Thursday , September 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / زراعت کی غیریقینی صورتحال کسانوں کی خودکشی کا اہم سبب

زراعت کی غیریقینی صورتحال کسانوں کی خودکشی کا اہم سبب

کلبرگی۔4 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کسانوں کے قائدین اور ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ علاقہ حیدر آباد کرناٹک کے اضلاع میںان دنوں جو کسان بڑی تعداد میں خودکشی کررہے ہیں اس کا سبب اس علاقہ کی پسماندگی اور زرعی وصنعتی شعبہ میں ترقیات کا فقدان ہے۔ ماہرمعاشیات محترمہ پروفیسرسنگیتا کٹی منی نے ایک صحافتی بیان میں کہا ہے کہ علاقہ میںبارش کی کمی ہے لیکن اس کے باوجودیہاں بہت ہی کم علاقہ کو آب پاشی کی سہولت حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ علاقہ میں بارش کی غیر یقینی کیفیت اور بہت کم پیداوارکے سبب کسانوں کے لئے زراعت ایک جوا بن گئی ہے۔ پروفیسر کٹی منی نے کہا کہ آب و ہوا کی غیر موافقت، قرضوںکی اجرائی کی غیر یقینی کیفیت ، اجناس کی قیمتوں کے میکانزم کی غیر یقینی کیفیت کے علاوہ کسانوںکے لئے زندگی گزارنے کے اور کوئی دوسرے ذرائع موجود نہ ہونے کے سبب ان کے لئے زراعت آمدنی کا ایک غیر یقینی ذریعہ بن گئی ہے۔ انھوںنے کہا کہ گلوبلائیزیشن کے سبب زراعت مہنگی ہوگئی ہے۔ بیج،کھادیں اور جراثیم کش دوائیں جو پہلے مقامی طور پر خریدی جاتی تھیں اب کارپوریٹ گھرانوںکی جانب سے فروخت کی جارہی ہیں وہ سب مہنگی ہو گئی ہیں ۔ ان تمام باتوںکے سبب اور ماحولیات کے غیر یقینی اندازکے سبب، فصلوں کے نقصانات اور غیر یقینی آمدنی سے کسانوں کی زندگی پر جو اثرات مرتب ہورہے ہیں وہ انھیں مایوسی کا شکار بنارہے ہیں اور جس کے نتیجہ میں وہ خود کشی کی طرف مائل ہورہے ہیں ۔ صدر کرناٹک ریڈ گرام گروورس اسو سی ایشن مسٹر بسوراج انگن نے کہا ہے کہ یکے بعد دیگرجوحکومتیں بدلتی رہیںانھوںنے فصلوں کو بہتر بنانے میں کوئی مدد نہیںکی ۔ خاص طور پر لال چنے تور کی فصلوںپر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ تور دال کی فصلیں اس علاقہ کے کسانوں کی اہم فصلیںہوا کرتی ہیں ۔ ان فصلوں کو بڑھاوا دینے کیلئے نہ تو کوئی تحقیقاتی کام ہوئے اور نہ ہی ترقیاتی کام انجام دئے گئے ۔ انڈئین کونسل آف اگریکلچرل ریسرچ بھی اس معاملہ میں کوئی پیش قدمی نہیںکی جبکہ گزشتہ بیس برسوںسے حکومتیں دعوے کررہی ہیں کہ تحقیقاتی اور ترقیاتی کاموںکیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈس جاری کئے گئے ہیں ۔ اس موقع پر کسانوںکے ممتاز قائد ماروتی ان پاڑے نے کہا کہ قومیائے ہوئے بینکوں ، کو آپریٹیو بینکوںاور سوسائٹیوں کی جانب سے کسانوں کو مناسب قرضوںکی اجرائی کے معاملہ میںحکومت کی ناکامی کے سبب ہی علاقوں میں کسانوں کو خانگی فائنانسروں اور قرضہ دینے والے سود خور افراد سے قرضے حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT