Sunday , August 20 2017
Home / دنیا / ری پبلکن ریسرچ ٹیم کا ہلاری اور سینڈرس کے بارے میں ’دھماکو‘ انکشاف کا دعویٰ

ری پبلکن ریسرچ ٹیم کا ہلاری اور سینڈرس کے بارے میں ’دھماکو‘ انکشاف کا دعویٰ

واشنگٹن ۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ امریکی صدارتی انتخابات کیلئے ہر گذرتے دن کے ساتھ ماحول کافی گرم ہوتا جارہا ہے، اسی دوران ایک ہندوستانی نژاد امریکی قیادت والی ری پبلکن ریسرچ ٹیم ڈیموکریٹک پارٹی کے دو اعلیٰ سطح کے امیدواروں ہلاری کلنٹن اور برنی سینڈرس کے متعلق کچھ ایسے انکشافات کرنے تیار ہے جس کے بعد دونوں ہی امیدواروں کی افادیت مشکوک ہوسکتی ہے۔ ہلاری کلنٹن کے بارے میں جو انکشاف کیا جانے والا ہے وہ دراصل عام طور پر دستیاب وسائل اور ایسی سینکڑوں درخواستوں پر مشتمل ہے ہے جو فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ (FOIA) کے تحت حاصل کئے گئے ہیں جو ہندوستان کے قانون حق معلومات کے مماثل ہے۔ ان حقائق کو ری پبلکن پارٹی ریسرچ ٹیم نے 31 سالہ راج شاہ کی قیادت میں مرتب کیا ہے۔ اس موقع پر مسٹر شاہ نے میڈیا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ایسا امیدوار (یہاں ان کا اشارہ ہلاری کلنٹن کی جانب تھا) کئی سالوں تک سکریٹریٹ سرویس کے تحفظ میں رہتا ہے، رہائش کیلئے عالیشان مکان (وائیٹ ہاؤس) میں رہتا ہے لیکن عوام کی محنت اور پسند کی کمائی سے (جسے ہم مڈل کلاس ووٹرس کہتے ہیں) فنڈ ریزر بنتا ہے تاہم بعدازاں وہ عوام سے دور ہوجاتا ہے۔ یاد رہے کہ راج شاہ کارنیل یونیورسٹی کا گریجویٹ ہے۔ گذشتہ سال فبروری میں ری پبلکن نیشنل کمیٹی (RMC) کے صدرشنین رینس پری بس نے شاہ کو ریسرچ ڈائرکٹر مقرر کیا تھا۔ دریں اثناء شاہ نے کہا کہ ہلاری کلنٹن سے متعلق جن انکشافات کو منظرعام پر لانا ہے وہ بالکل تیار ہیں اور توقع ہیکہ اس کے بعد ہلاری کی امیدواری پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ ہلاری کے کردار اور دیانتداری پر بھی سوالات کا سلسلہ جاری رہے گا، ان کا اشارہ ان کاغذات کی جانب تھا جو اس وقت مسٹر شاہ کے قبضہ میں ہیں اور جسے بالآخر ری پبلکن کے نامزد صدارتی امیدوار کے حوالے کیا جائے گا۔ جس طرح ہلاری کلنٹن نے عیش و آرام کی زندگی گذاری ہے، ایسی امیدوار جدوجہد اور محنت کش امریکی عوام کے دکھ درد کو نہیں سمجھ سکتی۔ ان کی ناکامیاں بالآخر ان کی کامیابیوں پر حاوی ہوجائیں گی۔ جب موصوفہ امریکہ کی وزیرخارجہ تھیں اس وقت کے حالات کا بھی اگر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ان کی خارجہ پالیسی غیر مؤثر تھی۔ چاہے اب روس کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کا جائزہ لیں یا مشرق وسطیٰ میں جاری خونریزی کو دیکھیں، کہیں بھی آپ کو ہلاری کلنٹن کا کردار مؤثر نظر نہیں آئے گا۔ اسی طرح اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو بھی انہوں نے کس طرح استعمال کیا یہ بھی قابل غور ہے، بالخصوص خفیہ ای ۔ میل سرور جس نے انہیں مشکلات میں ڈالا۔ مزید کوئی تفصیل نہ بتاتے ہوئے انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں ہلاری کا جو رول رہا وہی ان کو تنقید کا نشانہ بنانے کافی ہے۔ اسی طرح انہوں نے ویرمونٹ کے سینٹر برنی سینڈرس کے بارے میں بھی کہا کہ ان کے خلاف بھی کئی انکشافات کئے جائیں گے جن کو بالکل تیار رکھا گیا ہے۔ بس مناسب وقت کا انتظار ہے۔ سینڈرس کی مجبوری یہ ہیکہ ان کے پاس کوئی تجربہ نہیں ہے۔ وہ کبھی بھی قومی دھارے کا حصہ نہیں رہے۔ مسٹر شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ فی الحال یہ کہنا ذرا مشکل ہیکہ نومبر میں منعقد شدنی انتخابات میں کس کی ہار زیادہ آسان ہوگی۔ کلنٹن کی یا سنڈرس کی۔ مسٹر شاہ نے سابق امریکی صدر جارج بش کی دوسری میعاد کے دوران بھی وائیٹ ہاؤس میں ریسرچ کے متعدد شعبوں میں خدمات انجام دی ہے۔

TOPPOPULARRECENT