Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / زعفرانی تعلیم اور بے روزگاری پر آج کانگریس کا سمینار

زعفرانی تعلیم اور بے روزگاری پر آج کانگریس کا سمینار

ماہرین تعلیم اور سرکردہ قائدین کی شرکت، ترجمان پردیش کانگریس کی پریس کانفرنس
حیدرآباد /21 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس نے مرکزی و ریاستی حکومتوں کی تعلیم اور روزگار پالیسیوں کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نوجوانوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان تلنگانہ پردیش کانگریس شرون کمار نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے انتخابی مہم کے دوران طلبہ اور نوجوانوں کو اعلی و معیاری مفت تعلیم کے ساتھ مختلف شعبوں میں ہر سال لاکھوں ملازمتیں فراہم کرنے کا خواب دکھایا تھا، مگر اقتدار حاصل ہونے کے بعد دونوں حکومتیں انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہو گئیں۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت تعلیم کو زعفرانی رنگ دے کر آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل کر رہی ہے، جب کہ ریاستی حکومت فیس باز ادائیگی اسکیم کو ختم کرنے کے لئے انجینئرنگ کالجس میں نقص نکال کر انھیں بند کر رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے 28 ہزار کروڑ کا تعلیمی بجٹ گھٹا دیا ہے اور ریاستی حکومت نے کے جی تا پی جی مفت تعلیم کے وعدہ کو پورا نہیں کیا، اس طرح دونوں حکومتیں مخالف عوام پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے نوجوانوں اور طلبہ کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہیں، جس کے خلاف تلنگانہ پردیش کانگریس نے 22 اگست کو دو بجے دن گاندھی بھون میں ایک سمینار کا اہتمام کیا ہے، جس سے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی، ورکنگ پریسیڈنٹ ملو بٹی وکرامارک، قائد اپوزیشن اسمبلی کے جانا ریڈی، قائد اپوزیشن کونسل محمد علی شبیر کے علاوہ مختلف یونیورسٹیز کے پروفیسرس خطاب کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی تعلیم کو مذہب سے جوڑنے کے خلاف ہے، کانگریس ہائی کمان نے مرکزی حکومت کی پالیسی کے خلاف ملک گیر سطح پر عوام میں شعور بیدار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کرکے وقت ضائع کر رہی ہے اور تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے عثمانیہ اور کاکتیہ یونیورسٹیز کے طلبہ کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT