Friday , October 20 2017
Home / Top Stories / ریٹا بہوگنا بی جے پی میں شامل ، راہول پر تنقید

ریٹا بہوگنا بی جے پی میں شامل ، راہول پر تنقید

نئی دہلی 20 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) یوپی میں جہاں عنقریب اسمبلی انتخابات مقرر ہیں، ایک دھکہ دیتے ہوئے پارٹی کی سینئر قائد ریٹا بہوگنا جوشی نے آج بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی اور راہول گاندھی کے تنقید کے انداز کی مذمت کی۔ وہ جس انداز میں پارٹی چلارہے ہیں اور فوج کے سرجیکل حملوں کے بارے میں جس انداز میں اُنھوں نے ردعمل ظاہر کیا ہے اُس کی ریٹا نے مذمت کی۔ 67 سالہ ریٹا بہوگنا جوشی جو کانگریس کے نامور آنجہانی قائد ہیموتی نندن بہوگنا کی دختر ہیں، جن کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ کانگریس سے ترک تعلق کرلیں گی، بی جے پی میں صدر پارٹی امیت شاہ کی موجودگی میں پارٹی ہیڈکوارٹرس پر شامل ہوگئیں۔ سابق صدر یوپی کانگریس نے آج کانگریس کے رکن اسمبلی کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا اور کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ ریٹا بہوگنا جوشی نے کہاکہ وہ کانگریس کی قیادت سے خوش نہیں ہیں کیوں کہ شیلا ڈکشٹ کو چیف منسٹری کے امیدوار کے طور پر یوپی میں پیش کیا جارہا ہے، یہی پارٹی نے موجودہ صورتحال کی عکاس ہے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ کانگریس کی حالت اتنی بُری ہے کہ اُس نے حکمت عملی تیار کرنے والے پرشانت کشور سے معاہدہ کرلیا ہے۔ مودی پر ’’دلالی‘‘ کے راہول کے الزام کی مذمت کرتے ہوئے ریٹا جوشی نے کہاکہ وہ گزشتہ چند دن میں پیش آنے والے واقعات پر دلبرداشتہ ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’ہندوستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کررہا ہے اور مودی حکومت نے فوج کو پورا اختیار دیا ہے۔ علاوہ ازیں فوج کی دلیری حکومت کی طاقتور قیادت بھی ان سرجیکل حملوں کے پس پردہ تھی۔ پوری قوم کے ساتھ میں بھی خوش تھی۔ پوری دنیا نے ہندوستان کے حملوں کے پس پردہ دلائل کو تسلیم کرلیا ہے تاہم کانگریس نے ایک چھوٹی پارٹی کا رویہ اختیار کرتے ہوئے اِس پر اعتراض کیا۔ پورا ملک اُلجھن میں مبتلا ہوگیا جبکہ یہ فقرہ کسا گیا خون دلالی کے مانند‘‘۔ ریٹا بہوگنا جوشی نے راہول گاندھی پر تنقید کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیاکہ اُنھوں نے کہاکہ اُن کے تبصروں سے پاکستان کو موقع ملا کہ سرجیکل حملوں پر شک و شبہ ظاہر کرسکے۔ سیاسی اختلافات قومی مفادات پر اچھے نہیں ہوتے۔ اُنھوں نے نوٹ کیاکہ وہ اپنے سیاسی کیرئیر کے 27 سال میں سے 24 سال کانگریس میں گزار چکی ہیں۔ سماج وادی پارٹی میں صرف 10 ماہ رہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ترک تعلق کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔ تاہم اُنھوں نے ملک اور ریاست (یوپی) کے مفاد میں یہ فیصلہ کیا۔ اِن کی بی جے پی میں شمولیت کی توقعات کو اُس وقت تقویت ملی جبکہ پارٹی نے برہمن رائے دہندوں کو مرتکز کرنے کی کوشش شروع کردی تاکہ ریاست میں 15 سال کے بعد اقتدار پر قبضہ کرسکے۔ اسمبلی انتخابات آئندہ سال کے اوائل میں ہونے والے ہیں۔ برسر اقتدار سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی باری باری سے اب تک ریاست میں برسر اقتدار رہ چکی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT