Thursday , October 19 2017
Home / ہندوستان / زبانیں معاشرہ یا عوام سے ربط کے بغیر ناممکن : ارتضیٰ کریم

زبانیں معاشرہ یا عوام سے ربط کے بغیر ناممکن : ارتضیٰ کریم

نئی دہلی، 22نومبر (پریس ریلیز) اردو کاتعلق اور محبت آج لوگوں کے سر چڑھ کر بول رہی ہے اگرایسا نہ ہوتا تو قومی اردو کتاب میلہ اتنا کامیاب نہ ہوتا۔ یہ بات قومی اردو کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضی کریم نے اختتامی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس میلے کا آغاز 14 نومبر کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہاکہ 2013میں جہاں اردو کے 35  ناشر شریک ہوئے تھے وہیں 2015 میں  55 ناشر شریک ہوئے ہیں اور اسٹالز کی تعداد بڑھ کر 87ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ  2013میں جہاں30 لاکھ روپے کی کتاب فروخت ہوئی تھی وہیں  2015  ایک کروڑ روپے سے زائد کی کتابیں فروخت ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اردو کے تئیں لگاؤ میں عوام میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔قومی اردو کونسل اپنے قیام کے بعد پچھلے کئی برسوں سے ملک کے مختلف حصوں میں کتاب میلے کا انعقاد کرتی رہی ہے۔ ممبئی ، مالیگاؤں اور اورنگ آباد میں کتاب میلے کی جو پذیرائی ہوئی ہے وہ قابل رشک ہے۔ ان میلوں کی وجہ سے نہ صرف ناشرین کو مالی فائدہ پہنچا بلکہ کتابوں کی اشاعت میں ان کی دلچسپی بھی بڑھی، کتاب خریدنے والوں کو بھی نئے نئے موضوعات پر کم قیمت میں کتابیں دستیاب ہوئیں ان کے اندر بھی مطالعہ کاذوق پروان چڑھا۔ قومی اردو کونسل کے کتاب میلے کے انعقاد کا بنیادی مقصد معاشرے سے کتابوں کا ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے کیونکہ کتابیں ہی ہمارے ذہن کی کائنات کو وسعت بخشتی ہیں اور ہماری زندگی کو اقدار و آداب سے روشناس کراتی ہیں ۔ قومی اردو کونسل نے اپنے اس مقصد میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی ہے جس سے ناشرین کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے

 

اور قارئین کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہاہے ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں اٹھارویں کتاب میلے کا انعقاد بھی اسی مقصد سے کیا گیا تھا کہ یہاں لوگوں کی بہت بڑی تعدادایسی ہے جنھیں علم و ادب سے بے پناہ لگاؤ ہے اور جہاں مصنفین کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور طلبہ بھی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جن کا اوڑھنا اور بچھونا ہی کتاب ہے۔ اس کتاب میلے میںمختلف علوم و فنون کی اہم کتابیں دستیاب تھیں، مختلف موضوعات پر مستند اور معیاری کتابیں موجود تھیں اردو کے جتنے بھی ممکنہ موضوعات ہوسکتے ہیں ان تمام موضوعات پر مختلف ناشرین کی کتابیں نمائش اور فروخت کے لیے رکھی گئیں تھیں شاید ہی کوئی ایسا موضوع ہو جس پر کتاب میلے میں کتابیں موجود نہ ہو۔ ہر طبقے کی ذہنی سطح اور پسند کا خاص طور پر خیال رکھا گیا تھا۔
اردو کے علاوہ ہندی، انگریزی اور عربی کی کتابیں بھی تھیں ، شعراء کے دواوین بھی تھے، تراجم کی تعداد بھی خاصی تھی، بچوں کے ادب کا وافر ذخیرہ تھا سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پاکستان کی مستند اور معیاری مطبوعات بھی دستیاب تھیں۔ مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ شائقین کتب کے لیے یہ ایک سنہرہ موقع تھا جہاں انھیں بغیر کسی دشواری کے کم قیمت پر مطلوبہ کتابیں دستیاب تھیں۔ ناشرین اور مطبوعات کے لحاظ سے دیکھا جائے تو قومی اردو کونسل کا اٹھارواں اردو کتاب میلہ بہت ہی کامیاب رہا ۔ اس کتاب میلے کی ایک انفرادیت یہ بھی تھی کہسردار پٹیل جی شخصیت اور ان کی خدمات کے تعلق سے بھی نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا اس کے لیے کونسل جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ پروفیسر طلعت احمد اور جامعہ کے لائبریرین جناب محمد ہارون خان کی بھی مشکور ہے۔ فن خطاطی کے نمونے پہلے دن سے ہی عوام کی خصوصی دلچسپی کا باعث بنے ہوئے تھے۔ مقبول فدا حسین آرٹ گیلری میں رکھے گئے نادر و نایاب خطاطی کے نمونے دیکھنے کے لیے جامعات کے طلبہ و طالبات اور دیگر شعبوںسے وابسطہ خواتین و حضرات کی بھی بڑی تعداد میلے میں آرہی تھی۔ اس نمائش میں خطاطی کے ماہرین پروفیسر ظہوراحمد زرگر، انیس صدیقی، پروفیسر صدرعالم، پروفیسر معین فاطمہ نے آرٹ و ڈیزائنگ کے موضوع پر لیکچر دیے اور خطاطی کے رموز ونکات سے واقف کرایا۔اس کے علاوہ نو روز تک چلنے والے ثقافتی اور ادبی پروگرام بھی اس طور پر ترتیب دیے گئے تھے کہ اس سے اردو کے تیئںلوگوں کا ذوق و شوق بیدار ہو اور ان کی اپنی تہذیبی اور تمدنی وراثت سے آگہی میں اضافہ ہوا، خاص طور پر ان اصناف کے احیاء کی کوشش کی گئی جو رفتہ رفتہ معدوم ہورہے تھے یا جن کے تیئں دلچسپی کم ہوتی جارہی تھی ۔ بچوں کی تخلیقی صلاحیت کو اجاگر کرنے کے لیے بھی ان کی سطح کے پروگرام مرتب کیے گئے تھے تاکہ بچوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت ہو اور ان کے اندر بھی زبان وادب کے مطالعہ کا ذوق پروان چڑھے ، قومی اردو کونسل کا بنیادی مقصد ان پروگراموں کے ذریعے زبان و ادب کا فروغ تھا اور شاید اس میلے کے ذریعے کونسل اپنے اس پیغام کی ترسیل میں کامیاب رہی کہ زبانوں کو معاشرے یا عوام سے جوڑے بغیر زندہ نہیں رکھا جاسکتا۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے اردوسے عوام کو جوڑ کر اسی مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی اوربڑی حد تک کامیاب رہی۔ کتاب میلے میں جامعات کے طلبہ اور اساتذہ کے علاوہ عوام کا ہجوم تھا خاص طور پر وہ افراد جن کا براہ راست زبان و ادب کے شعبوں سے تعلق نہیں ہے انھوں نے کتاب میلے میں سرگرمی سے حصہ لیا یہ ایک خوش آئند پہلو ہے کہ اس کتاب میلے میں ایسے افراد نے میں شرکت کی۔اس موقع پر کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسرارتضی کریم نے بہترین ناشر کا انعام الحسنات بک ڈپو کو دیا جب کہ بہترین کلکشن کا ایوارڈ مشترکہ طور پر مکتہ جامعہ اور نیشنل بک ٹرسٹ کو دیا ۔

TOPPOPULARRECENT