Thursday , August 24 2017
Home / اداریہ / زعفرانی انقلاب کی باتیں

زعفرانی انقلاب کی باتیں

وزیراعظم نریندر مودی نے ملک میں زعفرانی انقلاب لانے کی بی جے پی کیڈرس سے اپیل کرتے ہوئے تلنگانہ میں اپنی پارٹی اور خود کے عزائم کا بھی اشارہ دیا ہے۔ اس سال یوم آزادی کا جشن منانے کے بارے میں مودی نے حیدرآباد میں بھی 15 اگست سے 17 ستمبر تک ایک یوم آزادی جشن منانے کا مشورہ دیا۔ تلنگانہ میں بی جے پی کے امکانات کو قوی کرنے کے منصوبہ کا در پردہ اشارہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے پہلے دورۂ تلنگانہ میں زعفرانی انقلاب کی باتیں کی ہیں۔ سقوط حیدرآباد کی تلخ یادوں کو کریدتے ہوئے بی جے پی کیڈرس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ تلنگانہ کو زعفرانی پارٹی کی لہر میں مبتلا کردینے کا خواب پارٹی کے سربراہ کے لئے غور طلب ہے۔ ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کیلئے پارٹی کیڈرس کو ایک زعفرانی انقلاب لانے کا بھی مشورہ دیا۔ خاص کر ریاست تلنگانہ میں بی جے پی کے مستقبل کو مضبوط بنانے کے عزم کے ساتھ مودی نے یہ دورہ کیا ہے۔ انہوں نے تلنگانہ میں مختلف پراجیکٹس کے سنگ بنیاد رکھنے کے ساتھ بی جے پی کے مستقبل کا بھی سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ سیاسی پنڈتوں نے وزیراعظم کی تقریر میں بی جے پی کے مستقبل کے لئے ان کے منصوبوں کو بھی بھانپ لیا ہے۔ فتح میدان پر یوتھ لیول کے ورکرس سے خطاب کرتے ہوئے مودی کا نکتہ نظر ملک اور عوام کی ترقی سے زیادہ پارٹی اور زعفرانی انقلاب لانے پر مرکوز تھا۔ سقوط حیدرآباد کے دن 17 ستمبر تک ریاست تلنگانہ میں یوم آزادی کا جشن منانے کا مشورہ دیتے ہوئے مودی نے تلنگانہ کی حکمران پارٹی تلنگانہ راشٹر سمیتی کے ساتھ بی جے پی کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب کوشش کرنے کا بھی اشارہ دیا۔ تلنگانہ اب بی جے پی کے لئے سیاسی اعتبار سے بہت اہم ریاست ہے۔

اس ریاست میں تحریکوں کا دور ختم ہوا تو اب سیاسی ہنگاموں کا دورہ شروع کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ وزیراعظم مودی کے اس جلسہ نے تلنگانہ کی سیاست کا رخ پھیر دینے میں کامیابی حاصل کرلی تو پھر جنوبی ہند میں بی جے پی کے قدم مضبوط کرنے میں انہیں کامیابی ملے گی۔ سیکولر عوام کے ووٹوں سے منتخب ٹی آر ایس محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر زعفرانی طاقتوں کو پروان چڑھنے میں مدد کررہی ہے تو یہ غلط ہے۔ عوام فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں۔ آج انہیں اقتدار کے حصول کے بعد جو پالیسیاں اور پروگرامس تیار کرنے تھے، انہوں نے عدم رواداری، گائے کا گوشت، تبدیلی مذہب اور یونیورسٹی کے تعلیمی نظام کو درہم برہم کرنے کی پالیسیوں کو اہمیت دینی شروع کی ہے تو یہ افسوسناک تبدیلی ہوگی۔ اس سے قطع نظر موجودہ حالات کے اندر یہ سوال کن عوامل کی بنیاد پر زیربحث لایا جارہا ہے۔ قومی سطح پر گاؤکشی اور دلتوں پر حملے کے مسئلہ نے مرکزی حکومت کی شہرت کے گراف کو گھٹا دیا ہے اور واقعہ یہ ہے کہ بی جے پی نے قومی مزاج میں اپنی زعفرانی سوچ کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی سطح پر ایک ملک کے سربراہ ہونے کے ناطے مودی کو روزگار پیدا کرنے کی پالیسیاں بنانی ہوں گی۔ مودی کے اس دورہ کے بعد قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں کہ آنے والے دنوں میں ٹی آر ایس اور بی جے پی ایک ہوجائیں گے۔ مودی کی تقریر نے تلگو دیشم اور کانگریس کی صفوں میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ دونوں پارٹیوں کو اپنے سیاسی پروگرامس میں بہتری لانے کی ضرورت ہوگی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وقت کے ساتھ یہ دونوں پارٹیاں عوامی تائید سے محروم ہورہی ہیں۔ ان کو اپنا سیاسی موقف بچانے کی ضرورت ہوگی۔ اگر ٹی آر ایس اور بی جے پی نے اتحاد کرلیا تو اس ریاست کا سیکولر ڈھانچہ تباہ ہوجائے گا۔ اس بحث سے جان چھڑا کر آگے بڑھنے میں تلگو دیشم اور کانگریس کو کامیابی ملتی ہے تو پھر ریاست و قومی سطح پر حکومت کے خلاف ایک ہی بات ذہن نشین ہوجائے گی کہ اس نے سنہرے دور آنے کے خواب دکھائے تھے۔ اب بی جے پی کا سنہری دور آگیا ہے۔ عوام کے حق میں صرف غم ہی آئے ہیں۔ زعفرانی لہر لانے والے لیڈروں کے سامنے یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ ہر گلی کوچہ میں بی جے پی کے لئے مہم چلائی جائے گی۔ تلنگانہ کے عوام کو آئندہ ایک نیا سیاسی اتحاد دیکھنے کو ملے گا۔

TOPPOPULARRECENT