Friday , June 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ریاست کی اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضوں کی جانچ کروانے کا مطالبہ

ریاست کی اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضوں کی جانچ کروانے کا مطالبہ

میاں پور اراضی تحفظ کے طرز پر اقدامات کے لیے زور ، محمد علی شبیر کا چیف منسٹر کو مکتوب
حیدرآباد۔ 9 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے چندر شیکھررائو کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ریاست میں اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضوں کی جانچ کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح حکومت میاں پور میں 796 ایکڑ سرکاری اراضی کے تحفظ کے لیے سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا اعلان کرچکی ہے اسی طرح اوقافی جائیدادوں کے تحفظ پر بھی حکومت کو توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اسمبلی اور کونسل میں بارہا اس بات کا اعلان کیا ہے کہ اوقافی جائیدادوں اور ان کے تحت موجود اراضیات کا تحفظ کیا جائے گا اور ایک ایک انچ اراضی وقف بورڈ کو واپس کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کی تعداد 32157 ہے۔ جن کے تحت 77538 ایکڑ اراضی موجود ہے جس میں سے 57423 ایکڑ اراضی غیر مجاز قابضین کے ہاتھوں میں ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہزاروں کروڑ روپئے مالیتی اس اراضی کے تحفظ کے لیے فوری قدم اٹھائے اور ناجائز قابضین کا پتہ چلانے کے لیے تحقیقات کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کو حکومت نے جوڈیشیل پاورس دیئے جانے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج اس کی تکمیل نہیں کی گئی۔ وقف بورڈ اختیارات کے بغیر اپنی جائیدادیں اور اراضیات کے تحفظ سے قاصر ہے۔ جس طرح لینڈ مافیا نے سرکاری اراضیات کو خانگی کمپنیوں کے نام منتقل کردیا اسی طرح منظم انداز میں اوقافی جائیدادوں کو ہڑپ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لینڈ مافیا کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے حکومت کو پولیس عہدیداروں کی ٹیم وقف بورڈ سے منسلک کرنی چاہئے تاکہ وہ حیدرآباد اور اضلاع میں اوقافی اراضیات پر قبضوں کا جائزہ لیتے ہوئے قانونی کارروائی کرسکیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ہر ضلع میں مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں پر مشتمل کوآرڈینیشن کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جس میں ضلع کلکٹر اور متعلقہ ایس پی کو شامل کیا گیا۔ لیکن اوقافی اراضیات کے معاملہ میں عہدیداروں کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کمیٹیوں کا اجلاس طلب نہیں کیا جاتا جس کے باعث لینڈ مافیا کے حوصلے بلند ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اسمبلی میں دیئے گئے تیقن کے مطابق چیف منسٹر کو منی کونڈا میں واقع کھلی اراضی وقف بورڈ کے حوالے کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اگر ریاستی حکومت یہ حلف نامہ داخل کردے کہ وہ منی کونڈا جاگیر کی اراضی پر اپنی دعویداری سے دستبرداری اختیار کررہی ہے تو مکمل اراضی از خود وقف قرار پائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ وقف بورڈ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں ناکام ہوچکا ہے اور بعض مخصوص ارکان اور ان کی دلچسپی سے متعلق امور کے حق میں فیصلے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی وقف بورڈ کی کارکردگی کے سلسلہ میں جلد ہی احتجاجی لائحہ عمل طے کرے گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT