Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / زعفرانی دہشت گردی کیس کے کلیدی گواہوں کااقبالیہ بیان سے انحراف

زعفرانی دہشت گردی کیس کے کلیدی گواہوں کااقبالیہ بیان سے انحراف

……   (  مرکز میں حکومت کی تبدیلی کا اثر  )   ……

مہاراشٹرا اے ٹی ایس پر اذیت دینے کا الزام، کیس کو کمزور کرنے کیلئے این آئی اے کی کوشش
نئی دہلی۔/22اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) شہر دہلی کے ایک مشہور و معروف ڈاکٹر آر پی سنگھ نے مہاراشٹرا کے انسداد دہشت گردی دستہ ( اے ٹی ایس ) کے روبرو دیئے گئے اپنے اقبالیہ بیان سے مکر گئے ہیں۔ انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ وہ اس اجلاس میں شریک تھے جس میں جہادیوں کے دہشت گردانہ حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ ڈاکٹر سنگھ کے انحراف سے ہندو دہشت گردوں کو پکڑنے کیلئے استغاثہ کی کوششوں کو ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ مرکز میں حکومت کی تبدیلی کے بعد زعفرانی دہشت گردوں کے کیس میں گواہوں کا موقف مسلسل بدلتا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں ملزمین کی رہائی کیلئے راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹر آر پی سنگھ جو کہ ایک باوقار خانگی ہاسپٹل میں آنتوں کے امراض کے ماہر (Endocrinlogist) ہیں بتایا کہ شدت پسند تنظیم ابھینو بھارت اور دیگر کو پھانسنے کیلئے مہاراشٹرا اے ٹی ایس نے اذیت دیتے ہوئے یہ بیان حاصل کیا تھا جبکہ اے ٹی ایس نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکٹر سنگھ بھوپال، ناسک اور فریدآباد کے اجلاسوں میں شریک تھے جس میں ہندو شدت پسند لیفٹننٹ کرنل سریکانت پرساد پروہیت، سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور سوامی آسیمانند اور ریٹائرڈ آرمی میجر رمیش اپادھیائے اور دیگر نے جہادی دہشت گردوں کے خلاف’ بم کا بدلہ بم ‘ سے جواب دینے کیلئے مساجد اور دیگر مقامات کو نشانہ بنانے کے منصوبہ ( سازش ) پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ ہندودہشت گردی کیس میں کلیدی گواہ تصور کئے جانے والے ڈاکٹر سنگھ نے چند دن قبل مجسٹریٹ کے روبرو یہ تازہ دعویٰ کیا ہے کہ اینٹی ٹیرارسٹ اسکواڈ کا یہ الزام ہے کہ مالیگاؤں میں بم دھماکوں کی سازش 11اپریل 2008کو بھوپال کے اجلاس میں کی گئی اور اے ٹی ایس نے اس خصوص میں ڈاکٹر سنگھ اور دیگر کے اقبالیہ بیان حاصل کئے تھے۔ اے ٹی ایس کی تحقیقات میں پتہ چلا تھا کہ ڈاکٹر سنگھ بھی مذکورہ اجلاس میں موجود تھے

جس میں ملززین سدھاکر دیویدی، لیفٹننٹ کرنل پرساد سریکانت پروہت، سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، سوامی آسیمانند ، رمیش اپادھیائے اورسو امی کلکرنی نے شرکت کی۔ تاہم تازہ انکشاف میں جسے عدالت نے ثبوت کے طور پر قبول کرلیا ہے سنگھ نے یہ ادعا کیا کہ ابھینو بھارت اور اس کے ارکان کے خلاف بیان دینے کیلئے اے ٹی ایس نے اذیت دی تھی۔ انہوں نے اپنے دعویٰ کی تصدیق کیلئے سفری رسائد اور دستاویز پیش کئے  جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ وہ اس دن انکم ٹیکس ریٹرنس داخل کرنے کیلئے دہلی میں موجود تھے جس دن بھوپال کے اجلاس میں شرکت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے بعض گواہوں کو عدالت میں پیش کیا جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر سنگھ کبھی بھوپال اور ناسک نہیں گئے۔ قومی تحقیقاتی ادارہ ( این آئی اے ) کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ انہوں نے بذات خود 2008 مالیگاؤں بم دھماکوں کی کیس کے تحقیقاتی عہدیدار سے رجوع ہوکر بیان دینے کی خواہش کی ہے جس پر انہوں( اے ٹی ایس عہدیدار ) نے عدالت میں حلف نامہ داخل کرنے اور مجسٹریٹ کے روبرو بیان دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ایک اور گواہ پشپال بھڈنا جس نے قبل ازیں اے ٹی ایس کو یہ اقبالیہ بیان دیا تھا کہ وہ بھی مذکورہ اجلاس میں شریک تھا مجسٹریٹ کے روبرو سابقہ بیان سے منحرف ہوگیا جس نے اے ٹی ایس سے کہا تھا کہ وہ بھوپال کے اجلاس میں شریک تھا جس میں مالیگاؤں کے مسلم علاقوں میں بم دھماکے انجام دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا اور پرگیہ ٹھاکر نے بم نصب کرنے کیلئے ایک آدمی فراہم کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔ اور اب وہ اپنے بیان سے انحراف کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ اے ٹی ایس نے زور زبردستی سے اقبالیہ بیان حاصل کیا تھا جبکہ وہ کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوا تھا۔ کیس کے دو اہم گواہوں کے انحراف سے اے ٹی ایس اور سی بی آئی کی چارج شیٹ میں ردوبدل کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT