Wednesday , August 23 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ریاست کے 104 گرام پنچایتوں میں ای پنچایت نظام کی شروعات

ریاست کے 104 گرام پنچایتوں میں ای پنچایت نظام کی شروعات

کاماریڈی:2؍ اکتوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) دیہی عوام کو آن لائن کے ذریعہ تمام سہولتیں فراہم کرنے کی غرض سے ریاست کے 104گرام پنچایتوں میں ای پنچایت نظام کو شروع کیا جارہا ہے۔ان خیالات کا اظہار وزیر پنچایت راج کے تاراکا راما رائو( کے ٹی آر) آج کاماریڈی حلقہ کے بی بی پیٹ گرام پنچایت میں ای پنچایت کے افتتاح کے بعد جلسہ سے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔اس جلسہ کی صدارت رکن اسمبلی کاماریڈی و گورنمنٹ وہپ گمپا گوردھن نے کی۔ اس جلسہ میں وزیر زراعت پوچارام سرینواس ریڈی، کمشنر پنچایت راج انیتا رام چندرن، سکریٹری پنچایت راج ریمنڈ پیٹرکے علاوہ دیگر اعلیٰ عہدیدار، ضلع کلکٹر، سیاسی قائدین بھی موجود تھے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ ریاست میں 8770گرام پنچایتیں ہے اور 3 کروڑ 60لاکھ کی آبادی ہے۔ 60 فیصد عوام آن لائن کی سہولتوں سے استفادہ حاصل کررہے ہیں۔ دیہی عوام کو تمام سہولتیں فراہم کرنے کیلئے ای گرام پنچایت پہلے مرحلہ میں 104 گرام پنچایتوں میں شروع کیا گیا۔ دوسرے مرحلہ میں 700گرام پنچایتوں میں اور آنے والے 3سالوں میں تمام گرام پنچایتوں میں آن لائن کی سہولتیں فراہم کی جائے گی۔ دیہی عوام کو ہر طرح کے سرٹیفکٹ کی فراہمی، ٹیلیفون، برقی بل اور دیگر بلوں کی ادائیگی گرام پنچایتوں میں کرنے کیلئے سہولتیں فراہم کی جارہی ہے۔ می سیوا کے ذریعہ 320 طرح کی سہولتیں فراہم کی جارہی ہے۔ جبکہ ہر طرح کی سہولتیں ہر شخص استفادہ حاصل کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرنا ریاستی حکومت کا مقصد ہے اور آئندہ آنے والے دنوں میں 10 ہزار تعلیمی یافتہ خواتین کو ای گرام پنچایتوں میں ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے ریاستی حکومت کوشاں ہے۔ تلنگانہ حکومت منصوبہ بند طریقہ سے آگے بڑھتے ہوئے عوام کو سہولتیں فراہم اور ترقیاتی کام انجام دے رہی ہے۔ مسٹر کے تاراکا راما رائو نے ریاستی حکومت پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کئے جانے والی تنقیدوں پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اور کاماریڈی حلقہ سے تعلق رکھنے والے محمد علی شبیر حکومت کو بدنام کرنے کیلئے نشانہ بنارہی ہے۔ حکومت اقتدار میں آکر صرف 15ماہ کے دوران کئی ترقیاتی کام انجام دئیے گئے لیکن اس کے باوجود بھی تنقید کی جارہی ہیں۔ 5سالوں میں حکومت کی جانب سے کئے گئے اعلانات پر عمل کیا جائیگا اور 5سال کے بعد حکومت اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا تو تنقید کی گئی تو بہتر ہوگا۔ انہوں نے سرپنچ بی بی پیٹ لنگم کی جانب سے کی گئی نمائندگی پر سرسلہ حلقہ اور کاماریڈی حلقہ کے درمیان واقع سری گادا بریج بی بی پیٹ تک کی تعمیر کیلئے 16 کروڑ روپئے کی منظوری کا اعلان کیا۔ اس بریج کی تعمیر سے سرسلہ کی عوام اور انہیں بھی حیدرآباد سے بی بی پیٹ سے ہوتے ہوئے سرسلہ جانے کی سہولت فراہم ہوگی۔ اس کے علاوہ بی بی پیٹ گرام پنچایت و دومکنڈہ گرام پنچایت کی عمارت کی تعمیر کیلئے 20 لاکھ روپئے اور کاماریڈی منڈل پرجا پریشد بریج کے ادھورے تعمیری کاموں کیلئے 50لاکھ روپئے اور کاماریڈی حلقہ کیلئے ایک کروڑ روپئے اور 25لاکھ روپئے سے بی بی پیٹ میں سی سی روڈس کی تعمیر کیلئے منظوری کا اعلان کیا۔ آئندہ چند ماہ میں کاماریڈی حلقہ کی عوام کو آبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے کالیشورم سے پانی فراہم کرتے ہوئے حلقہ کی دیڑھ لاکھ ایکر اراضیات کو پانی فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر وزیر زراعت مسٹر پوچارام سرینواس ریڈی نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکومت کی جانب سے قرضہ جات کی معافی اسکیم کی عمل آوری کے باوجود بھی اپوزیشن جماعتیں تنقیدوں کا نشانہ بنارہی ہے۔ پہلے مرحلہ میں 8336 کروڑ روپئے اوردوسرے مرحلہ میں 800 کروڑ روپئے کے قرضہ جات معاف کئے گئے۔ باقی قرضہ جات کی معافی کیلئے بھی چیف منسٹر اسمبلی میں اعلان کے باوجود بھی اپوزیشن کی تنقید کا اثر غلط قرار دیا۔ رکن اسمبلی کاماریڈی گمپا گوردھن نے کہا کہ کاماریڈی حلقہ کی عوام کوسہولتیں فراہم کرنے کی غرض سے ٹی آرایس حکومت سنجیدہ اقدامات کررہی ہے ۔سڑکوں کی تعمیر کیلئے 50 کروڑ روپئے تک خرچ کئے جارہے ہیں۔ کسانوں کو کی خودکشی پر شبیر علی کی جانب سے کی جانے والی تنیقدوں پر انہوں نے کہا کہ 2004 ء سے 2014 ء تک 10سال تک اقتدار پر رہتے ہوئے کسانوں کے بارے میں کوئی بھی کام انجام نہیں دیا گیا۔ سرپنچ لنگم کے علاوہ جلسہ میں رکن پارلیمنٹ ظہیرآباد بی بی پاٹل نے بھی مخاطب کیا ۔ اس جلسہ میں رکن اسمبلی آرمور جیون ریڈی، صدرنشین ضلع پریشد دفعدار راجو، ڈی سی ایم ایس چیرمین ایم کے مجیب الدین، صدر ضلع ٹی آرایس گنگاریڈی، ضلع پریشد کے معاون رکن مشتاق حسین انصاری، ٹی اارایس قائدین ڈاکٹر بھوپت ریڈی،وینو گوپال رائو، محمد ضمیر، معاون رکن بلدیہ کاماریڈی محمدساجد و دیگر بھی موجود تھے۔ وزیر پنچایت راج کے ٹی آر نے کارگل میں شہید ہونے والے اور تلنگانہ تحریک میں جان کی قربانی دینے والے افرادخاندان کے علاوہ دیگر افراد کو بھی بینک کے قرضہ جات کے تحت ٹراکٹرس کی تقسیم عمل میں لائی۔

TOPPOPULARRECENT