Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / ریاست میں 19 نئی قومی شاہراہوں کی تعمیر کو مرکز کی منظوری

ریاست میں 19 نئی قومی شاہراہوں کی تعمیر کو مرکز کی منظوری

سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کی سمت اہم پیشرفت ، چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا بیان
حیدرآباد۔/23ڈسمبر،( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ریاست میں 19نئی قومی شاہراہوں کی تعمیر کو مرکز کی منظوری ملی ہے۔ اسمبلی میں قومی شاہراہوں کے مسئلہ پر مختصر مدتی مباحث پر بیان دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ قومی شاہراہوں کی تعمیر کے سلسلہ میں متحدہ آندھرا پردیش میں تلنگانہ سے ناانصافی ہوئی ہے۔ نہ صرف قومی شاہراہیں بلکہ ریاستی شاہراہوں کی تعمیر کے شعبہ میں بھی سابقہ حکمرانوں نے تلنگانہ کو نظرانداز کیا تاہم تلنگانہ کے قیام کے بعد ریاست میں قومی شاہراہوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ۔ مرکزی حکومت سے نئی قومی شاہراہوں کی منظوری اور اس کیلئے فنڈز حاصل کرنے میں تلنگانہ حکومت کو کامیابی ملی ہے۔ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کے سلسلہ میں یہ ایک اہم پیشرفت ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام تک قومی شاہراہیں صرف 2527 کلو میٹر پر محیط تھیں، اسوقت ملک کی قومی شاہراہوںکا اوسط تلنگانہ میں 2.80 تھا جبکہ آندھرا میں 3.15کلو میٹر اوسط ریکارڈ کیا گیا۔ اس صورتحال کو بدلنے کیلئے تلنگانہ حکومت نے کئی مرتبہ مرکزی حکومت سے نمائندگی کی اور قومی شاہراہوں کی توسیع کیلئے اپنی سفارشات پیش کی۔ اس مساعی پر مرکز نے 2776 کلو میٹر کی نئی قومی شاہراہوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ گذشتہ 7 دہوں میں تلنگانہ میں 2527کلو میٹر کی قومی شاہراہیں تعمیر کی گئیں جبکہ ٹی آر ایس حکومت نے صرف 2 برس میں 2776 کلو میٹر قومی شاہراہوں کی تعمیر کی منظوری حاصل کی ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ بہت جلد ریاست میں قومی شاہراہوں کی مسافت 5303 کلو میٹرس تک پہنچ جائیگی۔ ملک میں قومی شاہراہوں کا اوسط 3.81 کلو میٹر ہے اور تلنگانہ نے4.62 کلو میٹر کے اوسط سے قومی اوسط پر سبقت حاصل کی ہے۔

چیف منسٹر نے بتایا کہ مرکز نے قومی شاہراہوں کی ترقی کیلئے 2690 کروڑ روپئے مالیتی پراجکٹس کو منظوری دی ہے جبکہ دوسری طرف سڑکوں کی ترقی کیلئے سنٹرل روڈ فنڈ سے 1020کروڑ روپئے منظور کئے گئے۔ این ایچ آئی اے کے تحت مزید 5 ہائی ویز پر 4 لائین سڑکیں تعمیر کرنے 8000 کروڑ روپئے منظور کرنے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے اتفاق کیاہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ نئی قومی شاہراہوں میں حیدرآباد ، میدک، رودرور، باسرا، بھینسہ 248کلو میٹر، نظام پیٹ، نارائن کھیڑ ، بیدر 60 کلو میٹر، مدنور، بودھن، نظام آباد 76 کلو میٹر۔ حیدرآباد، معین آباد، چیوڑلہ، منیگوڑہ ، کوڑنگل تا کرناٹک سرحد 135کلومیٹر، کوداڑ، مریال گوڑہ، دیور کنڈہ 211کلومیٹر، سنگاریڈی، نرسا پور، توپران، گجویل، بھونگیر، چوٹ اوپل 152کلو میٹر، چوٹ اوپل، ابراہیم پٹنم تا شنکر پلی کندی 186کلو میٹر، میدک، سدی پیٹ تا ایلتورتی 133کلو میٹر، حیدرآباد آؤٹر رنگ روڈ، نلگنڈہ ، محبوب آباد تا کوتہ گوڑم 234کلو میٹر، ورنگل تا کھمم 120 کلو میٹرس شامل ہیں۔ چیف منسٹر نے اسمبلی کو بتایا کہ بہت جلد تلنگانہ میں قومی شاہراہوں کی وسعت 2303 کلو میٹر تک پہنچ جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ دارالحکومت حیدرآباد تیزی سے وسعت اختیار کررہا ہے اور آؤٹر رنگ روڈ موجودہ ضرورتوں کی تکمیل کیلئے کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز سے خواہش کی گئی کہ مزید 2 آؤٹر رنگ روڈز تعمیر کئے جائیں ۔ اس سلسلہ میں مرکز نے338 کلو میٹر کی سڑکوں کی تعمیر سے اتفاق کیا ہے۔ چیف منسٹر نے مرکزی حکومت سے فنڈز کی حصولی میں کامیابی پر وزیر عمارات و شوارع اور عہدیداروں کے رول کی ستائش کی ۔ کانگریس کے ڈاکٹر چناریڈی، بی جے پی کے رکن کشن ریڈی، تلگودیشم کے وینکٹ ویریا اور مجلس کے جعفر حسین معراج نے مباحث میں حصہ لیا اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا کام جنگی خطوط پر انجام دینے کی مانگ کی۔ ارکان نے کہا کہ آؤٹر رنگ روڈ دراصل حادثات اور اموات کا مرکز بن چکی ہے لہذا حکومت کو مزید متبادل سڑکوں کی تعمیر پر توجہ دینی چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT