Tuesday , July 25 2017
Home / ہندوستان / زرعی قرضوں کی معافی کے مصارف ریاستوں کو ہی برداشت کرنا ہوگا

زرعی قرضوں کی معافی کے مصارف ریاستوں کو ہی برداشت کرنا ہوگا

لیت و لعل کے شکار قرضوں کی بازیابی کیلئے غیرکارکرد اثاثوں کی قرارداد پر جلد کارروائی : جیٹلی
نئی دہلی ۔ 12 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیرفینانس ارون جیٹلی نے کہا ہیکہ ریزرو بینک آف انڈیا اب قرض حاصل کنندگان کی فہرست کی تیاری کے ایک اہم مرحلہ میں پہنچ گئی ہے جہاں دیوالیہ سے متعلق قانون کے تحت غیرکارکرد اثاثوں کی قرارداد کی ضرورت ہوتی ہے اور اس ضمن میں بہت جلد کارروائی متوقع ہے۔ 1949ء کے بینکنگ باقاعدگی قانون میں ترمیم کے ساتھ گذشتہ ماہ آرڈیننس جاری کیا گیا تھا جس کے ذریعہ ریزرو بینک آف انڈیا کو ناقابل وصولی سمجھے جانے والے اختیار دیا گیا تھا۔ ناقابل وصول سمجھے جانے والے قرضوں کی بازیابی کیلئے دیوالیہ کی کارروائی شروع کرنے بینکوں کو ہدایت دینے کیلئے حکومت نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو بااختیار بنایا تھا اور این پی اے مسئلہ کی یکسوئی کیلئے مزید اقدامات کا وعدہ کیا گیا تھا۔ جیٹلی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’جدید جاری کردہ آرڈیننس کے تحت آر بی آئی ان مقروض افراد کی فہرست کی تیاری کے آخری مرحلہ میں پہنچ گئی ہے جہاں تلاشی اور دیوالیہ کے ضابطہ کے تحت قرارداد یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے اور آپ بہت جلد اس کے بارے میں سنیں گے‘‘۔ جیٹلی نے جو عوامی شعبہ کی بینکوں کے سربراہان کے اجلاس کے بعد میڈیا سے خطاب کررہے تھے، مزید کہا کہ ’’جہاں تک موجودہ اجلاس کا تعلق تھا اس میں بینکوں کا اتحاد و استحکام ایجنڈہ میں شامل نہیں تھا لیکن میں آپ سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم اس ضمن میں سرگرمی کے ساتھ کام کررہے ہیں‘‘۔ جیٹلی نے اس بات پر کوئی شبہ کی گنجائش کو باقی نہیں رکھا کہ زرعی قرضوں کی معافی کے معاملہ میں مرکزی حکومت ریاستوں کی مالیاتی ذمہ داریوں کا حصہ نہیں رہے گی اور قرضوں کی معافی کے مصارف ریاستوں کو ہی برداشت کرنا ہوگا۔ ان کے اس ریمارکس کو حکومت مہاراشٹرا کی طرف سے زرعی قرض معاف کرنے گذشتہ روز کئے گئے اعلان کے تناظر میں نمایاں اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ اس دوران مدھیہ پردیش کے کسان بھی ایسی ہی راحت کا مطالبہ کررہے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT