Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / ر500 اور1000 روپئے کی نوٹوں کا چلن بند ہونے سے افرا تفری کا ماحول

ر500 اور1000 روپئے کی نوٹوں کا چلن بند ہونے سے افرا تفری کا ماحول

پٹرول پمپس اور اے ٹی ایمس پر ہجوم ‘ عوام کی طویل قطاریں۔ بعض اہم بازار اور کئی پٹرول پمپس و میڈیکل اسٹور قبل از وقت بند
حیدرآباد 8 نومبر ( سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے اچانک ہی منگل 8 نومبر کی نصف شب سے 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کے چلن کو روک دینے اور ان کرنسی نوٹس کی قانونی حیثیت کو ختم کرنے کے اعلان کے فوری اثرات مارکٹ اور بازاروں کے علاوہ عام آدمی پر بھی دیکھے گئے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے رات 8 بجے کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے 500 اور 1000 روپئے کی کرنسی نوٹوں کے چلن کو روکنے کا اعلان کیا تھا ۔ اس کے فوری بعد چند منٹوں میں سارے ملک کی طرح شہر میںبھی ہر طرف اسی بات کا چرچا شروع ہوگیا ۔ ہر مقام پر اسی تعلق سے تبادلہ خیال ہوتا ہوا دیکھا گیا ۔ اچانک ہی لوگوں میں افراتفری اور بے چینی کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی ۔ لوگ ایک دوسرے سے اس تعلق سے استفسار کرتے ہوئے دیکھے گئے ۔ عوام اپنے عزیزوں ‘ رشتہ داروں اور دوست احباب کو حکومت کے اس فیصلے سے واقف کروانے میں مصروف ہوگئے تھے ۔ حالانکہ حکومت نے رات 12 بجے سے ان نوٹوں کے چلن کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن 9 بجے کے بعد سے ہی بیشتر مقامات پر ان نوٹوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا گیا ۔ جب تک عوام میں یہ اطلاع عام نہیںہوئی تھی اس وقت تک ان نوٹوں کا چلن جاری تھا تاہم جب یہ اطلاع عام ہوگئی تو پھر اچانک ان نوٹوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا گیا ۔ بعض بڑی مارکٹوں میں تاجروں نے اپنی دوکانیں اور کاروباری ادارے بند کردئے ۔ شہر میں بیگم بازار ‘ عابڈز اور دوسرے بڑے تجارتی مراکز سمجھے جانے والے علاقوں میں دوکانیں فوری بند کردی گئیں۔ بعض تاجروں کا کہنا تھا کہ رات 12 بجے سے چند منٹ قبل تک ان نوٹوں کو قبول کرنے سے قانونی طور پر انکار نہیں کیا جاسکتا تھا اور اگر اس سے قبل قبول کیا جاتا تو پھر گاہک کی بجائے انہیں بینکوں کے چکر کاٹنے پڑتے ۔ اسی مسئلہ سے بچنے کیلئے انہوں نے معمول سے چند گھنٹے قبل ہی اپنا کاروبار سمیٹنے کا فیصلہ کرلیا تھا اور دوکانیں اور کاروباری ادارے بند کردئے گئے ۔ جیسے ہی یہ اطلاع عام ہوگئی اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایم مراکز اور پٹرول پمپس پر ہجوم دکھائی دینے لگا ۔ کچھ پٹرول پمپ مالکین نے اپنے پمپس بند کردینے کو ترجیح دی ۔ حالانکہ حکومت کے اعلان کے مطابق پمپس پرجن میں ریٹیل آوٹ لیٹس بھی شامل ہیں 11 نومبر کی رات 12 بجے تک 500 اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹس قبول کئے جانے چاہئیں لیکن بعض پمپ مالکین نے کسی وجہ کے بغیر اچانک ہی پمپس کو بند کردینے کا فیصلہ کیا ۔ جو پمپس کھلے رہے تھے ان پر عوام کی کثیر تعداد قطاروں میں دیکھی گئی ۔ چھوٹی بڑی تمام گاڑیاں یہاںقطار میں دیکھی گئیں۔ بعض افراد سے جب بینکوں میں موجود رقومات نکالنے کے تعلق سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ بینکوں سے صرف 400 روپئے تک کی رقم نکال رہے تھے جس میں انہیں 100 روپئے کی نوٹس دستیاب ہوسکتے تھے ۔ اتنی رقم نکالنے کا مقصد معمول کے اخراجات کیلئے پیسے حاصل کرنا تھا ۔ بعض ہوٹلوں اور دیگر کاروباری اداروں میں جہاں باضابطہ بلوں کی اجرائی عمل میں آتی ہے وہاں رات 12 بجے تک بھی اتنی مالیت کی کرنسی نوٹوں کو قبول کرنے کی اطلاعات ہیں ۔ شہر میں چھوٹے کاروباریوں اور ٹھیلہ بنڈی والے ہاکرس میں بھی جب اس تعلق سے معلومات عام ہونے لگیں تو انہوں نے ابتداء میں تو اس پر دھیان نہیں دیا لیکن بعد میں وہ بھی اس تعلق سے فکرمند ہوگئے اور انہوں نے بھی گاہکوں سے 500 اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹس قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ ٹھیلہ بنڈی والے ہاکرس اور ایسے چھوٹے تاجرین نے حکومت کے اس فیصلے پر خاص طور پر تشویش کا اظہار جن کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ہے ۔ یہ لوگ قرض حاصل کرتے ہوئے روزمرہ کی اشیا حاصل کرتے اور انہیں فروخت کرکے یہ قرض ادا کرتے ہیں۔ اب انہیں قرض واپس کرنے کیلئے حکومت کے فیصلے سے مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ حکومت نے سرکاری دواخانوں کی فارمیسی اور میڈیکل اسٹورس پر ان نوٹوں کو 11 نومبر کی نصف شب تک قبول کرنے کی اجازت دی ہے تاہم شہر میںکئی مقامات پر خانگی میڈیکل اسٹورس بند کردئے گئے جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات پیش آئیں۔

TOPPOPULARRECENT