Saturday , August 19 2017
Home / کھیل کی خبریں / ریسلر نرسنگ پر چار سالہ امتناع، ناڈا کلین چٹ ثالثی عدالت میں کالعدم

ریسلر نرسنگ پر چار سالہ امتناع، ناڈا کلین چٹ ثالثی عدالت میں کالعدم

ریو گیمز میں 13 ویں دن ریسلر ساکشی کو برونز میڈل کیساتھ انڈیا کو پہلا تمغہ ، بیڈمنٹن سنگلز میں سندھو کی فائنل میں رسائی کے بعد نرسنگ کا اخراج
ریو ڈی جنیرو ، 19 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) شٹلر پی وی سندھو اور ریسلر ساکشی ملک نے اپنے عدیم النظیر کارناموں کے ذریعے ہندوستانی تاریخ میں نیا باب رقم کیا لیکن پریشانیوں میں گھرے نرسنگ یادو کے خواب بری طرح بکھر گئے جب اُن پر چار سالہ ڈوپنگ امتناع عائد کردیا گیا ، اس طرح یہاں ریو گیمز میں گزشتہ روز ملک کیلئے خوشی و غم کے امتزاج والا دن ثابت ہوا۔ سندھو نے بیڈمنٹن ویمنس سنگلز ایونٹ کے فائنل میں تاریخی رسائی پائی، جبکہ چند گھنٹے قبل ساکشی نے ملک کو اس برازیلی شہر میں 11 دنوں تک کھاتہ خالی رہنے کے بعد پہلا میڈل دلایا۔ تاہم حالات کے سنسنی خیز بدلاؤ میں متنازعہ مرد ریسلر نرسنگ کو جاریہ گیمز سے خارج کردیا گیا اور ڈوپ ٹسٹ میں ناکامی پر چار سالہ امتناع بھی لگایا گیا جبکہ کھیلوں کی ثالثی عدالت (سی اے ایس) نے انھیں نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (ناڈا) کی دی گئی کلین چٹ کالعدم کردی ہے۔ سی اے ایس پیانل نے اتھلیٹ کی یہ دلیل قبول نہیں کی کہ وہ سبوتاج کا شکار ہوئے اور نشاندہی کی کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ اُن سے کوئی غلطی نہیں ہوئی، اور نا ہی یہ کہ اینٹی ڈوپنگ قاعدہ کی خلاف ورزی دانستہ نہیں کی گئی۔ لہٰذا نااہل قرار پانے کی معیاری 4 سالہ مدت پیانل نے لاگو کردی ہے۔

گزشتہ سال لاس ویگاس میں اپنے ورلڈ چمپئن شپس برونز کے بل بوتے پر اولمپک کوٹہ حاصل کرلینے کے بعد نرسنگ کی راہ برائے ریو میں رکاوٹ پیدا ہوتی گئی حالانکہ انھیں ڈبل اولمپک میڈلسٹ سشیل کمار پر ترجیح دیتے ہوئے ہندوستان کی نمائندگی کیلئے نامزد کیا گیا تھا۔ نرسنگ کے خلاف سشیل دہلی ہائی کورٹ سے رجوع ہوگئے اور پھر عدالت میں تلخ کشاکش ہوئی لیکن فیصلہ اول الذکر کے حق میں آیا۔ نرسنگ پر سی اے ایس کی جانب سے چار سالہ امتناع پر دکھی انڈین اولمپک اسوسی ایشن (آئی او اے) نے کہا ہے کہ پریشان حال ریسلر کو حریفوں کی بجائے خود ’’ہم وطن لوگوں نے شکست‘‘ دی ہے۔ آئی او اے سکریٹری جنرل راجیو مہتا نے سی اے ایس فیصلہ کے بعد نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو بتایا کہ یہ کھیلوں کی ثالثی عدالت میں نرسنگ کی ناکامی نہیں اور وہ مقابلے کے حریفوں سے نہیں ہارے بلکہ انھیں خود ہم وطن لوگوں سے شکست ہوگئی جو نہیں چاہتے کہ وہ اولمپکس میں مسابقت کریں۔ ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) نے آج اعتراف کیا کہ وہ سی ایس اے پیانل کو اس بات پر مطمئن کرنے سے قاصر رہا کہ گراپلر نرسنگ سازش اور سبوتاج کا شکار ہوئے،

اور یہی وجہ ہے کہ وہ کیس ہار گئے اور انھیں چار سالہ امتناع کے ساتھ ریو اولمپکس سے باہر کردیا گیا۔ صدر ڈبلیو ایف آئی برج بھوشن شرن نے کہا کہ سی اے ایس پیانل یہ وجہ جاننے پر مصر ہوا کہ اگر اس کیس میں کوئی سازش یا سبوتاج ہوا ہے تو کیوں ابھی تک کسی خاطی کو سزا نہیں دی گئی ہے۔ ’’جو کچھ میں سمجھ سکا، وہ (سی اے ایس پیانل) جاننا چاہ رہے تھے کہ کیوں خاطیوں کو ابھی تک ہندوستانی عدالتی نظام کے تحت سزا نہیں دی گئی ہے۔ یہ محض کسی کی گرفتاری کی بات نہیں بلکہ وہ (کسی خاطی شخص کو دی گئی) سزا کے تعلق سے جاننا چاہتے ہیں۔ شاید، اگر خاطی آج جیل میں ہوتا تو فیصلہ ہمارے حق میں ہوسکتا تھا۔‘‘ ڈبلیو ایف آئی نے جرائم سے لڑنے والے سرکردہ ملکی ادارہ کے ذریعہ اس ڈوپنگ اسکینڈل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ، جبکہ نرسنگ نے اپنا نام پاک کرنے کیلئے کوئی کسر باقی نہ رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ریسلر نے ایک بیان میں کہا، ’’صرف یہ کہہ دینا کہ سی اے ایس کے فیصلہ پر میں بکھر چکا ہوں بہت نرم بات ہوگی۔ ریو گیمز میں مسابقت کرتے ہوئے ملک کو میڈل جتوانے کا میرا خواب مجھ سے میرے پہلے مقابلہ سے بارہ گھنٹے پیشتر چھین لیا گیا، لیکن میں خود کو بے قصور ثابت کرنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔ بس اب یہی کچھ لڑائی میرے لئے رہ گئی ہے۔‘‘

TOPPOPULARRECENT