Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / زرعی شعبہ میں عصری آلات کے استعمال کی مساعی

زرعی شعبہ میں عصری آلات کے استعمال کی مساعی

وزیر زراعت پوچارام سرینواس کا اسمبلی میں جواب
حیدرآباد۔21ڈسمبر(سیاست نیوز) ریاست میں زرعی ترقی کیلئے کسانوں کو عصری سہولتوں سے لیس کرنے کے علاوہ انہیں عصری آلات کے استعمال کے ذریعہ زرعی مشورے دیئے جا رہے ہیں۔ ریاست کی بیشتر دیہی آبادی زراعت پر انحصار کرنے والی آبادی ہے جس کے مفادات کے تحفظ کیلئے حکومت کی جانب سے کئی اقدامات بالخصوص قرض معافی کے علاوہ کھاد و تخم کی سربراہی کو مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ریاستی وزیر زراعت مسٹرپوچارم سرینواس نے اسمبلی میں مختصر مدتی مباحث میں حصہ لیتے ہوئے یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں اگریکلچر انفارمیشن تھرو انٹرنیٹ کے ذریعہ رسائی حاصل کرتے ہوئے انہیں لائسنس منیجمنٹ کے متعلق بتایا جا رہا ہے۔ وزیر زراعت نے بتایا کہ تمام کسانوں کا آن لائن ڈاٹا تیار کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت حکومت تلنگانہ کی جانب سے کسانوں کو تخم کیلئے قرض کی فراہمی عمل میں لائی جا رہی ہے۔انہوںنے مزید بتایا کہ ریاست میں کسانوں کے ایک لاکھ تک کے زرعی قرضہ جات کی معافی سے 35.30لاکھ کسانو ںکو فائدہ حاصل ہوا ہے۔ حکومت تلنگانہ نے اس مقصد کیلئے 12105.16کروڑ تین اقساط میں جاری کئے ہیں۔ مباحث کے دوران کیپٹن اتم کمار ریڈی رکن اسمبلی کانگریس نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں 2014کے بعد سے زرعی پیداوار میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے ‘ اسی طرح کسانوں  کے قرض معافی رقومات اور انہیں تخم کی سربراہی میں بھی بتدریج گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے گذشتہ ڈھائی برسوں کے دوران کسانوں کی خودکشی کے واقعات کی تفصیل ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ہزاروں کسان خودکشی کر چکے ہیں اس کے باوجود یہ کہا جا رہا ہے کہ ریاست میں کسان خوشحال ہیں۔ کیپٹن اتم کمار ریڈی نے وزیر زراعت کی جانب سے کسانوں کے قرض معافی مسئلہ پر دیئے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کسانو ںکے مکمل قرضہ معاف کرنے کا چیف منسٹر نے اعلان کیا تھا لیکن اس کے باجود اس پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی۔علاوہ ازیں چیف منسٹر نے انتخابی مہم کے دوران اقتدار حاصل کرنے پر اندرون 100یوم نظام شوگر فیکٹری کے احیاء کے اعلان کئے تھے لیکن اس مسئلہ پر بھی کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔مسٹرپوچارم  سرینواس نے مباحث کے دوران بتایا کہ ریاست تلنگانہ ہلدی کی پیداوار میں سر فہرست ہے۔ انہوںنے ترکاری اور پھولوں کے سنٹر آف ایکسلنس کے قیام کے لئے 9کروڑ روپئے منظور کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ریاست میں مصالحہ پارک کے لئے بھی حکومت کی جانب سے کسانوںکو تعاون کیا جا رہا ہے۔مباحث کے دوران کیپٹن اتم کمار ریڈی کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ کسان دوست حکومت ہے اور کسانوں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔ مجلسی رکن اسمبلی مسٹر معظم خان نے بھی کسانوں کے مسائل پر منعقدہ مختصر مدتی مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کسانوںکے مسائل کو حل کیا جانا چاہئے۔ انہوںنے کسانوں کے قرض معافی اسکیم میں تیسری اور چوتھی قسط کی اجرائی کے متعلق حکومت سے استفسار کیا جس پر ریاستی وزیرزراعت نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ تیسری قسط ادا کی جا چکی ہے۔ قائد مقننہ بھارتیہ جنتا پارٹی مسٹر جی کشن ریڈی نے بھی مباحث میں حصہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT