Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / ریو اولمپکس کا آج آغاز ، فٹبال ہیرو پلے افتتاح کریں گے

ریو اولمپکس کا آج آغاز ، فٹبال ہیرو پلے افتتاح کریں گے

ریو ڈی جنیرو ، 4 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) تاریخ میں سب سے زیادہ بحران سے دوچار اولمپکس گیمز یہاں جمعہ 5 اگسٹ کو شروع ہورہے ہیں جبکہ ریو آرگنائزرز امید کررہے ہیں کہ مشکلات سے بھری سات سالہ تیاری کے بعد آخرکار زمین پر کھیلوں کے عظیم ترین شو کا کامیابی انعقاد عمل میں لائیں گے۔ فٹبال لجنڈ پلے ممکنہ طور پر ریو کے مثالی ماراکانا اسٹیڈیم میں جمعہ کی افتتاحی تقریب میں روایتی اولمپک شعلہ روشن کریں گے۔ کھیلوں کے سب سے بڑے مقابلوں کا پہلی مرتبہ براعظم جنوبی امریکا میں انعقاد عمل میں آرہا ہے۔ اولمپک سربراہوں کو امید رہے گی کہ اس تقریب کے ساتھ کھیلوں کے 17 روزہ کارنیوال کی خیرخوبی سے شروعات ہوجائے۔ ان مقابلوں میں جمائیکا کے اسپرنٹ کنگ یوسین بولٹ مسابقت کرتے نظر آئیں گے، کشتی رانی کے شاندار مقابلے ہوں گے اور بیچ والی بال ٹورنمنٹ سے بھی شائقین محظوظ ہوسکیں گے۔ پھر بھی اسپورٹس کا میگا ایونٹ بار بار خلل اندازی، تنازعات اور افراتفری جیسے ماحول کے درمیان سامنے آرہا ہے۔ ریو نے ان گیمز کی میزبانی کیلئے 2009ء میں بولی جیتی تھی اور 2016ء اولمپکس کو حرکیاتی اور نئے عزم و حوصلہ سے سرشار برازیل کیلئے بہت ہی عروج کا نکتہ سمجھا جارہا تھا۔

لیکن شدید معاشی انحطاط، بے روزگاری کی دو ہندسی شرح، مچھر کے سبب پیدا ہونے والے زیکا وائرس کے خدشات، انفراسٹرکچر کے معاملے میں مایوس کن رکاوٹیں اور سیاسی بحران جو صدر دلما روزیف کے مواخذہ کا موجب بنا، یہ سب نے مل کر وہ خوشی ماند کردی جو میزبانی کے وقت بولی جیت کر ہوئی تھی۔ زائد از ایک ملین ٹکٹس یا مجموعی اعتبار سے 20 فیصد جن میں مینس 100 میٹر فائنل جیسے باوقار ایونٹس کے ٹکٹس شامل ہیں، چہارشنبہ تک فروخت نہیں ہوئے تھے۔ 85,000 ملٹری اور پولیس پرسونل پر مشتمل وسیع تر سکیورٹی بندوبست کیا گیا ہے جو 2012ء لندن گیمز میں تعینات پرسونل کی دگنی تعداد ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ دہشت گردی کے کسی بھی حملے کو ناکام بنایا جائے۔

مگر ریو میں جرائم کی اونچی شرح کے درمیان مکمل حفاظتی حصار کی فراہمی شاید ممکن نہیں ہے۔ قبل ازیں تین ماہ تک برازیل کے مختلف شہروں کے چکر کاٹنے کے بعد اولمپک مشعل بالآخر ایک کشتی کے ذریعے ریو ڈی جنیرو پہنچ گئی ۔ ریو کے میئر ایدواردو پایس شہر کے وسط میں تھوڑی دور تک مشعل لے کر دوڑے۔ تاہم شہر کے شمال میں اس وقت صورتحال خراب ہوئی جب مشعل کے جلوس کو سینکڑوں لوگوں کے ہجوم کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ انھیں اولمپک کھیلوں پر عائد بھاری لاگت پر اعتراض ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں وہ بچے دیکھے جا سکتے ہیں جو مشعل دیکھنے آئے تھے لیکن پولیس کی کارروائی کے بعد وہاں سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ پولیس نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ لوگوں نے سڑک کا ایک حصہ خالی کرنے سے انکار کر دیا جہاں سے مشعل گزرنی تھی، جس کے بعد انھیں حرکت میں آنا پڑا۔ بتایا جاتا ہے کہ برازیلین اولمپک آرگنائزرز کو مشعل کے جلوس کے دوران اسی بات کا ڈر تھا۔ منگل کو نیتوروئی قصبے میں تین مظاہرین کو وہاں سے مشعل گزرنے کے دوران احتجاج کرنے پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔ برازیل مالی اور سیاسی بحرانوں کی زد میں ہے اور جمعہ کو اولمپکس کی افتتاحی تقریب سے قبل مزید مظاہروں کا خدشہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT