Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ریاست میں 2.33 لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر

ریاست میں 2.33 لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر

صرف حیدرآباد میں ایک لاکھ مکان تعمیر کئے جائیں گے ۔ ریاستی وزیر کے ٹی آر کا بیان
حیدرآباد 22 اپریل ( این ایس ایس ) یہ واضح کرتے ہوئے کہ وہ سلم بستیوں میں رہنے والے غریب عوام کے انتہائی مشکل حالات زندگی سے بخوبی واقف ہیں وزیر بلدی نظم و نسق و شہری ترقیات کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر در اصل غریبوں کو صرف ایک اثاثہ فراہم کرنے کے مقصد سے نہیں ہے بلکہ ان میں عزت نفس کی بحالی کیلئے بھی کوشش ہے ۔ یہاں بنسی لال پیٹ کے جی وائی ریڈی کمپاونڈ میں 180 ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کیلئے سنگ بنیاد رکھنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ نئی ہاوزنگ یونٹس کے نتیجہ میں سماج کے دبے کچلے طبقات کی عزت نفس کو بحال کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو ڈبل بیڈ روم مکانات فی مکان 9 لاکھ روپئے لاگت سے تعمیر کئے جا رہے ہیں ان کی مارکٹ میں قیمت فی مکان 45 لاکھ روپئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ریاست میں 2.33 لاکھ مکانات تعمیر کرنے کی منظوری دیدی ہے اور ایک لاکھ مکانات صرف حیدرآباد میں تعمیر کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ پر کے سی آر حکومت 18,000 کروڑ روپئے خرچ کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام کی مشکلات اور پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایک مثالی ڈبل بیڈ روم مکان کی اسکیم شروع کی ہے ۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ سابقہ حکومتوں کی جانب سے غریبوں کے مکانات کو منہدم کیا جاتا تھا اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا تھا جبکہ ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے غریبوں کیلئے 2.33 مکانات تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ غریبوں کی فلاح و بہبود کیلئے کے سی آر حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ کے سی آر کٹس کی 2 جون سے تقسیم عمل میں آئیگی جس میں بے بی پاوڈر ‘ تیل ڈائپرس وغیرہ کے بشمول 16 آئیٹمس ہیں۔ اس کے علاوہ حاملہ خواتین کو 12 ہزار روپئے امداد فراہم کرنے کی اسکیم بھی شروع کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیم کے ذریعہ 75,116 روپئے بھی فراہم کئے جا رہے ہیں۔ غریب بچوں کو انگریزی میڈیم سے تعلیم دلانے کیلئے 500 اقامتی اسکولس قائم کئے جائیں گے ۔ غیر منظم شعبہ میں کام کرنے والے ڈرائیورس کیلئے پانچ لاکھ روپئے انشورنس اسکیم بھی شروع کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اپنے قیام کے اندرون تین سال ان اسکیمات پر عمل آوری کر رہی ہے ۔ سابقہ حکومتوں نے جو کئی دہوں تک حکمران رہیں غریبوں کی فلاح و بہبود پر کوئی توجہ نہیں دی تھی بلکہ غریبوں کی فلاح و بہبود سے سابقہ حکومتوں نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT