Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / ریلویز کے غیر اہم شعبوں میں آؤٹ سورسنگ کی وکالت

ریلویز کے غیر اہم شعبوں میں آؤٹ سورسنگ کی وکالت

خدمات کی فراہمی پر صارفین کو ادائیگی کرنا ضروری ۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی کا کانفرنس سے خطاب
نئی دہلی 20 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان کا پہلا مشترکہ عام اور ریلوے بجٹ پیش کرنے سے چند ہفتے قبل وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج کہا کہ ریلویز کے غیر اہم کاموں جیسے میزبانی خدمات میں آوٹ سورسنگ کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے ریلویز میں شفاف اکاونٹنگ نظام کی بھی وکالت کی ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ریلویز کی جانب سے اپنی کارکردگی کو بہتر نہیں بنایا جاتا اور داخلی مینجمنٹ میں سدھار نہیں لایا جاتا اسے ہائی ویز اور ائر لائینس سے مسابقت میں ناکامی ہوگی ۔ یہ مسابقت مسافر برداری اور کارگو منتقلی میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریلویز کی اصل طاقت ٹرینوں کے چلانے اور خدمات فراہم کرنے کی ہے ۔ میزبانی کے فائض ریلویز کے اہم کاموں میں شامل نہیں ہوسکتی ایسے میںجو کچھ اس کی مسابقت کا حصہ نہیں ہے اسے آوٹ سورسنگ سے جوڑا جاسکتا ہے اور اس تبدیلی کو دنیا بھر میں قبول کیا جا رہا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں ریلویز کی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ ریلویز کی جانب سے چونکہ موجودہ کیش نظام سے ٹکنالوجی نظام کی سمت تبدیلی ہو رہی ہے ایسے میں ان کا کہنا تھا کہ اکاونٹنگ اصلاحات سے ریلویز کی کارکردگی کو پرکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی اکاونٹنگ نظام کے ذریعہ کئی چیزوں کو پوشیدہ رکھنے کی بجائے انہیں ظاہر کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ ظاہر کیا جانا چاہئے کہ انفرا اسٹرکچر کے شعبہ میں کیا کچھ سرمایہ کاری ہورہی ہے ۔ ریلوے کی سیفٹی میں کیسی سرمایہ کاری ہو رہی ہے ۔

جو منصوبے تیار کئے جا رہے ہیں ان کے نتائج کیا ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان اکاونٹس کے ذریعہ حقائق کو منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے ۔ حکومت نے ماہ ستمبر میں فیصلہ کیا تھا کہ علیحدہ ریلوے بجٹ پیش کرنے کی جو روایت 92 سال سے چلی ا ٓرہی ہے اسے ختم کیا جانا چاہئے اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ 2017 – 18 کا مشترکہ عام اور ریلوے بجٹ یکم فبروری کو پیش کیا جائیگا ۔ ریلویز میں اکاونٹنگ اصلاحات سے متعلق ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ارون جیٹلی نے کہا کہ سال بہ سال حکومتیں مقبولیت حاصل کرنے کوشاں رہی ہیں اور لوگ ریل بجٹ کی سماعت اسی لئے کرتے تھے تاکہ نئی ٹرینوں کی تعداد معلوم کی جاسکے ۔ انہیں خوشی ہے کہ گذشتہ دو سال کے دوران ریلویز نے عوامی مقبولیت پر توجہ دینے کی بجائے اپنے معیارات میں بہتری لانے کی کوشش کی ہے ۔ جیٹلی نے کہا کہ کئی برسوں سے ریلویز کی کامیابی کا پیمانہ صارفین کو دی جانے والی سبسڈی اور ٹرینوں کے تعلق سے مقبولیت پسند اعلانات کو بنایا گیا تھا ۔ ریلویز میں ایسی جدوجہد کی جا رہی تھی جہاں مقبولیت پسندی نے بنیادی اصول کی جگہ حاصل کرلی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ پہلا اصل اصول یہ ہے کہ صارفین اس کیلئے ادائیگی کریں جو خدمات وہ حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2003 میں برقی اصلاحات تک برقی کمپنیوں کی کارکردگی بہتر نہیں تھی جبکہ ہائی ویز کے شعبہ میں بہتری اسی وقت آئی جب ٹول میکانزم لاگو کیا گیا اور فیول پر سیس عائد کیا گیا جو ان صارفین سے وصول کیا جاتا ہے جو ہائی ویز کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں وہی خدمات کامیاب رہی ہیں جہاں معاشی ماڈل کو لازمی جز بنادیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT