Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ریٹیل شعبوں کو بحران کی صورتحال کا سامنا

ریٹیل شعبوں کو بحران کی صورتحال کا سامنا

آن لائین تجارت اصل ذمہ دار ، قیمتوں میں عدم یکسانیت سے ریٹیل تاجرین پر منفی اثرات
حیدرآباد ۔ 11 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ملک میں ریٹیل شعبہ انتہائی سنگین بحران کی صورتحال سے گزر رہا ہے ۔ ریٹیل تاجرین خواہ وہ کوئی شئے فروخت کررہے ہوں وہ کاروبار میں مندی کی شکایت کررہے ہیں ۔ بازاروں کی اس صورتحال کے لیے آن لائن تجارت کو ذمہ دار قرار دیا جانے لگا ہے ۔ چونکہ آن لائن تجارت کے بڑھتے رجحان کے باعث صارفین بازاروں کے چکر کاٹنے سے بچنے لگے ہیں ۔ آن لائن خرید و فروخت میں اب نہ صرف موبائیل و دیگر الکٹرانکس فروخت کئے جارہے ہیں بلکہ چاول ، مرچ ، نمک ، کپڑے ، جوتے ، چپل ، بیلٹ ، پرس و دیگر تمام اشیاء اب آن لائن دستیاب ہیں اور ان اشیاء کی قیمتیں بازاروں سے کافی کم ہیں ۔ آن لائن اشیاء کی فروخت کرنے والی کمپنیاں مختلف پراڈکٹس پر خصوصی اسکیمات کے ذریعہ گاہکوں کو راغب کروا رہی ہیں اور لوگ آن لائن خریداری کی سمت تیزی سے مائل ہونے لگے ہیں ۔ ابتداء میں موبائیل فون و دیگر الکٹرانک آلات آن لائن فروحت کیے جارہے تھے لیکن حالیہ عرصہ میں بالخصوص امیزان اور فلپ کارٹ کے میدان میں آنے کے بعد اس میں زبردست اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ آن لائن قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ کمپنی کسی بھی پراڈکٹ کو ٹھوک قیمت میں خریدتے ہوئے اسکیموں کے ساتھ صارفین کو فروخت کررہی ہے علاوہ ازیں صارفین آن لائن اشیاء کی خریدی میں اس لیے دلچسپی دکھا رہے ہیں چونکہ آن لائن نہ صرف قیمتیں کم ہیں بلکہ بعض کمپنیوں کی جانب سے اشیاء کی واپسی کے لیے 15 یوم کی مدت بھی فراہم کی جارہی ہے ۔ اسی طرح مختلف طریقوں سے گاہکوں کو راغب کرنے کے لیے کی جانے والی ان کوششوں کے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو زبردست فائدے حاصل ہورہے ہیں لیکن اس کے برعکس شہری علاقوں میں کروڑہا روپئے کے شورومس کھول کر تجارت کو فروغ دینے کی کوشش کررہے تاجرین کو بازار میں مندی کی شکایت بڑھتی جارہی ہے ۔ آن لائن اشیاء کی خریدی میں ابتدائی طور پر کریڈٹ یا ڈیبیٹ کارڈ ہونا لازمی ہوا کرتا تھا لیکن اب کمپنیوں نے کیش آن ڈیلیوری کی سہولت فراہم کرتے ہوئے آن لائن تجارت میں مزید آسانیاں پیدا کردی ہیں۔ کپڑوں کی تجارت سے وابستہ ایک تاجر نے اس رجحان کو تجارتی بازاروں کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر پر معیاری تجارت کی توقع نہیں کی جاسکتی اور کوئی بھی شئے دیر پا ثابت ہونا انتہائی دشوار کن ہے لیکن اس کے برعکس کمپنیوں کی جانب سے واپسی کی پالیسی کے تذکرے پر وہ اطمینان بخش جواب دینے سے قاصر رہے ۔ اسی طرح الکٹرانکس اشیاء کے تاجر نے کھل کر اس بات کا اعتراف کیا کہ آن لائن تجارت کو حاصل ہورہے فروغ کے باعث مارکٹ پر اثر پڑا ہے اور آن لائن کئی الکٹرانک اشیاء بازار کی قیمتوں سے کم ہیں اس سلسلہ میں انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ریٹیل کاروبار میں اضافی خرچ کافی زیادہ ہوتے ہیں جب کہ آن لائن تجارت میں کمپنی کی جانب سے اشیاء کی تصاویر پر تجارت کی جارہی ہے اور ٹھوک بھاؤ میں بڑی تعداد میں پراڈکٹس خرید کر رکھے جارہے ہیں جس کی وجہ سے آن لائن قیمتوں میں کمی کا صارفین کو فائدہ نظر آرہا ہے ۔ اسی طرح کرانہ اور دیگر اشیاء میں بھی آن لائن تجارت کے رجحان میں تیز رفتار اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے اور مستقبل میں اس رجحان کو مزید فروغ حاصل ہونے کا امکان ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT