Tuesday , August 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ریاست میں خشک سالی کے سبب زرعی کام مکمل طور پر ٹھپ

ریاست میں خشک سالی کے سبب زرعی کام مکمل طور پر ٹھپ

ضامن روزگار اسکیم کے تحت مزدوروں کو کام فراہم کرنے عہدیداروں کو ریاستی وزیر پی سرینواس ریڈی کی ہدایت
نظام آباد۔یکم ؍ نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) طمانیت روزگار اسکیم کے تحت مزدوروں کو کام فراہم کرنے میں ضلع نظام آباد ریاست بھر میں سرفہرست ہے اسی طرح ناکافی بارش کو نظر میں رکھتے ہوئے مزید زیادہ سے زیادہ مزدوروں کو کام فراہم کرنے کیلئے منڈل سطح کے عہدیدار خصوصی دلچسپی دکھائیں تو بہتر ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار وزیر زراعت مسٹر پوچارام سرینواس ریڈی ضلع پریشد ہال میں ایس سی، ایس ٹی، بی سی، اقلیت، راجیو یوا شکتی اسکیمات پر معاشی امداد کی اسکیمات کا جائزہ لیا۔ اس اجلاس میں ضلع کلکٹر ڈاکٹر یوگیتا رانا کے علاوہ گورنمنٹ وہپ گمپا گوردھن، ایم ایل سیز وی جی گوڑ، راجیشور رائو، ارکان اسمبلی پرشانت ریڈی، شکیل عامر، ہنمنت ریڈی کے علاوہ دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔ مسٹر پوچارام سرینواس ریڈی نے کہا کہ ضلع میں 4لاکھ 50 ہزار جاب کارڈ یافتہ افراد ہیں اور 1لاکھ 5ہزار مزدوروں کو کام فراہم کیا جارہا ہے۔ ضلع نظام آباد تلنگانہ میں مزدوروں کو طمانیت روزگار اسکیم میں کام فراہم کرنے میں سرفہرست ہے۔ حیدرآباد کے علاوہ 9اضلاع میں 105154 افراد کو کام فراہم کرنے میں سرفہرست ہے۔ دوسرے مقام پر کھمم ہے کھمم میں 30 ہزار 519 افراد کو کام فراہم کیا جارہا تو رنگاریڈی ضلع میں 25 ہزار 288 افراد کو کام فراہم کیا جارہا ہے۔ ضلع میں مزدوروں کو کام کی فراہمی میں بہتر اقدامات کرنے والے عہدیداروں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں خشک سالی کی وجہ سے زرعی کام کاج مکمل طور پر ٹھپ ہوگئے اور غریب مزدور طمانیت روزگار کے کاموں کے منتظر ہیں۔ طمانیت روزگار اسکیم کے تحت فنڈس کی کوئی قلت نہیں ہے اور کام کے مواقع بھی حاصل ہیں ضلع میں 65 ہزار 490 کاموں کی نشاندہی کرتے ہوئے منظوری دی گئی ہے۔ لہذا بڑے پیمانے پر کاموں کو فراہمی کیلئے ایم پی ڈی اوز، اے پی ڈی اوز اقدامات کریںاوران کاموں کیلئے مزدوروں کو 584.50 کروڑ روپئے اور اشیاء کیلئے 57.89 کروڑ روپئے سے تخمینہ کیا گیا ہے لہذا ان کاموں کو فراہم کرنے کی صورت میں مزدوروں کو معاشی طور پر راحت حاصل ہوگی۔ لہذا ایم پی ڈی اوز، اے پی اوز اپنے اپنے منڈلوں میں کاموں کی نشاندہی کریں۔ لیکن عہدیداروں کی جانب سے تفصیلات کی فراہمی میں تاخیر پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کم از کم 3لاکھ افراد کو کام فراہم کرنے کیلئے اقدامات کریں تو بہتر ہوگا۔ معاشی امدادی اسکیمات کی عمل آوری میں بھی ضلع نظام آباد سرفہرست ہے۔  اس موقع پر ضلع کلکٹر ڈاکٹر یوگیتا رانا نے بتایا کہ غریبی کے خاتمہ کیلئے ریاستی حکومت کئی اسکیمات کو متعارف کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ جات کے ذریعہ عمل آوری کی جارہی ہے۔ معاشی امدادی کی فراہمی کیلئے مختلف پروگرامس انجام دئیے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو نے غریب عوام کو صحیح طور پر امداد فراہم کرنے کیلئے سنجیدہ ہے۔ ایس سی، ایس ٹی، بی سی، اقلیت طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو قرضہ جات کی منظوری اور اس پر عمل کرنے کی صورت میں سبسیڈی کی منظوری میں ریاستی حکومت سنجیدہ ہے۔ جمہوریت میں ملازمین کی سنجیدہ کارکردگی ناگزیر قرار دیتے ہوئے دیانتداری کے ساتھ کام کرنے کی صورت میں حکومت کی اسکیمات کی عمل آوری کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اور مستحق افراد کے ساتھ انصاف ہوگا۔ اس اجلاس میں جوائنٹ کلکٹر رویندرریڈی، اڈیشنل جوائنٹ کلکٹر راجہ رام، زیڈ پی سی ای او موہن لال و دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT