Saturday , April 29 2017
Home / Top Stories / ریفرنڈم پر تنقید مغربی ممالک کی ’’ٹیڑھی سوچ‘‘ کی عکاس: اردغان

ریفرنڈم پر تنقید مغربی ممالک کی ’’ٹیڑھی سوچ‘‘ کی عکاس: اردغان

انقرہ ؍ استنبول۔18 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) یورپی ممالک کی جانب سے ترکی میں صدر کی ایگزیکٹو اختیارات کو بڑھائے جانے کے سلسلے میں ہونے والے ریفرنڈم پر تنقید کرنے کو صدر طیب اردغان نے مغربی ممالک کی مبینہ ٹیڑھی سوچ بتاتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ۔اس سے پہلے ریفرنڈم میں فاتح ہونے کے بعد استنبول میں اپنی سرکاری رہائش گاہ میں مسٹر اردغان نے کہا کہ ریفرنڈم میں فتح کے بعد حکومت میں فوجی مداخلت کے ترکی کی طویل تاریخ کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا ”ہمارے حق میں 2.5 کروڑ ووٹ ملے جو مخالف خیمے سے 13 لاکھ سے زائد ہیں۔انہوں نے کہا  کہ ترکی نے اپنی تاریخ میں پہلی بار اس طرح کے ایک اہم تبدیلی پر پارلیمنٹ اور لوگوں کی خواہش جاننے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ترکی جمہوریہ کی تاریخ میں پہلی بار ہم شہری حکومت کے ذریعے اپنی حکمرانی کے نظام کو تبدیل کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بہت اہم ریفرنڈم ہے ۔ صدر اردغان نے تعریف کرتے ہوئے اس کو ‘تاریخی فیصلہ’قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ’عوام کے ساتھ مل کر ہم نے اپنی تاریخ میں اہم اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا’۔وہیں ترکی میں اہم اپوزیشن پارٹی ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کے سربراہ کمال کلک ڈاروگلو نے بھی ریفرنڈم کی قانونی حیثیت پر سوال کھڑے کئے ہیں۔ مسٹر کلک ڈاروگلو نے کہا کہ جن لوگوں نے حق میں ووٹ ڈالا ہے ایسا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے قانون کی حدود سے باہر جا کر ریفرنڈم کی حمایت کی ہو۔ اپوزیشن ریپبلکن پیپلز پارٹی کے ڈپٹی چیرمین بلند تیزکان نے ووٹنگ میں بدعنوانیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے ریفرنڈم کے نتائج کو کالعدم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نتیجہ کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT