Saturday , October 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ر29 ریاستوں کیلئے قابل تقلید رپورٹ پیش کرنے بی سی کمیشن کا تیقن

ر29 ریاستوں کیلئے قابل تقلید رپورٹ پیش کرنے بی سی کمیشن کا تیقن

معاشی تنگ دستی کے سبب مسلمانوں کی زندگی ابتر اور بدحال ، ونپرتی میں تفصیلی جائزہ کے بعد ڈاکٹر انجنیلو کا بیان
ونپرتی۔14 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بی سی کمیشن کے رکن ڈاکٹر انجنیلو گوڑ نے مسلمانوں کو 12% تحفظات کی فراہمی کے ضمن میں آج ضلع ونپرتی کا دورہ کیا۔ ضلع ونپرتی کے پیپر منڈل، دسری رنگابور منڈل میں مقیم مسلمانوں کے گھر گھر پہنچ کر ان سے بات کی۔ مسلمانوں کی سماجی و تعلیمی و معاشی ابتر صورتحال دیکھ کر بی سی کمیشن رکن ڈاکٹر انجنیلو گوڑ نے حیرت زدہ ہوئے۔ مسلمانوں کے علاقہ میں کچی سڑکیں، بوسیدہ مکانات، ٹھیلہ بنڈی پر کاروبار، ضروریات کی عدم تکمیل پریشان حال خاندانوں کی آب بیتی کو بی سی کمیشن کے رکن نے دیکھا اور سنا۔ آج ونپرتی مستقر کے گاندھی نگر، پرانا بازار، سواران اسٹریٹ کا انہوں نے دورہ کیا اور گھر گھر پہنچ کر مسلمان مرد و خواتین سے بات کی اور ہر گھر میں بیڑی ورکرس کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے، کیونکہ ہر گھر میں غربت کی وجہ سے مسلمان خواتین بیڑی بنانے کو اپنا پیشہ بنالیا ہے۔ اس موقع پر ونپرتی ضلع کے تمام سیاسی جماعتوں کے اقلیتی قائدین غلام قادر خان، محمد قمر میاں، محمد ارشد نے بی سی کمیشن کے رکن کو لے کر مسلم علاقہ کا دورہ کروایا۔ مسلمان خواتین اپنی ضروریات زندگی اور پریشانیوں کو بی سی کمیشن کے سامنے پیش کیا۔ کئی گھرانوں کو خواتین چلا رہی ہیں۔ شوہر کے انتقال کے بعد بیڑی بناکر زندگی بسر کررہے ہیں۔ ونپرتی میں 700 بیڑی ورکرس کے مسائل کو اقلیتی قائدین نے بی سی کمیشن کے روبرو پیش کیا۔ بیڑی ورکرس کو ماہانہ وظائف دینے سے انکار کیا جارہا ہے۔ 500 بیڑی ورکرس میں صرف 100 خواتین کو ہی وظیفہ دیا جارہا ہے۔ باقی 400 ورکرس کو PF نہ ہونے سے وظیفہ سے روکا گیا ہے۔ بی سی کمیشن کے سامنے تعلیمی پسماندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ معاشی تنگدستی کی وجہ سے طلباء و طالبات صرف SSC اور انٹرٹک تعلیم مکمل کرکے زندگی بسر کرنے کیلئے مزدوری کے کاموں میں لگے ہوتے ہیں۔ بعدازاں بی سی کمیشن کے رکن انجنیلو گوڑ نے اُردو گھر شادی خانہ میں نامہ نگاروں سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پورے ریاست تلنگانہ کے 32 ہزار سے زائد مسلمانوں نے 12% تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نمائندگی کی ہے۔ اس کے علاوہ اس ماہ کے 10 تاریخ تا 14 تاریخ کے درمیان 5 دن ریاست کے تمام اضلاع میں جہاں مسلمانوں کے علاقہ میں ان کا دورہ کرتے ہوئے ان کو درپیش مسائل سے واقفیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے پیش نظر بی سی کمیشن کے ایک عمر کی حیثیت سے ہیں۔ میڑچل، وقارآباد، رنگاریڈی، محبوب نگر، گدوال، ونپرتی و ناگرکرنول کا دورہ کیا گیا ہے اور ونپرتی ضلع کے مسلم علاقوں میں مقیم مسلم گھرانوں کا دورہ کیا گیا اور وہاں کے حالات کو دیکھا گیا جو قابل رحم ہے۔ مسلمانوں کے مسائل کو بی سی کمیشن کے ذمہ داروں کے سامنے پیش کرتے ہوئے ایک بہترین رپورٹ تیار کرتے ہوئے 29 ریاستوں کیلئے قابل تقلید رپورٹ ریاستی حکومت کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو بہت جلد پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پوری ریاست میں مسلمانوں کی حالت بہت ہی ابتر ہے۔ ایک گڈس اور چھوٹے چھوٹے بوسیدہ مکانات میں 10 تا 12 افراد زندگی گذار رہے ہیں۔ ریاض محمد نے اپنے نمائندگی میں بی سی کمیشن سے مطالبہ کیا کہ آزادی سے ہندوستان کو 70 سالہ عرصہ ہورہا ہے، لیکن ابھی تک مسلمانوں کو آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ مولانا شیخ خالد امام قاسمی صدر جمعیتہ العلماء، متحدہ ضلع محبوب نگر نے بی سی کمیشن سے نمائندگی کی۔ اس موقع پر محمد منیرالدین، محمد افضل الدین موجود تھے، جنہوں نے مسلمانوں کے حالت سے متعلق ٹھوس نمائندگی کرنے بی سی کمیشن سے خواہش کی۔ ان کے علاوہ جامع مسجدکمیٹی جامع مسجد تعمیری کمیٹی، جماعت اسلامی ہند، حج کمیٹی، ونپرتی، تمام سیاسی کانگریس، ٹی آر ایس، ٹی ڈی پی نے بی سی کمیشن کو مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یادداشتیں پیش کی۔ اس موقع پر مائناریٹی ڈسٹرکٹ ویلفیر آفیسر محمد عبدالحمید، وجئے کمار، محمد فیاض، سپریہ مائناریٹی ویلفیر، محمد افتخار احمد مسلم ریزرویشن فرنٹ صدر، محمد میاں، غلام قادر خان، محمد ارشد، محمد بابا، محمد عبدالصمد ، سردار خان، محمد عبداللہ، محمد عبدالغفار، محمد عبداللطیف، محمد منیرالدین، سعادت علی دستگیر، محمد جمیل احمد اور دیگر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT