Sunday , September 24 2017
Home / کھیل کی خبریں / ریو اولمپکس میں سریجیش اور سشیلا کو ہاکی ٹیموں کی کپتانی

ریو اولمپکس میں سریجیش اور سشیلا کو ہاکی ٹیموں کی کپتانی

سردار سنگھ اور ریتو رانی کو قیادت سے فارغ کردیا گیا ۔ ریتو 18 رکنی اسکواڈ سے بھی ڈراپ ۔ ہاکی انڈیا کا اعلان
نئی دہلی ، 12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) حالیہ وقتوں کے ایک بہت نمایاں فیصلے میں ہاکی انڈیا نے سینئر گول کیپر پی آر سریجیش کو ریو اولمپکس کیلئے نیشنل ٹیم کا کیپٹن نامزد کردیا، اور اس ذمہ داری سے طویل عرصے کے کپتان سردار سنگھ کو سبکدوش کردیا ہے۔ ویمن ہاکی ٹیم کیلئے بھی کیپٹن کو تبدیل کرتے ہوئے سشیلا چانو کو قیادت سونپی گئی ہے۔ سریجیش جو فی الحال عالمی ہاکی کے بہت عمدہ گول کیپرز میں سے ہیں، انھیں نوازا گیا ہے کیونکہ اُن کی قیادت میں ٹیم نے حالیہ چھ قومی چمپینس ٹروفی ہاکی ٹورنمنٹ منعقدہ لندن میں سلور میڈل حاصل کیا۔ سریجیش کا بطور کھلاڑی اور کپتان دونوں حیثیت سے اچھا ٹورنمنٹ گزرا جبکہ انڈیا نے اس ٹورنمنٹ کی 38 سالہ تاریخ میں اپنا بہترین پرفارمنس پیش کیا۔ ٹیم نے فائنل میں بہت شاندار کھیلا جہاں انھوں نے آخرکار چمپینس بننے والے آسٹریلیا کو معمول کے وقت میں 0-0 پر روکے رکھا جس کے بعد متنازعہ شوٹ آؤٹ میں ناکامی ہوئی۔ ممتاز کھلاڑی ایس وی سنیل جو ٹیم کا ایک اور کلیدی حصہ ہیں، وائس کیپٹن نامزد کئے گئے۔ دوسری طرف ویمنس ٹیم میں ڈیفنڈر سشیلا نے ریتو رانی کی جگہ لی جبکہ آخرالذکر کو ناقص فام اور طرزعمل کے مسائل کے سبب سلیکٹرز نے ڈراپ کردیا ہے۔ 18 رکنی اسکواڈز بشمول دو اسٹانڈ بائیز کا صدر ہاکی انڈیا نریندر بترا نے صدر بی جے پی امیت شاہ اور صدر بی سی سی آئی انوراگ ٹھاکر کی موجودگی میں یہاں پُرہجوم پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے۔

 

سریجیش کیلئے حالات صحیح وقت پر سنبھل گئے اور سردار کیلئے بگڑتے گئے، جو میدان پر اور اس سے باہر دونوں جگہ مشکل صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ میدان پر اُن کا پرفارمنس ماند پڑا اور وہ پہلے جیسے چست و پھرتیلے مڈفیلڈر نہیں رہے ہیں۔ میدان سے باہر اُن پر ایک برطانوی شہری نے ریپ کے الزامات عائد کردیئے حالانکہ اس سے ان کی شادی ہونے والی تھی۔ اس تبدیلی سے بھی ان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ سردار کئی سال تک نیشنل ٹیم کے کپتان رہے اور لندن 2012ء میں ٹیم کی قیادت کئے تھے۔ سردار کو چمپینس ٹروفی کیلئے آرام دیا گیا تھا جہاں انڈیا نے اپنا اب تک کا بہترین مظاہرہ پیش کیا، لیکن اس کے بعد ٹیم کے پرفارمنس میں گراوٹ آئی جب اس نے اگلا ٹورنمنٹ ویلنشیا میں کھیلا جہاں وہ صرف ایک میچ کمزور آئرلینڈ کے خلاف جیت سکے، دو مقابلے ہارے اور دیگر دو ڈرا کرائے۔
مین اسکواڈ: پی آر سریجیش (گول کیپر اینڈ کیپٹن)، ہرمن پریت سنگھ، روپندر پال سنگھ، کوٹھاجیت سنگھ، سریندر کمار، من پریت سنگھ، سردار سنگھ، وی آر رگھوناتھ، ایس کے اتھپا، دانش مجتبیٰ، دیویندر والمیکی، ایس وی سنیل، آکاش دیپ سنگھ، چنگلنسانا سنگھ، رمن دیپ سنگھ، نکن تھمیا۔ اسٹانڈ بائیز : پردیپ مور، وکاس داہیا (ریزرو گول کیپر)۔
ویمن اسکواڈ :  سشیلا چانو (کیپٹن)، ساویتا (گول کیپر)، نوجوت کور، دیپ گریس ایکا، مونیکا، انورادھا دیوی، پونم رانی، وندنا کٹاریا، دپیکا، نمیتا ٹوپو، رینوکا یادو، سنیتا لاکڑا، رانی رامپال، پریتی دوبے، للیما مینز، نکی پردھان۔ اسٹانڈ بائیز: رجنی اتیمارپو اور لالروات فیلی ۔

TOPPOPULARRECENT