی کو مشورہ دیا کہ وہ اسپیکر پر غیر ضروری تنقید سے گریز کریں۔ انہوں نے ریاست میں آبپاشی پراجکٹ کی تعمیر میں اپوزیشن کی رکاوٹوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کانگریس اور تلگو دیشم قائدین گمراہ کن الزامات کے ذریعہ کسانوں کو مشتعل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور تلگو دیشم دور حکومت میں پراجکٹس کی تعمیر میں کئی بے قاعدگیاں پائی گئیں اور کئی قائدین کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔ ٹی آر ایس ارکان اسمبلی نے کانگریس کے کئی سابق وزراء اور آئی اے ایس عہدیداروں کے خلاف سی بی آئی مقدمات کا حوالہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT