Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / ذات پات پر مبنی امتیازی سلوک کیلئے ہندو برادری کے ارکان ذمہ دار

ذات پات پر مبنی امتیازی سلوک کیلئے ہندو برادری کے ارکان ذمہ دار

آر ایس ایس کا اعتراف ، خوشحال طبقات کیلئے تحفظات کی مخالفت ، تین روزہ اجلاس کے بعد زعفرانی تنظیم کے جنرل سیکریٹری کی پریس کانفرنس
٭ مندروں میں خواتین کے داخلہ پر امتناع افسوسناک
٭جے این یو میں قوم دشمن نعروں پر تشویش
٭ غلام نبی آزاد کے ریمارک کی مذمت

ناگور (راجستھان)۔ 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس نے حالیہ جاٹ ایجی ٹیشن کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے تحفظات کیلئے اہل ثروت و خوشحال طبقات کے مطالبات کو آج مسترد کردیا اور اس بات کا بغور جائزہ لینے کی حمایت کی کہ آیا مستحق پسماندہ طبقات کو فی الواقعی تحفظات کوٹہ کے فوائد حاصل ہورہے ہیں۔ ہندوتوا تنظیموں کی نظریاتی مربی تنظیم ’’آر ایس ایس‘‘ نے سماجی ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ذات پات پر مبنی امتیازی سلوک اور تفرقہ کیلئے ہندو برادری کے ارکان ہی ذمہ دار ہیں اور سماجی انصاف کیلئے اس (امتیاز) کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں دلت لیڈر آنجہانی بی آر امبیڈکر کے قول کا حوالہ بھی دیا گیا۔ آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری سریش بھیاجی جوشی نے ہندو برادری کے خوشحال اور اہل ثروت طبقات کی جانب سے تحفظات کیلئے کئے جانے والے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھیم راؤ امبیڈکر نے سماجی انصاف کیلئے تحفظات کی گنجائش فراہم کی تھی چنانچہ آج تحفظات کا مطالبہ کرنے والوں کو یہ نظریہ ذہن میں رکھنا چاہئے۔ جوشی نے کہا کہ ’’یہ محسوس کیا گیا کہ یہ انداز فکر خوشحال طبقات کیلئے تحفظات کا مطالبہ) صحیح سمت میں نہیں ہے۔ اس قسم کے (خوشحال) طبقہ کو اپنے مطالبہ کے حق سے دستبردار ہوتے ہوئے سماج کے کمزور طبقات کی مدد کرنا چاہئے، لیکن اس کے بجائے وہ خود اپنے لئے تحفظات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ یہ سوچ و فکر صحیح سمت میں نہیں ہے‘‘۔ آر ایس ایس کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ ’’اکھل بھارتیہ پرتی ندھی سبھا‘‘ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ْوشی نے کہا کہ سماجی ہم آہنگی، تعلیم و صحت پر قراردادیں منظور کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک اور چھوت چھات کی لعنت کا مکمل خاتمہ کیا جانا چاہئے۔ سماج کو پُرسکون انداز میں چلانے کیلئے یہ نہایت ضروری ہے کہ تمام سماجی و مذہبی ادارہ جات زندگی کے اعلیٰ نظریات پر عمل پیرا ہوجائیں‘‘۔ جوشی نے کہا کہ ’’ذات پات پر مبنی امتیازی سلوک ہم سب کیلئے باعث تشویش ہے اور اس (امتیازی سلوک) کیلئے ہندو برادری کے ارکان ذمہ دار ہیں چنانچہ ہمیں اس لعنت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے ایک پیغام دیا جانا چاہئے تاکہ سماج میں کسی کے خلاف کوئی امتیاز و مظالم نہ رہیں اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھی جائے‘‘۔ آر ایس ایس نے بعض مندروں میں خواتین کے داخلے پر امتناع کو غیرمنصفانہ قرار دیا۔ علاوہ ازیں جے این یو میں مبینہ قوم دشمن نعرہ بازی کو سنگین مسئلہ قرار دیا۔ کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کی جانب سے اس (آر ایس ایس) کا آئی ایس آئی ایس سے تقابل کئے جانے کی سخت مذمت کی۔

 

ریمارکس پر معذرت کیلئے غلام نبی آزاد سے مطالبہ

آر ایس ایس کا آئی ایس سے تقابل ، پارلیمنٹ میں مسئلہ اٹھانے بی جے پی کا فیصلہ
نئی دہلی۔ 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کے ان متنازعہ ریمارکس کو کل پارلیمنٹ میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں انہوں نے ہندوتوا تنظیم آر ایس ایس کا ایک دہشت گرد تنظیم ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ (داعش) سے تقابل کیا تھا۔ بی جے پی ذرائع نے کہا کہ اس کے چند ارکان اس مسئلہ کو اُٹھاتے ہوئے آزاد سے معذرت خواہی طلب کریں گے کیونکہ ان کا اصرار ہے کہ آئی ایس آئی ایس جیسی پرتشدد تنظیم سے آر ایس ایس کا تقابل ان کے لئے ناقابل قبول ہے۔ ذرائع نے کہا کہ آزاد نے ایک مسلم ادارہ کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران آر ایس ایس کو نشانہ بنایا تھا جس سے کانگریس کی ووٹ بینک سیاست کا اظہار ہوتا ہے۔ غلام نبی آزاد نے گزشتہ روز آر ایس ایس کا آئی ایس آئی ایس سے تقابل کے ذریعہ ایک تنازعہ پیدا کردیا تھا۔ انہوں نے جمعیتہ العلمائے ہند کے زیراہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم آئی ایس آئی ایس جیسی تنظیموں کی بھی ایسی ہی مخالفت کرتے ہیں جس طرح آر ایس ایس کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسلام میں ہم سے کچھ لوگ اگر غلط بھی ہیں تو وہ بھی آر ایس ایس سے کچھ کم نہیں ہیں‘‘۔ جس پر آر ایس ایس کے ایک ترجمان نے ناگپور میں جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کانگریس کے ذہنی دیوالیہ پن کا اظہار ہوتا ہے اور اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ وہ (کانگریس) آئی ایس آئی ایس جیسی ظالم اور بنیاد پرست قوتوں سے نمٹنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس اس مسئلہ پر آزاد کے خلاف قانونی کارروائی پر بھی غور کررہی ہے۔ بی جے پی بھی اپنی ’’نظریاتی مربی تنظیم‘‘ کی حمایت میں اُتر آئی اور آر ایس ایس کو ایک ’’قوم پرست تنظیم‘‘ قرار دیتے ہوئے آزاد سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی نے کہا کہ یہ امر انتہائی بدبختانہ ہے کہ آزاد اس قسم کے تبصرے کئے ہیں۔ اس پارٹی نے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی سے مطالبہ کیا کہ وہ آزاد کے ریمارکس سے بے تعلقی اختیار کریں اور اگر وہ اپنے ریمارکس سے دستبردار نہیں ہوتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

TOPPOPULARRECENT