Tuesday , August 22 2017
Home / مضامین / ریاض میں یوم ِسرسید

ریاض میں یوم ِسرسید

کے این واصف
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز اسوسی ایشن ریاض (اموبا) نے اپنی سالانہ تقریب ’’یوم سرسید‘‘ حسب روایت شاندار پیمانہ پر منائی ۔ اس تقریب کیلئے ہمیشہ کی طرح ہندوستان سے دو اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا جن میں معروف فلمی اداکار سے سیاست داں بنے راج ببر اور دوسرے عوامی قائد پرویزہاشمی شامل تھے ۔ یہ دونوں کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ (راجیہ سبھا) ہیں۔ اس تقریب کی صدارت ریاض میں موجود سینئر علیگرین اسلام حبیب خاںنے کی جبکہ راج ببر مہمان خصوصی اور پرویز ہاشمی مہمان اعزازی کے طور پر شریک رہے۔ تقریب کی ابتداء عبدالاحد خاں کی قراء ت کلام پاک سے ہوئی ۔ تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر عبدالرحیم خاں نے انجام دیئے ۔ ریاض کی ایک اسٹارہوٹل میں منعقد ہوئی اس تقریب میں علیگرین ، ریاض کی سماجی تنظیموں کے اراکین اور معززان شہر کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ڈاکٹر حفظ الرحمان سکریٹری سفارت خانہ ہند بھی مہمانوں میں شامل تھے۔ ڈاکٹر عبدالرحیم کے ابتدائی کلمات کے بعد اموبا کے صدر انجنیئر سہیل احمد نے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی پارلیمنٹ کا سرمائی سیشن ان دنوں جاری ہے ۔ اس کے باوجود اموبا کی دعوت پر ہمارے مہمانان راج ببر اور پرویز ہاشمی دو دن کیلئے ریاض آئے ۔ اس سے جامعہ علی گڑھ سے ان حضرات کی محبت کا اظہار ہوتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اموبا ریاض نے کچھ عرصہ قبل یہ طئے کیا تھا کہ علی گڑھ یونیورسٹی کیمپس میں ’’ریاض ہال‘‘ کے نام سے ایک ہاسٹل تعمیر کیا جائے گا ۔ ایک ہزار طلباء کے قیام کیلئے تعمیر کئے جانے والے اس ہاسٹل کیلئے اموبا ریاض اپنے اور اہل خیر حضرات کے تعاون سے مالیہ فراہم کرے گا۔ سہیل نے بتایا کہ پچھلے ماہ اس ہاسٹل بلڈنگ کا سنگ بنیاد ایک شاندار تقریب میں رکھا گیا جس میں اموبا ریاض کے اراکین و سابق صدور ڈاکٹر ندیم ترین اور ضیغم خاں وغیرہ نے بھی شرکت کی۔ اس خیرمقدمی تقریر کے بعد اموبا کی سالانہ ڈائری “We the Alig’s” کی رسم اجراء انجام دی گئی ۔ سابق صدر اموبا، ڈاکٹر محمد احمد بادشاہ اور سینئر علیگ سید علی کو ان کی گران قدر خدمات کیلئے راج ببر کے ہاتھوں مومنٹوز پیش کئے گئے ۔

اس موقع پر دہلی کے معروف عوامی قائد پرویز ہاشمی نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتی طبقہ کے ساتھ جاری ناانصافی کے  خلاف جو لڑائی جاری ہے ، اس میں بقائے باہمی میں یقین رکھنے والے شریف النفس ہندو بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ ہاشمی نے یہ بھی کہا کہ کانگریس اپنے دور اقتدار میں مسلم کمیونٹی کی اقتصادی ، سماجی و تعلیمی ترقی کیلئے سچر کمیٹی کی سفارشات کو لاگو نہ کیا جاسکا جس کا افسوس ہے ۔ مگر کانگریس جب دوبارہ اقتدار میں آئے گی تو یہ کام ترجیحی بنیاد پر پورا کرے گی ۔ ہاشمی نے کہا کہ نریندر مودی کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ صرف بی جے پی قائد نہیں بلکہ ملک کے وزیراعظم بھی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جس قسم کی زبان اور الفاظ انہوں نے اپنے بہار کی انتخابی مہم میں استعمال کئے اس سے انہوں نے وزیراعظم کے اس جلیل القدر عہدہ کی توہین کی ہے ۔ ہاشمی نے گورنر آسام کے حالیہ بیان کی بھی سخت مذمت کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان میں رہنے کا حق صرف ہندو قوم کو ہے ۔ پرویز ہاشمی نے فلم اداکار عامر خاں کے بیان پر ملک میں پیدا ہوکے ہنگامہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عامر خاں نے کوئی غلط بات نہیں کہی۔

مہمان خصوصی راج ببر نے اپنے خطاب میں مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کو انڈین سرویسس (IAS, IPS, IFS etc) کے مسابقتی امتحانات کی تیاری کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے قانون سازاداروں میں عوامی نمائندے جو قانون بناتے ہیں اور عوام بہبود کے بل پاس کرتے ہیں، ان کو لاگو کرنے اور عملی جامعہ پہنانے والے یہی انڈین سرویس کے عہدیدار ہوتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسلم نوجوان ان عہدوں کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا آج سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہوگئی ہے ۔ راج ببر نے کہا کہ ایک پڑھا لکھا انسان ہی اپنا حق و انصاف حاصل کرسکتا ہے ۔ لہذا مسلمانوں میں تعلیمی خرچ میں اضافہ ہونا ضروری ہے۔ راج ببر نے کہا کہ سرسید احمد خاں  نے ملک میں عصری تعلیم تعام کرنے خواب دیکھا تھا جن کے حصول کیلئے ہندوستانی آکسفورڈ اور کیمرج جیسے جامعات کا رخ کرتے ہیں۔ایسی ادارے سے انہوں نے علی گڑھ میں ایک تعلیمی ادارے کا آغاز کیا ۔ راج نے کہا کہ آج اتنی بڑی تعداد میں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ علیگرین یہاں بیٹھے ہیں ، یہ سرسید کے خوابوں کی تعبیر ہے۔

اسلام حبیب خاں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ شمع علم علی گڑھ کی روشنی علیگرین کی صورت میں دنیا بھر میں پھیلی ہے ۔ حبیب خاں جو 1950 ء کی دہائی میں علی گڑھ سے فارغ التحصیل ہوئے تھے، نے ان برسوں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ترقی پر تفصیلی روشنی بھی ڈالی۔
سکریٹری ارشد علی خاں نے اموبا ریاض کی ذیلی کمیٹیوں کا تعارف پیش کیا اور آخری میں نائب صدر سلمان خالد نے شکریہ ادا کیا ۔ ترانہ علی گڑھ کے بعد قومی ترانے کی پیشکشی کے ساتھ ہی یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
ہندوستان سے آئے دن دونوں سیاسی قائدین کے ساتھ اموبا ریاض کی کور کمیٹی ممبرس اور اراکین کمیٹی نے ایک خصوصی اجلاس میں راج ببر اور پرویز ہاشمی سے ہندوستان کے حالات پر مختلف سوال کئے ۔ اس کے علاوہ اموبا نے مقامی اخبار نویسوں کے ساتھ بھی ایک خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا۔
سیاست نیوز کے اس سوال پر کہ برسر اقتدار پارٹی کی ناکامیوں اور بے شمار غلطیوں کے باوجود کانگریس کیوں خاموش ہے ۔ راج ببر نے کہا کہ سیاست نمبر ون کا کھیل ہے، اس وقت کانگریس کے پاس تعداد بڑی نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ ہم ابھی دیکھو اور انتظار کرو اسٹیج پر ہیں۔ جیسے ہی لوہا گرم ہوگا ہتھوڑا ماریں گے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں راج نے کہا کہ ملک میں منافقت پھیلانے والی آر ایس ایس 1924 ء سے اپنے مشن پر لگی ہوئی ہے لیکن یہ لوگ عوام میں مقبول ہیں، نہ ان کے ایجنڈہ سے ملک کا عام آدمی متفق ہے ۔ بہار اسمبلی الیکشن کے سوال پر انہوں نے کہاکہ بہار میں کانگریس کی کارکردگی اطمینان بخش رہی ۔ مگر آئندہ دیگر ریاستوں میں کانگریس تنہا ہی مقابلہ کرے گی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہار میں اس بار انتہا پسندوں کی ہار ہوئی ۔ عوام نے مذہب کے نام پر ووٹ نہیں دیا بلکہ یکجہتی اور بقائے باہمی میں یقین رکھنے والوں کو کامیاب بنایا ۔
سرسید کو ’’بھارت رتن‘‘ دیئے جانے کے سوال پر راج ببر نے کہا ویسے سر سید احمد خاں کی شخصیت بہت بلندل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں یہ ایوارڈ دیا گیا تو ایسی شخصیت کی پذیرائی ہوگی جس نے علم کی روشنی پھیلانے کیلئے اپنی زندگی وقف کردی ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سر سید نے مسلمانوں کی نہیں بلکہ اس ملک کی خدمت کی ہے ۔ ایشوری پرساد کا اس درس گاہ سے پہلا گریجویٹ ہونا اس بات کا ثبوت ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں پرویز ہاشمی نے کہا کہ ہندو قوم بزرگان دین کے آستانوں سے فیض یاب ہوتی ہے اور پھر ملک کے مسلمانوں سے نفرت کا سلوک بھی کرتے ہیں ۔ راج ببر کی فلمی زندگی سے متعلق سوال پر راج نے کہا کہ وہ عنقریب خود ایک فلم پروڈیوس کرنے جارہے ہیں جس میں وہ خود بھی کردار ادا کریں گے ۔نیز وہ ایک ٹی وی سیریل شروع کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT