Thursday , March 23 2017
Home / مضامین / زمینی حالات اور میڈیا کی مودی لوسی

زمینی حالات اور میڈیا کی مودی لوسی

محمد ریاض احمد
صحافت ایک مقدس پیشہ ہے۔ معاشرہ میں پائی جانے والی برائیوں کو مٹانے اور برے  لوگوں کی بیخ کنی میں صحافت کا ہمیشہ سے ہی اہم کردار رہا ہے۔ سماجی تبدیلی میں صحافت نے اہم رول ادا کیا۔ میڈیا کے باعث ہی حکومتیں حکمراں سرکاری و خانگی ادارے، بیورو کریٹس اور سیاستداں قابو میں رہتے ہیں اور جہاں تک ہندوستان میں صحافت کی تاریخ اور اس کے کردار کا سوال ہے، آزادی سے قبل اور 90 کے دہے تک صحافت نے انتہائی ذمہ دارانہ رول ادا کیا۔ حکمرانوں اور سیاستدانوں غرض معاشرہ کے اہم اداروں پر ذرائع ابلاغ کا کافی رعب ہوا کرتا تھا لیکن شہادت بابری مسجد کے سب سے بڑے مجرم نرسمہاراؤ کے دور وزارت عظمیٰ میں متعارف کروائی گئیں فراخدلانہ معاشی پالیسیوں و اقتصادی اصلاحات نے صحافت کے مقدس پیشے کو بھی کرپشن کی آلودگی سے آلودہ کردیا اور رہی سہی کسر اچھے دن کا خواب دکھا کر اقتدار پر فائز ہونے والے نریندر مودی کی حکومت میں پوری ہوگئی۔ پچھلے ڈھائی سال کے دوران مودی حکومت کو اس کی ناکامیوں، فرقہ وارانہ فسادات، مذہب اور ذات پات کے نام پر پھیلی بے چینی، جانوروں کے تحفظ کے بہانے انسانوں (مسلمانوں) کے قتل، خواتین پرجنسی حملوں، صحت عامہ کے شعبہ میں حکومت کے بدترین تساہل و تغافل، زچگی کے دوران خواتین اور بچوں کی شرح اموات میں اضافہ، ناقص غذا کا شکار، بڑھتی آبادی پڑوسی ملکوں بلکہ دشمن ملکوں چین اور پاکستان سے نمٹنے میں برتی گئی کوتاہیوں، مسلمانوں میں طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی ناپاک کوششوں، دینی مدارس اور مسلم اداروں پر بری نظریں ڈالنے اور معقولیت پسند شعراء و ادیبوں کے ساتھ  ناروا سلوک کے علاوہ وزیراعظم کے بیرونی دوروں اور ان سے حاصل ہوئے نتائج سے جانچا جائے تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بھی ذی حس ہندوستانی مودی حکومت کی تائید نہیں کرے گا۔ 2014ء کے عام انتخابات میں نریندرمودی کی زیرقیادت بی جے پی نے صرف 33 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے اقتدار حاصل کیا تھا۔ نوٹ بندی کے بعد تو مودی کے ان 33 فیصد حامیوں کی تعداد بھی کافی حد تک گھٹ گئی ہوگی۔ فی الوقت عوام میں مودی کے خلاف کافی برہمی پائی جاتی ہے۔ اس کا ثبوت ملک کے طول و عرض میں عام آدمی کی جانب سے مودی کو دی جانے والی گالیاں ہیں۔ نوٹ بندی کے بعد مودی کو جس انداز میں اور جس قدر فحش کلامی سے نوازا گیا شاید ہندوستان کی تاریخ میں کسی وزیراعظم کو نہیں نوازا گیا۔ حیرت اس بات پر ہیکہ ملک کے کونے کونے میں مودی جی کی شان میں مرد و خواتین یہاں تک کہ کمسن لڑکے گالیاں بک رہے تھے۔ بینکوں کے باہر قدیم کرنسی نوٹ تبدیل کرنے آئی ضعیف خواتین انہیں کوس رہی تھیں لیکن میڈیا بڑی بے شرمی کے ساتھ اپنے اسکرین پر ان زرخرید لوگوں کو دکھارہا تھا جو مودی اور ان کی حکومت کی تعریف و ستائش میں زمین و آسمان کے قلابے ملارہے تھے۔ مودی کو بلیک منی اور کرپشن کا خاتمہ کرنے والے نجات دہندہ کی حیثیت سے پیش کیا جارہا تھا۔ میڈیا کی بددیانتی کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال دی جاسکتی ہیکہ بینکوں، ڈاک خانوں اور اے ٹی ایم سنٹرس کے باہر مرد و خواتین کی طویل طویل قطاریں ہونے کے باوجود میڈیا کا زرخرید غلام گوشہ عوام کو یہ تاثر دیتا رہا اور دے رہا ہیکہ بینکوں پر عوام کی قطاریں کم ہوگئی ہیں۔ اے ٹی ایم سنٹر پر وافر رقم ہونے کے باعث لوگوں کو کافی راحت ہوئی ہے۔ ڈاک خانوں پر بھی بھیڑ چھٹ گئی ہے۔ حالانکہ 8 نومبر کی رات سے تاحال عوام کو کسی قسم کی راحت نہیں ہوئی۔ چھوٹے اور متوسط بیوپاری کاروبار نہ ہونے کے باعث آنسو بہا رہے ہیں۔ تاہم میڈیا کا زرخرید غلام گوشہ روتے ہوئے تاجرین، پریشانی کے عالم میں بلبلاتے عوام، ہاسپٹل میں کراہتے مریضوں، ان کے بلکتے رشتہ داروں کو دکھانے کے بجائے گوا میں مگرمچھ کے آنسو بہاتے مودی کے ویڈیو فوٹیج دکھانے میں مصروف رہا۔ بکاؤ ٹی وی چیانلوں نے گجرات کی ایک بینک میں مودی جی کی ضعیف ماں کو کرنسی تبدیل کرتے ہوئے تو دکھایا اور مودی حکومت کی شان میں جھوٹے گیت گانے والے Presstitutes نے ملک کے عوام کو چیخ چیخ کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ مودی جی کی ضعیف ماں بھی قطار میں ٹھہرے کرنسی تبدیل کرا رہی ہیں لیکن اقتدار کی راہداریوں کے ان دلالوں نے یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ مودی جی کی ماں اور ان کے دیگر ارکا ن خاندان کو بڑی آسانی سے بناء کسی دھکم پیل کے کرنسی تبدیل کرکے دے دی گئی۔ میڈیا کے زرخرید غلام گوشہ نے مودی کی ماں کو تو دکھایا لیکن عام ہندوستانیوں کی ان ماؤں کو نہیں دکھایا جو طویل قطاروں میں گھنٹوں ٹھہرنے کے باعث بیہوش ہوکر گر پڑیں۔ میڈیا نے ان ماؤں پر توجہ نہیں دی جو برسوں اپنے شوہروں اور بیٹوں کی کمائی سے  بچت کرتے ہوئے کچھ رقم اکٹھا کی تھی لیکن مودی کی نوٹ بندی نے ان کے ارمانوں اور خوشیوں پر پانی پھیر دیا۔ جب وہ پرانی کرنسی نوٹ تبدیل کرنے گئیں تو ان غریب ماؤں کا شمار بھی سیاہ دھن جمع کرنے والوں میں کیا جانے لگا۔ سطور بالا میں ہم نے بکاؤ میڈیا کے نمائندوں کیلئے لفظ Presstitute کا جو استعمال کیا ہے دراصل یہ لفظ مودی حکومت نے مملکتی وزیرخارجہ اور ہندوستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) وی کے سنگھ نے کرپٹ صحافیوں اور صحافت کے خلاف  گذشتہ سال ہی استعمال کیا تھا یہ لفظ  فاحشاؤں کیلئے استعمال ہونے والے Prostitute سے اخذ کیا گیا۔

شاید جنرل وی کے سنگھ نے موجودہ صورتحال کا اندازہ کرتے ہوئے ہی Press کے بارے میں مذکورہ نئی اصطلاح استعمال کی تھی۔ شاید وی کے سنگھ جیسے لوگوں کو اندازہ تھا کہ میڈیا کا زرخرید غلام گوشہ سکوں کی چکاچوند اور نوٹوں کی گڈیوں کے چکر میں اپنا مقدس صحافتی فریضہ بھول جائے گا جس طرح جسم فروش خواتین نہ چاہتے ہوئے بھی صرف اور صرف اپنی پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر چند نوٹوں کیلئے اپنے ضمیر کو بار بار زخمی کرتی رہتی ہیں۔ عام ہندوستانی 2014ء کے عام انتخابات کی انتخابی مہم اور انتخابات کے بعد سے لیکر اب تک کی صورتحال کا جائزہ لے تو باآسانی پتہ چلتا ہیکہ ہندوستانی میڈیا کے ایک بہت بڑے حصہ کی اقتدار کے بازار میں نیلامی ہوچکی ہے۔ پچھلے ڈھائی برسوں سے ایک دو ٹی وی چیانلوں کو چھوڑ کر اکثر ٹی وی چیانلوں نے جن پر مودی اور ان کی حکومت سے قریب رہنے والے کارپوریٹ گھرانوں کا کنٹرول بتایا  جاتا ہے صرف مودی اور ان کی حکومت کی تعریف میں ہی چیخ و پکار کرنے میں مصروف ہیں۔ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو ہندوستان میں اکثر ٹی وی چیانلس اور اخبارات ابن الوقت اور مفاد پرست سیاستدانوں کی طرح اپنے ضمیر کا سودا کرچکے ہیں ورنہ آج میڈیا مودی حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرکے رکھ دیتا۔ اس کے غلط فیصلوں کو غلط قرار دے کر اس کی تنبیہ کرتا اور اچھے فیصلوں پر اس کی ستائش کرتا لیکن موجودہ صورتحال یہ ہیکہ چاپلوسی میں میڈیا اس قدر آگے بڑھ گیا ہیکہ وہ مودی حکومت کے ہر فیصلہ کو چاہے وہ ملک و قوم کیلئے نقصاندہ ہی کیوں نہ ہو تاریخی قرار دے رہا ہے۔ یہ تو بھلاہو سوشل میڈیا کا جس کے ذریعہ مودی حکومت کی ناکامیاں آشکار ہوئیں۔ 8 نومبر کو مودی جی نے 500 اور 1000 کی کرنسی نوٹوں پر پابندی کا اعلان کیا۔ اس فیصلے نے سارے ملک میں بے چینی کی کیفیت پیدا کردی۔ برہمی کی شدید لہر پھیل گئی لیکن میڈیا مودی کی تعریف کے پل باندھ رہا ہے۔ دنیا میں اس طرح کی بدترین مثال نہیں ملتی۔  مودی کے اس فیصلہ کو بلومبرگ، واشنگٹن پوسٹ، گارجین، نیویارک ٹائمز جیسے متعبر میڈیا نے ایک بھیانک غلطی قرار دیا۔ ان اخبارات کے خیال میں مودی حکومت نے نوٹ بندی کا جو فیصلہ کیا اس سے صرف دولتمندوں کو فائدہ ہوگا، بلیک منی میں کمی نہیں ہوگی۔ دولتمندوں کو اس لئے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ وہ ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ سونے کی خریداری ان کی ترجیح ہوتی ہے۔ ان اخبارات کا کہنا ہیکہ مودی کو نوٹ بندی کی بجائے ٹیکس نظام میں بہتری لانی چاہئے تھی۔ ملک میں اقلیتوں کے ساتھ انصاف اور مساوات کو یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہئے تھی۔ کرپشن پر قابو پانے پہلے اپنی فکروسوچ کو بدلنا چاہئے تھا۔ بلومبرگ کے مطابق 4 ماہ تک حالات میں سدھار نہیں آ سکتا۔ الجزیرہ اور پڑوسی ملک پاکستان کے نیشنل ہیرالڈ میں بھی اسی طرح کے خیالات ظاہر کئے گئے لیکن ملک کا زرخرید غلام میڈیا بینکوں کی قطاروں میں ٹھہرنے کے باعث تقریباً 70 ۔ 80 لوگوں کے فوت ہونے پر بھی مودی حکومت کو شاباشی دے کر اس کی پیٹھ ٹھونک رہا ہے۔ اگر ان تمام عوام پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہی کہ ہندوستانی میڈیا مودی  حکومت کی ناکامیوں اور خامیوں کو عوام سے چھپا رہا ہے اور کوئی ایسا کیونکر کرے گا؟ یقینا اس کے مفادات کے تحفظ کیلئے ایسا کیا جارہا ہے جس میں کسی کو شک و شبہ بھی نہیں۔ اس لئے زرخرید غلام میڈیا کو یہ جان لینا چاہئے کہ عوام سب جانتی ہے ایک وقت ایسا آئے گا جب چاپلوسوں کی چاپلوسی ملیامیٹ ہوجائے گی۔
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT