Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ریاست میں کئی خانگی تعلیمی اداروں کے مستقبل کے تعلق سے اندیشے

ریاست میں کئی خانگی تعلیمی اداروں کے مستقبل کے تعلق سے اندیشے

حکومت کے اقدامات سے کئی کالجس بند ۔ شرائط کی تکمیل کرنے والے اداروں کیلئے بھی مشکلات

حیدرآباد۔24اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ میں خانگی تعلیمی اداروں کے مستقبل کے متعلق کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں ۔حکومت کی جانب سے ابتداء میں پیشہ وارانہ کالجس پر شکنجہ کسنے کے بعد سال گذشتہ آن لائن ڈگری داخلوں کا فیصلہ کیا گیا اور جاریہ سال انٹرمیڈیٹ داخلوں کے آن لائن کئے جانے کے فیصلہ کے بعد یہ سمجھا جا رہا ہے کہ آئندہ سال حکومت کی جانب سے ریاست میں موجود خانگی ہائی اسکولوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ حکومت تلنگانہ نے معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے نام پر پیشہ وارانہ کالجس کے خلاف جو مہم شروع کی تھی اس کے نتیجہ میں تاحال کئی کالجس بند کئے جاچکے ہیں اور انتظامیہ ان کالجس کو اب بوجھ تصور کرنے لگے ہیں لیکن پیشہ وارانہ کالجس کے خلاف جاری مہم میں ان کالجس کو بھی شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جو کالجس اجازت نامہ الحاق اور مسلمہ حیثیت کے حصول کیلئے تمام شرائط کی تکمیل کرتے ہیں۔ ان پیشہ وارانہ کالجس کے بعد حکومت نے ریاست کے تمام ڈگری کالجس میں داخلوں کیلئے آن لائن درخواست کے حصول کا فیصلہ کیا اور اس فیصلہ کے بعد بیشتر خانگی کالجس کو داخلوں کے حصول میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کالجس کا کہنا ہے کہ آن لائن داخلوں کیلئے طلبہ و طالبات میں شعور اجاگر کرنا لازمی ہے اور حکومت کی جانب سے فیصلہ کئے جانے کے بعد کالج انتظامیہ کو اتنا وقت بھی نہیں مل پایا کہ وہ اس سلسلہ میں تشہیر کرتے اسی لئے شہر کے بیشتر کالجس کے علاوہ مضافاتی علاقو ں میں واقع کئی کالجس کو داخلہ حاصل نہیں ہو پائے ۔ حکومت کے منصوبہ کے مطابق جاریہ سال انٹر میڈیٹ میں داخلہ کیلئے آن لائن درخواست کا لزوم عائد کیا جائیگا کیونکہ انٹرمیڈیٹ کے نظام داخلہ پر بھی نگاہیں مرکوز کی جا سکیںاور اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ انٹر کالجس میں کتنی فیس وصول کی جا رہی ہے اور کن بنیادوں پر داخلہ دیئے جا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں محکمہ تعلیم کی جانب سے فیصلہ کیا جا چکا ہے اور احکام کی اجرائی ایس ایس سی نتائج کے فوری بعد عمل میںلائی جائی گی۔محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے مطابق بیشتر کالجس میں خصوصی کلاسس کے نام پر ہزاروں روپئے فیس وصول کی جا رہی ہے اور اس مسئلہ سے نمٹنے کے اقدامات کے تحت آن لائن داخلوں کے ریکارڈ جمع کرنے کیلئے آن لائن درخواست کا ادخال لازمی قرار دیئے جانے کا منصوبہ ہے تاکہ منظورہ تعداد سے زیادہ داخلوں کے علاوہ کالج انتظامیہ کی من مانی پر روک لگائی جا سکے۔بتایاجاتا ہے کہ ایس ایس سی امتحانات کے بعد محکمہ تعلیم کی جانب سے آن لائن درخواست کے ادخال کے لئے مہلت دی جائے گی اور پسندیدہ کالجس کی تفصیل معہ کورس درج کرنا ہوگا۔عہدیداروں نے بتایا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے ڈگری میں ٓان لائن داخلوں کے لئے کامیاب تجربہ کے بعد انٹر میڈیٹ میں آن لائن داخلوں کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور توقع ہے کہ یہ تجربہ بھی کامیاب ہو گا۔اسکولو ںمیں داخلہ کے لئے آدھار کارڈ کے لزوم کے بعد اب مستقبل قریب میں انہیں بھی آن لائن کرنے کے متعلق منصوبہ سازی کا عمل جاری ہے۔بتایاجاتا ہے کہ ریاست میں موجود تمام اسکولوں کا ریکارڈ اور ان کے آن لائن تفصیلات موجود ہیں لیکن صرف داخلوں کے نظام کو آن لائن کردیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اسکولوں میں لئے جانے والے ڈونیشن کی شکایات کو دور کیا جا سکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT