Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / زبوں حال ناگرجنا ساگر (گلزار سے اجڑے دیار تک)

زبوں حال ناگرجنا ساگر (گلزار سے اجڑے دیار تک)

نفیسہ خان
پتہ نہیں بدلتے موسموں و ہمارے مزاج میں کیا مناسبت ہے کہ گلشن کی بہار کبھی خوشیوں کے ہیولیٰ میں جھلاجاتی ہے اور ہم سورج کی پہلی کرن کے ساتھ اپنے گھر کے اطراف شگفتگی و خوشبو پھیلاتی ہوا کے ہلکے سے جھونکوں سے جھومنے والی ڈالیوں پر کھلنے والے خوشنما پھولوں کو دیکھ کر سرشار ہوجاتے ہیں ۔ شبنم سے بھیگی سرسبز و شاداب گھاس پر ننگے پاؤں چہل قدمی کرتے ہیں تو دل و دماغ کو تازگی و سکون ملتا ہے تو کبھی اجڑا اجڑا موسم و منظر ہمیں اداسیوں کے سمندر میں غرقاب کرجاتا ہے ۔ پت جھڑ اور مرجھائے پتوں  وبے رنگ پھولوں کو دیکھ کر دل مضمحل ہوجاتا ہے اور اب تو پچھلے ایک سال سے ہمارے لئے تو صرف گرما اور موسم خزاں ہی معلوم ہورہا ہے ۔
ہندوستان کے مختلف مقامات پر ہمیشہ کی طرح سردی، گرمی ، بارش ، برفباری ، سیلاب کے مناظر بذریعہ ٹی وی نظروں سے گذرتے رہے لیکن ہم ساگر والوں کے لئے تو گویا صرف موسم گرم ہی رہا ۔ خداوند تعالی نے جیسے پانی نہ برسانے کا پکا ارادہ کرلیا ہو ، کبھی شمالی ہند میں طوفانی بارش تو کبھی پگھلتی برف نے مل کر ندیوں کو اپنے کنارے چھوڑ کر سیلاب کی صورت حال پیدا کرنے پر مجبور کردیا ۔ ہماری نظر تو بس مہاراشٹرا کے موسم پر رہتی ہے کہ کب وہاں جل تھل ہوجائے اور وہاں سے نکلنے والی سوکھی سمٹی کرشنا ندی پر شباب آجائے اور وہ بہتی ہوئی ہمارے علاقے کی طرف رواں دواں ہوجائے ۔ الماٹی ڈیم ، جرالہ ڈیم ، سری سیلم ڈیم کے ذخیرہ آب پانی سے لبریز ہوجائیں ، وہاں کی گیٹس کھول دی جائیں اور ہمارے ساگر کا Reserviour اپنی مکمل سطح آب یعنی 590 فٹ کو پہنچ جائے ۔ ڈیم کے عملے کی جانب سے سائرن بجنے شروع ہوجائیں کہ ہوشیار باش reserviour اور ندی کے کناروں پر موجود  لوگ اور مچھلیاں پکڑنے والے اپنے کشتی نما ٹوکروں کے ساتھ دور ہٹ جائیں کہ ڈیم کے دروازے کسی بھی وقت کھولے جاسکتے ہیں ۔ یہ منظر برسہا برس سے دیکھنے کے باوجود انچ انچ دروازوں کا کھلنا اور پرجوش پانی کا آبشار کی صورت گرتا ہوا پانی دیکھنا اہل محلہ کو ڈیم کی جانب دوڑنے پر اکساتا ہے ۔ لیکن اس بار ایسا کچھ نہ ہوسکا ۔ ندی سوکھ گئی ہر طرف ویرانی سی ہے ۔ یوں تو جون کے مہینے سے ہی گھنگھور گھٹائیں ہر روز چھائی رہیں اور بادل بہت نیچے اتر کر بارش کی پیش قیاسی کرتے رہے لیکن دوسرے ہی لمحے پورا منظر بدلتا رہا ۔ تیز ہوائیں بوندا باندی سے پہلے ہی بوجھل بادلوں کو اڑا لے جاتی رہیں ، کبھی بجلیاں اس طرح کڑکتی رہیں کہ نہ صرف بچے بلکہ بڑے بوڑھے بھی سراسیمہ ہوتے رہے ۔ ہم چونکہ ڈیم سے بہت قریب ہیں اور ڈیم میں نصب آلات میں اتنی طاقت وصلاحیت ہے کہ اطراف میں کئی میل تک کڑکتی بجلی کو جذب کرکے زمین میں منتقل کرسکتی ہے ۔ اس لئے ہم برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر کی فہرست میں انشاء اللہ شامل نہیں ہوں گے ۔ ہماری یہ خوش فہمی ہمیں ڈھارس بندھایا کرتی ہے۔

چند سال پہلے تک سیاحوں کیلئے ناگرجناساگر ڈیم تفریح و وقت گذاری کا سستاو  بہترین مقام سمجھاجاتا تھا ۔ Pylon Pillar جہاں پنڈت جواہر لال نہرو نے سنگ بنیاد رکھا تھا ، اس کے اطراف اور متصل خوبصورت پارک تھے ، وہاں سے ڈیم لبالب پانی سے بھرا Reserviour اور اس میں غروب آفتاب کا نظارہ د لوں کو موہ لیتا تھا ۔ شفق کی لالی ، جھلملاتا پانی اور اس میں آگ کا گولہ بن کر ڈوبتا سورج ، شہری زندگی گذارنے والوں کی تھکن دور کرکے طمانیت پہنچاتا تھا ۔ حد نظر تک پانی کے اس پار سیاہی مائل پہاڑیوں کا دور تک پھیلا سلسلہ آتش سورج کے ڈوبنے کے منظر کو دلکش بنادیتا تھا  ۔اب یہ سارے منظر ہیں لیکن سیاح رسائی سے محروم ہیں کیونکہ اب یہ تمام راستے پتھر سیمنٹ کی اونچی دیواروں سے بند کردئے گئے ہیں اور ان پر سیکورٹی کی solar fencing system ہے یہاں کوئی مشتبہ نقل و حرکت بھی دور بیٹھے SPF کے عملے کو مشکوک کرسکتی ہے کیونکہ لال بتی جل اٹھتی ہے جو اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ کہیں کوئی سیکورٹی کی خلاف ورزی کررہا ہے ۔ خدا نہ کرے کہ کوئی سیاح دہشت گردی کی فہرست میں شامل ہوجائے ۔ اس لئے اب سیاح آتے ہیں مایوس لوٹ جاتے ہیں۔ مقامی محکمہ جات کا عملہ ہو ، محکمہ سیاحت ہو یا ریاستی حکومت ہو کہ مرکزی حکومت سب مل کر ناگرجنا ساگر کو ایک خوبصورت تفریحی مقام بنانے کی بجائے اجڑا دیار بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ جو بھی ماضی میں حسن و شادابی تھی باغات و سرسبزی تھی وہ بھی نگہداشت نہ ہونے سے ویران ہوچکی ہے ۔ پائلان پارک میں اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد کے قریب ایک mini model dam تھا جو اتنی خوبصورتی سے بٹایا گیا تھا کہ اسے دیکھ کر سیاح کو اس سے متعلق ہر بات کا علم ہوتا تھا  ، جو ٹوٹ پھوٹ کر مٹی میں مل گیا ہے ۔ view point کے مقام پر بڑے سے شیڈ میں دو طرف کمروں میں ساگر کی 60 سالہ تاریخ بذریعہ تصاویر اور مشنری کے ماڈلس چالو حالت میں صحیح کارکردگی کی عکاسی کرتے تھے جو ہر آنے والے کی دلچسپی کا باعث تھا ۔ وہ بھی غفلت و لاپروائی کی وجہ سے بیکار ہوگئی ہے ۔ پھولوں سے لدے چمن ، ہرے بھرے لان ، ناگرجنا کنڈہ میوزیم میں ہمہ اقسام کے گلابوں کے پودوں کے تختے ، مہکتے پارک و کیاریاں اب دھول اڑا رہی ہیں ۔ سایہ دار درخت ہیں لیکن صفائی کا کوئی انتظام نہیں ۔ محکمہ صحت مفلوج ہے  ۔خاکروب صبح سویرے حاضری ڈلوانے ضرور  آتے ہیں لیکن جھاڑو دیتے ہوئے نظر نہیں آتے ۔ پہلے ایک انسپکٹر سڑکوں وگلیوں میں اپنی نگرانی میں جھاڑو دلوایا کرتے تھے ۔ ہری بھری گھاس کے لان تک نہیں کہ سیاح بیٹھ کر سستاسکیں ، بچے کھیل کود سکیں اور عورتیں شطرنجیاں بچھا کر توشے داں کھول کر دستر سجاسکیں ۔ اگر کہیں آپ نے دھول مٹی میں بیٹھ کر ہی سہی کچھ کھانے پینے کی کوشش کی تو کتے  ،خنزیر اور بندر آپ کا محاصرہ کرلیں گے ۔ بندروں کے غول کے غول آپ کا جملہ اثاثہ نہ صرف لوٹ لے جائیں گے بلکہ آپ کو زخمی کرکے ہزاروں روپے کے انجکشن لینے پر مجبور کردیں گے ۔ اپنے اپنے گھروں کے آنگن میں رات دن کی محنت سے سینچے گئے پھل پھول ، میوہ ، ترکاری کو کھاجائیں گے ۔ گھروں میں گھس کر میوہ ، دودھ کے پیکٹ ، ڈائننگ ٹیبل سے اور باورچی خانے سے کھانے ، سالن ، روٹی کے برتن اٹھالے جائیں گے ۔ الگنی پر سوکھ رہے کپڑوں کوپھاڑ ڈالیں گے ۔ یہاں رہنے والے لوگ بڑے صابر و شاکر ہیں ، آفیسروں یا حکومت کے خلاف نہ احتجاج نہ دھرنے نہ سنگباری کریں گے ۔ اس لئے سب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔ ساٹھ سالہ ساگر کوئی گاؤں ،کھیڑہ نہیں ہے ۔ پکی سڑکیں ، پکے گھر سب ہیں لیکن شہر کی سہولیات ، تعلیم ، تفریح ، صنعت و ملازمت کے مواقع سے یکسر بے نیاز ہے ۔ یہاں اب تک کوئی ڈگری کالج تک نہیں ، جبکہ اطراف میں بے شمار خانگی اسکولس ، ڈگری و انجینئرنگ کالج ہیں ۔ بسیں صبح سات بجے بچوں کو لیکر 50 تا 60 کیلومیٹر کا سفر طے کرکے جاتی ہیں اور اتنا ہی سفر طے کرکے شام بلکہ رات سات بجے واپس لاتی ہیں ۔ تعلیم کے دلدادہ بچے یاہ تکلیف اٹھاتے ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے اسکالرشپ ہیں ، فیس کی تلافی ہوجاتی ہے ،جو لڑکے پڑھنے لکھنے سے دور بھاگتے ہیں وہ گٹکھا کھا کر گڑمبہ پی کر ، جوا کھیل کر ، وقت گذارتے ہیں اور شرفاء کا جینا حرام کئے ہوئے ہیں ۔ چھوٹی موٹی کمپنیاں ، فیکٹریاں قائم ہوں تو کئی عورت مرد اپنی غربت دور کرسکیں ۔ اس چلچلاتی دھوپ میں یومیہ مزدوری پر مرچ و کپاس کے کھیتوں میں کام نہ کرنا پڑے۔ گھریلو صنعتیں بھی غربت کا خاتمہ کرسکتی ہیں ۔

کئی ایک عمارتیں و گھر اب صرف دیواروں کی شکل میں کھڑی ہیں  ۔ ان پر کے اسبسطاس ، دروازے ، کھڑکیاں ، لاکھوں روپیوں کے ساگوان کے شہتیر ، برقی پنکھے ، پائپ سب کچھ لوگ لے اڑے ۔ کم از کم غریب افراد کو یہ گھر دے دیئے جاتے تو یہ گھر یوں برباد نہ ہوتے ۔ بعد میں کئی ایک چھوٹے گھروں کو صرف دو سو اور تین سو روپے میں کانگریس حکومت نے دیدیا اور اب لوگوں نے اس کی تزئین نو کرکے اس کو لاکھوں کا بنادیا ہے ۔ اللہ اللہ اب پالی ٹکنیک کی نئی عمارت تکمیل کو پہنچی ہے ۔ بی ایڈ کالج اپنے اکلوتے لکچرر کے ساتھ دم توڑ رہاہے ۔ دو سالہ کورس کی وجہ سے 130 طلبہ کے بجائے اب صرف 30 لڑکے ،لڑکیاں ہیں ۔ جن میں سے پندرہ بھی روز حاضر نہیں رہتے ۔ سالہا سال ہزاروں مزدور و آفیسرس کا عملہ جس سرکاری دواخانے سے مستفید ہوتا تھا اور بے شمار ڈاکٹرس ، نرس جہاں پوری تندہی و ایمانداری سے یہیں رہ کر رات دن اپنی ڈیوٹی اپنے فرائض انجام دیا کرتے تھے ، وہاں اب کوئی قابل اعلی ڈگریوں سے لیس ڈاکٹر رجوع ہونے کو تیار نہیں ۔ شہروں میں خانگی دواخانوں میں لاکھوں کی آمدنی کی چاہ رکھنے والے بھلا دیہاتوں میں کام کرنا کیوں پسند کریں گے ۔ نہ تو یہاں ڈھنگ  کے آپریشن تھیٹر ، نہ لیبرروم ، نہ دوائیں ، نہ آلات دستیاب ہیں ۔ بیچارے ڈاکٹرس کریں بھی کیا ؟
چالیس پچاس سال سے کام کرنے والے سرکاری ملازمین گھروں سے بے دحل ہوگئے ، جائز مطالبات کی فائلیں وزیروں کی میزوں پر کارروائی کی منتظر ہیں ۔ بروقت کارروائی نہ ہونے سے اب من مانی کا یہ حال ہے کہ حکومت و عہدیداروں کی سردمہری سے باقی لوگ سرکاری املاک کو اوقاف کی جائیداد کی طرح بیچ کر یا قبضہ کرکے لاکھوں کمارہے ہیں اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ اور بولنے والے تشدد کا نشانہ بنتے ہیں ۔ مقامی محکموں کے تحت چلائے جانے والے خوبصورت گیسٹ ہاؤس جن میں lake view ، Sethu sadan تھے جہاں راج کپور نے اپنی فلم ’’ستیم شیوم سندرم‘‘ کے نقطۂ عروج کا سین فلمانے اپنا ٹھکانہ بنالیا تھا اور ان میں شوٹنگ بھی کی تھی ۔ کئی ایک تلگو پکچرس کی شوٹنگ بھی ہوا کرتی تھی ، اب مٹی کا ڈھیر بن گئے ہیں ۔ صرف ایک River view guest house محکمے کے تحت ہے ، لیکن بدتر حالت میں ہے ۔ سرکاری مکانات پر خانگی لوگ قابض ہیں اور نئے تبادلہ ہو کر آنے والوں کو رہنے کا ٹھکانہ نہیں ہے ۔ پچھلے چالیس سال میں کتنی حکومتیں بدلیں لیکن نہ ساگر کی رونق لوٹائی نہ یہاں رہنے والوں اور خصوصاً نئی نسل کی ضروریات زندگی کا سامان بہم پہنچایا جاسکا ۔

اب ماہ جون سے کرشنا پشکرم کا آغاز ہے ۔ کروڑوں روپوں کی ہیرا پھیری ہونے والی ہے ۔ سیکورٹی کے نام پر Reserviour محصور ہے اور کرشنا ندی سوکھ کر نالے سے بدتر ہوگئی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ مذہبی  تہواروں کیلئے کہاں تک چھوٹ دی جاتی ہے ۔ پیسہ یہاں کیسے خرچ کیا جاتا ہے ۔ اے کاش کم از کم اب حکومت خواب غفلت سے جاگے اور ساگر کو اسکا کھویا ہوا حسن ، لوگوں کو ضروریات زندگی کے ساتھ جینے کا حق عطا کرے ۔ ساگر کی نئے سرے سے تزئین نو کریں نہ کہ تھوک پالش سے کام لیں ۔ بندروں کی بہتات نے جینا دو بھر کردیاہے ۔ دنیا داعش سے خوفزدہ ہے اور ہم ان بندروں کی دہشت گردی سے پریشان ہیں ۔ ہم التجا کرتے ہیں کہ ہمیں بھی ان دہشت گردوں سے نجات دلائیں جن کی آبادی دن دونی رات چوگنی ترقی کررہی ہے ۔ جو بھی ساگر آنا چاہتا ہے ہم انہیں سختی سے منع کردیتے ہیں کہ خدارا یہاں نہ آؤ کہ یہاں دیکھنے لائق کوئی چیز نہیں ۔ صرف 45 منٹ لاؤنچ کا سفر میوزیم تک پہنچاتا ہے ۔ یہاں سوا سو روپے ٹکٹ دے کر پرانے مٹی کے برتن اور آثار قدیمہ دیکھ کر عام سیاح کو مایوسی ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ آپ جب کشتی سے اترتے ہیں تو سطح آب اس قدر کم ہوگئی ہے کہ آپ کو پتھریلے راستوں سے کافی اوپر تک چڑھائی کرنی پڑتی ہے ، جو ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ مسئلہ رہائش کا بھی ہے ۔ متوسط طبقے کیلئے کوئی خاطر خواہ ہوٹل نہیں ۔ ہل کالونی بس اسٹانڈ پر ٹورازم کا پراجکٹ ہاؤس یہ جہاں پانچ چھ سو میں کمرہ مل سکتا ہے اور Meals کے نام پر 70 روپے میں  پیٹ بھرا جاسکتا ہے یا پھر وجئے وہار ہے ، جہاں یومیہ 3,500 روپے سے زیادہ کرایہ پر کمرے مل سکتے ہیں ۔ ان کی بکنگ حیدرآباد کے ٹورازم آفس سے کروائی جاسکتی ہے اور یہی مناسب ہوتا ہے تاکہ بعد میں پریشانی سے بچ سکیں ۔ رائٹ بینک کالونی کے لاؤنچ اسٹیشن کے پاس ایک ہوٹل ہے جہاں کھانے اور رہنے کا انتظام ہے ۔ یہی غنیمت ہے کہ یہاں سے بیک وقت ڈیم Reserviour لاؤنچ اسٹیشن و میوزیم تک سفر ، اتی پوتلا واٹر فال سب کچھ دیکھنے کی سہولت  ہوتی ہے ورنہ ہل کالونی ۔ پائلان کالونی میں دیکھنے کے قابل کچھ نہیں ۔ یا پھر اندھوں میں کانا راجہ Budha vanam ہے ۔ ہل کالونی میں تمام بدھ مت کو ماننے والے ممالک کے تعاون و اشتراک سے پندرہ بیس ایکڑ رقبے پر اپنی عبادت گاہیں، Stupas اور بدھ مت کی تبلیغ کے مجسمے باغات کے درمیان سجا رہا ہے ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے متصل سدھارتا ہوٹل ہے ۔ وہاں غنیمت ہے کہ ناشتہ ، کھانا ، چائے ، مشروبات مل جاتے ہیں ۔ ساتھ میں چند guest houses بھی ہیں جن کا کرایہ بھی بہ نسبت وجئے وہار ہے ۔ آجکل مقامی لوگ بھی آبادی سے دور واقع اس مقام پر کچھ وقت گذار کر اپنی محرومیوں کو بھلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ حیدرآباد سے آنے والوں کو دور ہی سے پہاڑی پر stupa نظر آجاتا ہے ۔ قریب پہنچنے پر parvatha aroma جلی حروف میں نظر آتا ہے ۔ لیکن جب شہر حیدرآباد کے اطراف خوبصورت Resorts ہوں تو ہزاروں روپے اور تین گھنٹے بذریعہ کار اور چار گھنٹے بذریعے بس برباد کرکے اتنی دور آکر زحمت اٹھانے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی ۔ ہم ہر ایک کو ہر بات سے واقف کروانے کے باوجود وہ آتے ہیں اور جاتے ہوئے ہمیں صلواتیں سنا کر جاتے ہیں کہ اس اجاڑ پتھریلے مقام پر آخر ابھی کتنے سال رہنے کا ارادہ ہے ۔ یہاں کوئی سہولت نہیں اس عمر میں ہمیں ڈاکٹروں اور دواخانوں کے قریب رہنا چاہئے اور ہم کہتے ہیں کہ ضعیفی میں گھر تو بس مسجد کے قریب ہو باقی سب اللہ دیکھ لے گا ۔ ہم یہ گھر یہ مقام چھوڑنے والے نہیں ہیں ، کیونکہ

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پر بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھانے میں ہی مرجاتے ہیں
حالانکہ جب ماں باپ کے گھر سے وداع ہو کر اپنا خود کو گھر بسانے حیدرآباد چھوڑنا پڑا تھا تو اس وقت سب کو یہ دوری امریکہ جیسی لگتی تھی اور میں سوچتی تھی کہ اتنی دور سب سے بچھڑ کر سیمنٹ ، پتھر ، ریت کی بستی میں کیسے رہ پاؤں گی ۔ لیکن آج سوچتی ہوں کہ اگر شہر حیدرآباد ہی میں رہ جاتی تو زندگی کی صحیح عکاسی کرنے والی حقیقتوں سے محروم رہ جاتی ۔ ہندوستان بھر کے مختلف مقامات سے آکر بس جانے والے الگ الگ مذاہب ، زبان ، عقیدہ ، رسم و رواج کے ساتھ میرے اٹھنے بیٹھے سے ہر مذہب کی خوبیوں و خامیوں کا مجھے بخوبی اندازہ ہوتا گیا اور ایک بات تو ذہن نشین ہوگئی کہ ہر انسان کی فطرت میں اس کے خمیر میں پیار و محبت ہے جو وہ حاصل کرنا اور دوسروں کو بانٹنا بھی چاہتا ہے لیکن حالات و ماحول اس میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں ۔ یہاں ساگر کے ماحول میں مجھے بنا روک ٹوک بہترین کام کرنے کے مواقع ملے ، جس کا مجھے  بھرپور صلہ ملا ۔ خلوص ، اپنائیت  ،عزت و احترام ملا ۔ اپنی ہر کامیابی و ایوارڈس کے بعد خوشی و طمانیت سرشاری ملی ، سکون ملا اور اسی سکون کی خاطر ہم یہاں ہیں جو شہر میں کم از کم ناپید ہے ۔ ہم کہتے ہیں اور اس بات پر قائم بھی ہیں کہ جس کو جہاں سکون ملے وہ وہاں رہے ۔ اور سچ پوچھئے تو مجھے میرا ساگر ، میرے گھر کے در و دیوار ،  ہر پودے ، ہر درخت ، ہر منڈوے چڑھیں بیلوں سے والہانہ عشق ہے کیونکہ
سینچی ہیں دل کے خون سے میں نے یہ کیاریاں
کس کی مجال ، میرا چمن مجھ سے چھین لے

TOPPOPULARRECENT