Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ریاست کے اقلیتوں کے ساتھ انصاف کرنے کا مطالبہ

ریاست کے اقلیتوں کے ساتھ انصاف کرنے کا مطالبہ

بی سی سب پلان کے خطوط پر سب پلان بنانے محمد خواجہ فخر الدین کی خواہش
حیدرآباد ۔ 27 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد خواجہ فخر الدین نے بی سی سب پلان کے ساتھ اقلیتوں کے لیے بھی سب پلان تیار کرتے ہوئے ریاست کے اقلیتوں کے ساتھ انصاف کرنے کا ٹی آر ایس حکومت سے مطالبہ کیا ۔ محمد خواجہ فخر الدین نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے بی سی سب پلان تیار کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اقلیتوں یا مسلمانوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ مگر حکومت اقلیتوں کو نظر انداز کرنے کی جو پالیسی اپنا رہی ہے ، اس سے اقلیتوں میں مایوسی پیدا ہورہی ہے اور اقلیتوں میں یہ احساس پایا جارہا ہے کہ حکومت انہیں فراموش کررہی ہے ۔ ایس ایس سی ، ایس ٹی طبقات کے لیے کانگریس کے دور حکومت میں سب پلان تیار کیا گیا تھا جس کے تحت ان طبقات کے لیے مختص کئے جانے والا بجٹ اگر کسی وجہ سے استعمال نہیں ہوتا ہے تو وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ دوسرے سال کے بجٹ میں شامل ہوجاتا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر جاریہ اسمبلی کے سرمائی سیشن میں بی سی سب پلان کا اعلان کرنے کے لیے ماہرین اور دانشوروں سے مشاورت کررہے ہیں ۔ کانگریس پارٹی حکومت پر زور دیتی ہے کہ وہ اقلیتی سب پلان کا بھی اعلان کریں ۔ 2014 کے عام انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی کے بعد ابھی تک تین بجٹ پیش ہوئے ہیں پہلے سال اقلیتی بجٹ 1000 کروڑ دوسرے سال 1100 کروڑ جاریہ سال 2016-17 کے لیے 1205 کروڑ روپئے مختص کیا گیا ۔ پہلے دو سال صرف 25 تا 35 فیصد منطورہ اقلیتی بجٹ استعمال کیا گیا ۔ جاریہ سال کے 9 ماہ کے دوران صرف 370 کروڑ روپئے کا اقلیتی بجٹ استعمال کیا گیا ہے ۔ محمد خواجہ فخر الدین نے ٹی آر ایس حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ اقلیتی سب پلان کا اعلان کرتے ہوئے یہ ثابت کریں کہ اس پر بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی کا کوئی دباؤ نہیں ہے ۔ ورنہ یہ تصور کیا جائے گا کہ بی جے پی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نظر انداز کررہے ہیں گذشتہ ڈھائی سال کے دوران ریاست میں اقلیتوں کو ترقی اور فلاح و بہبود کے معاملے میں وہ حصہ داری نہیں ملی جس کے اقلیتیں مستحق ہیں ۔ سکندرآباد کے علاوہ چیف منسٹر کے اسمبلی حلقہ میں تعمیر کردہ ڈبل بیڈروم مکانات میں اقلیتوں کو آبادی کے تناسب سے حصہ داری نہیں ملی ۔ فنڈز کی اجرائی میں انصاف نہیں ملا اگر حکومت کا اقلیتوں سے یہی رویہ رہا ہے تو اقلیتیں ٹی آر ایس کو کبھی معاف نہیں کریں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT