Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / ریو اولمپکس 2016ء کا رقص ، موسیقی ، آتش بازی کی رنگارنگ تقریب میں شاندار افتتاح

ریو اولمپکس 2016ء کا رقص ، موسیقی ، آتش بازی کی رنگارنگ تقریب میں شاندار افتتاح

اسٹیڈیم میں چکاچوند روشنی ، رات میں دن کا گمان ، سامبا ڈانس کیساتھ تاریخ و تہذیب کی نمائش ، عالمی حدت کیخلاف متحدہ پیغام ، 209 ممالک کے 11,000 اتھلیٹس ، ہندوستانی مرد نیلے لباس اور خاتون اتھلیٹس روایتی ساڑیوں میں ملبوس، پیلے ناسازی صحت کے سبب مشعل روشن نہ کرسکے

ریو ڈی جنیرو۔ 6 اگست (سیاست ڈاٹ کام) 31 ویں اولمپک کھیلوں کا آج یہاں ایک رنگارنگ تقریب میں باضابطہ طور پر آغاز ہوگیا جس میں عالمی شہرت یافتہ سامبا ڈانس کے بشمول برازیل کی تاریخ و ثقافت سے مالامال روثے کا پوری شان و شوکت کے ساتھ مظاہرہ کیا گیا اور عالمی حدت سے کرۂ ارض کو لاحق سنگین خطرہ کا ایک انتہائی حساس اور مبہم لیکن طاقتور پیغام دیا گیا۔ 17 دن تک جاری رہنے والے اس عالمی اسپورٹس تہوار کی انسانی فکر کو جھنجھوڑ دینے والی چار گھنٹے طویل افتتاحی تقریب میں برازیل کے منتظمین نے فٹبال سے اپنی بے پناہ محبت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل تشویشناک ناپیدگی کو اپنا مرکزی موضوع فکر بنایا۔ اس 17 روزہ عالمی اسپورٹس تہوار میں بشمول ہندوستان دنیا کے 209 ممالک سے تعلق رکھنے والے 11,000 اتھلیٹس حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں پناہ گزینوں کے ایک اولمپک ٹیم کے ارکان بھی شامل ہیں۔ برازیل کے کارگذار صدر مچل ٹیمر نے ان کھیلوں کا افتتاح کیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جنوبی امریکہ میں اولمپکس منعقد ہورہے ہیں جس کی افتتاحی تقریب میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے سربراہ تھامس بیچ اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی شرکت کی۔ برازیل کے کارگذار صدر کے افتتاحی خطاب کے دوران زبردست آتش بازی کی گئی جس کے نتیجہ میں ریو کے مارکانا اسٹیڈیم کا افق جگمگانے لگا جس سے رات میں دن کا گمان ہورہا تھا۔ 78,000 شائقین کی گنجائش کے حامل وسیع و عریض مارکانا اسٹیڈیم میں جہاں فٹبال کے کئی بڑے عالمی مقابلے ہوچکے ہیں۔

روایت کے مطابق زمانہ قدیم میں اولمپکس شروع کرنے والے ملک یونان کے اتھلیٹس نے پریڈ کی قیادت کی۔ میزبان برازیل کا جتھہ سب سے آخر میں رہا۔ تمام ممالک کے جتھوں نے حروف تہجی کے مطابق پریڈ میں مارچ کیا۔ ہندوستان کے واحد انفرادی گولڈ میڈل یافتہ ابھینو بنڈرا ،پریڈ میں حصہ لینے والے 95 ویں ملک ہندوستان کا پرچم تھامے ہوئے اپنے ساتھیوں کی قیادت کی۔ 118 رکنی ہندوستانی جتھہ میں 70 اتھلیٹس اور 24 عہدیدار شامل ہیں۔لینڈر پیز جو لگاتار ساتویں مرتبہ اولمپکس میں حصہ لینے والے واحد ٹینس اسٹار ہیں، افتتاحی پریڈ میں ہاتھ لہراتے ہوئے شائقین کے استقبال کا جواب دیا تاہم ہندوستانی جتھہ کی خاتون اراکین جیسے شٹلرس جوالا گٹہ، اشوین بوپنا اور جمناسٹ دیپا کرماکر مرکز توجہ رہیں۔ ہندوستانی جتھہ کے سربراہ راکیش گپتا اور ان کے نائب آنند دیشور پانڈے بھی پریڈ میں شامل تھے۔ اس رنگارنگ تقریب میں برازیل کی تاریخ و تہذیب کی خوبصورتی کے ساتھ عکاسی کی گئی۔ مارچ پاسٹ کے بعد ریو آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ کارلوس آرتھر نرمان نے خطاب کیا۔ عالمی شہرت یافتہ افسانوی فٹبالر پیلے ناسازی صحت کی بناء پر اس یادگار تقریب میں شرکت نہیں کرسکے چنانچہ برازیل کے مراتھنر وینڈریل کور ڈیروسیما نے 26,000 کیلومیٹر کا سفر طئے کرتے ہوئے پہونچنے والی مشعل کے ذریعہ اولمپک الاؤ کو روشن کیا جس کے ساتھ ہی آتش بازی کا سلسلہ شروع ہوگیا اور چکاچوند روشنی کے سبب سارا علاقہ منور ہوگیا۔

TOPPOPULARRECENT