Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / ریلوے ’’قرض کے دلدل ‘‘ میں ، بحران کا شکار

ریلوے ’’قرض کے دلدل ‘‘ میں ، بحران کا شکار

ایرانڈیا کی طرح کا حشر ہوگا ، مالی حصولیابی پر انحصار خطرناک :سابق وزیر دنیش تریویدی
ممبئی۔ 21 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں سب سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کرنے والی ریلویز موجودہ سریش پربھو زیرقیادت وزارت کی پالیسیوں کی بناء بہت جلد قرض کے دلدل میں پھنس کر ’’ایرانڈیا‘‘ بن جائے گی۔ سابق وزیر ریلوے دنیش تریویدی نے آج یہ بات کہی اور ریلوے کے مالیہ میں تیزی سے کمی کے خلاف خبردار کیا۔ انہوں نے پروگرام سے خطاب کے دوران کہا کہ ریلوے کا حشر بھی ایرانڈیا کی طرح ہوجائے گا، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم ایرانڈیا کے بغیر تو رہ سکتے ہیں لیکن انڈین ریلویز کے بغیر ایسا ممکن نہیں۔ موجودہ وزارت ریلوے قرض کے دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فوری طور پر موثر اقدامات نہ کئے جائیں تو ریلوے کو انتہائی مشکلات سے دوچار ہونا ہوگا۔ تریویدی کو جنہیں پیشرو یو پی اے حکومت نے بجٹ کی پیشکشی کے بعد تبدیل کردیا تھا۔ اس بجٹ کا جہاں تجزیہ نگاروں نے خیرمقدم کیا، وہیں اسے ایک اصلاحات پسند بجٹ بھی قرار دیا گیا تھا۔ تریویدی نے اپریل میں پارلیمانی پیانل کی رپورٹ بھی تیار کی تھی جس میں ریلوے کی کارکردگی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کے دونوں شعبوں مسافرین اور مال برداری میں مالیہ مسلسل گراوٹ کا شکار ہوتا جارہا ہے۔

اس وقت ریلوے پھر ایک بار سنگین مالی بحران سے دوچار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریلوے کے مصارف کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اگر 100 روپئے خرچ کئے جارہے ہیں تو اس میں 93.6 روپئے ضائع ہورہے ہیں ۔ سرمایہ 5.6 فیصد ہے، اس طرح سال 2013-14ء میں صرف 3,740 کروڑ روپئے کی فاضل رقم موجود تھی۔ ریلوے کا انحصار زیادہ سے زیادہ حصولیابی پر ہے۔ 85 صفحات پر مشتمل اس کمیٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حصولیابی پر انحصار کم کرنے کیلئے موثر اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ یہ رقومات مارکٹ سے حاصل کی جارہی ہیں جن میں لائف انشورنس کا سب سے بڑا ادارہ ایل آئی سی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ ایل آئی سی سے رقم حاصل کرکے 9% ادا کرتے ہیں تو پھر ایک مرحلے پر یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے لیکن ہمیں یہ رقم مسلسل ادا کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا واحد حل یہی ہے کہ موجودہ نظام کو زیادہ سے زیادہ مستحکم بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز ، ریلویز اور زراعت دونوں شعبوں کو نظرانداز کررہا ہے حالانکہ یہ روزگار اور جی ڈی پی سے مربوط ہیں۔

TOPPOPULARRECENT