Sunday , August 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / ریسلر سشیل کمار سلیکشن ٹرائل کی خاطر عدالت سے رجوع

ریسلر سشیل کمار سلیکشن ٹرائل کی خاطر عدالت سے رجوع

نئی دہلی؍ پٹیالہ ، 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ریسلر سشیل کمار نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع ہوکر ٹرائل منعقد کرانے کی استدعا کی ہے جو فیصلہ کردے کہ ریو اولمپک گیمز میں ہندوستان کی نمائندگی 74kg کیٹگری میں کون کرے گا۔ سشیل اگسٹ کے گیمز کیلئے کوالیفکیشن سے محروم ہوئے کیونکہ اُن کا کندھا زخمی تھا۔ اس کے نتیجے میں ریسلر نرسنگھ یادو 74kg زمرہ کا کوٹہ والا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ کوٹہ کا مقام ملک کیلئے ہوتا ہے اور ایسی توقع تھی کہ ٹرائلز منعقد کرتے ہوئے گیمز سے قبل نرسنگھ اور سشیل کے درمیان کسی کو منتخب کرلیا جائے گا۔ سشیل نے بیجنگ گیمز 2008ء میں برونز میڈل اور لندن گیمز 2012ء میں سلور میڈل جیتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ان مظاہروں کی اساس پر ٹرائل کے ’مستحق‘ ضرور ہیں۔ وہ ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) سے ٹرائل منعقد کرانے کی بار بار درخواست کرچکے ہیں لیکن انکار کردیا گیا۔ ڈبلیو ایف آئی نے واضح کردیا ہے کہ وہ سلیکشن ٹرائل کیلئے سشیل کے مطالبہ کے حق میں نہیں ہے۔ چونکہ نرسنگھ نے اولمپکس کیلئے اپنی دعوے داری پیش کردی ہے، اس لئے ڈبلیو ایف آئی مخمصہ میں مبتلا ہے کیونکہ اسے اندیشہ ہے بقیہ سات زمروں میں بھی دیگر ریسلرز ایسے مطالبات کرسکتے ہیں۔ ڈبلیو ایف آئی نے اس مسئلہ کی یکسوئی کیلئے اسپورٹس منسٹری کی مداخلت تک چاہی کہ آیا اولمپک ٹکٹ نرسنگھ کو دے دیا جائے جو کوٹہ کا مقام لے چکے ہیں، یا ٹرائلز منعقد کرتے ہوئے ڈبل اولمپک میڈلسٹ سشیل کو 74kg کیٹگری میں موقع دیں۔ سشیل نے بیجنگ اور لندن میں 66kg کیٹگری میں مسابقت کی تھی اور 2014ء میں 74kg زمرے کو منتقل ہوئے۔ قبل ازیں دن میں وزیر کھیل کود سرب نندا سونوال نے ریو اولمپکس کیلئے سشیل۔ نرسنگھ سلیکشن کی رسہ کشی میں مداخلت کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کا فیصلہ ڈبلیو ایف آئی نے کرنا ہے۔ سونوال نے نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو بتایا کہ ’’حکومت کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔ فیڈریشن جو خودمختار ادارہ ہے، وہی قطعی مجاز ہے۔ ہم نیشنل اسپورٹس کوڈ کی تعمیل کرتے ہیں اور تمام اسپورٹس فیڈریشنس کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT