Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ریاست میں اراضیات کی خرید و فروخت کو شفاف بنایا جائے

ریاست میں اراضیات کی خرید و فروخت کو شفاف بنایا جائے

ریکارڈ کو باقاعدہ بنانے مہم شروع کرنے کی ہدایت ۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔7اگست ( سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے ریاست میں اراضیات کی خرید و فروخت کو شفاف بنانے محکمہ مال کے عہدیداروں کو ہدایت دی ۔ اراضیات کے ریکارڈ کو باقاعدہ بناتے ہوئے کونسی اراضی کس کے نام ہے اس کا انکشاف کرنے کا بھی مشورہ دیا ۔ چیف منسٹر نے آج پرگتی بھون میں 7 گھنٹوں تک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کرکے کئی اہم فیصلے کئے ۔ اراضیات کی خرید و فروخت کو شفاف اور ریکارڈ کو باقاعدہ بنانے ریاست میں خصوصی مہم شروع کرتے ہوئے یکسوئی کرنے کی ہدایت دی ۔ کے سی آر نے اجلاس میں پاس بکس ‘ پہانی دستاویزات کو باقاعدہ بنانے غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے والے تمام مسائل کو فوری حل کرنے پر زور دیا ۔ بینکوں میں جس طرح شفاف لین دین ہوتا ہے اس طرح اراضیات کے ریکارڈ میں شفافیت پیدا کرنے کا مشورہ دیا ۔ اراضیات کے ریکارڈ کو باقاعدہ بنا کر مستقبل میں لین دین کیلئے آسان طریقہ احتیار کرنے کی منصوبہ بندی کرنے گاؤں کو یونٹ بناتے ہوئے سروے سیٹلمنٹ پروگرام سے متعلق حکمت عملی تیار کرنے اور جلد سروے مکمل کرنے کی ہدایت دی ۔ چیف منسٹر نے 1936 میں نظام دور حکومت میں تیار کردہ اراضی قوانین پر عمل کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اراضی ریکارڈ کو صحیح اور باقاعدہ بنانے کی کوشش نہیں کی گئی جس سے کئی تنازعات پیدا ہورہے ہیں ۔ اراضی تنازعات سے بھی لاء اینڈ آڈر کے مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ ان تنازعات کا مستقل حل سروے سے ممکن ہے ‘ کونسی اراضی کتنی وسیع ہے اور کس کے نام ہے سروے کے ذریعہ انکشاف کرنے ‘سروے آف انڈیا کے علاوہ دوسری ایجنسیوں کی خدمات سے استفادہ کی ہدایت دی ۔ آئندہ سال سے کسانوں کو ایک ایکڑ اراضی پر 4 ہزار روپئے 2ایکڑ اراضی کیلئے 8ہزار روپئے زرعی سرمایہ کاری کرنے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے ۔ اس فیصلہ پر عمل کیلئے محکمہ زراعت کے عہدیداروں نے دیہی علاقوں میں سروے بھی کیا لیکن عہدیداروں کا سروے محکمہ مال کے ریکارڈ سے میل نہیں کھا رہا ہے ۔ محکمہ زراعت نے ایک گاؤں میں 300کسان ہونے کا انکشاف کیا ہے جبکہ محکمہ مال کے ریکارڈ میں 1100 کسان کا اندراج ہے ۔ ایسی صورتحال میں حکومت کی سرمایہ کاری کس کو دیں ‘ اس پر سوالیہ نشان بنا ہوا ہے ۔ حساب کتاب اور دستاویزات کے بغیر اراضی کے اصل کسانوں کو معاوضہ نہیں ملا تو وہ اسکام میں تبدیل ہوسکتا ہے ۔اجلاس میں حکومت کے مشیر اعلیٰ راجیو شرما ‘ چیف سکریٹری کے علاوہ نرسنگ راؤ ‘ بی ارمینا ‘ جیش رنجن‘ شانتا کماری ‘ پریہ درشنی ‘ ندیم آحمد ‘ سمیتا سبھروال ‘ بھوپال ریڈی ‘ وینکٹیشورلو ‘ ضلع کلکٹر رنگاریڈی ‘ رگھونندن راؤ ‘ جوائنٹ کلکٹر سندر آنبراور دوسرے موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT