Monday , August 21 2017
Home / ادبی ڈائری / ’’زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے ‘‘ ابن احمد تاب

’’زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے ‘‘ ابن احمد تاب

ڈاکٹر فاروق شکیل
اجمالی تعارف :
نام : عبداللہ ، قلمی نام : ابنِ احمد تابؔ، پیدائش : 1923 ء (صحیح تاریخ پیدائش معلوم نہ ہوسکی)، وفات : 23 نومبر 1973 ء ، تعلیم : مدرسہ نظامیہ اور کائستھ پاٹ شالہ میں ہوئی، اساتذہ : حیدر پاشاہ حیدر، صفی اورنگ آبادی ، کتابیں : خامۂ دل (1973 ء) ابن احمد تابؔ، مخدومؔ، شاہدؔ صدیقی، جامیؔ اور سلیمان اریب کے دور کے پروردہ ہیں ۔ انجمن  ترقی پسند مصنفین کی عاملہ کے رکن بھی تھے ۔ غزل سے انہیں خاص لگاؤ تھا ۔ان کے اسلوب میں ندرت اور طرز فکر میں جدت تھی ۔ زندگی کی تلخیوں کے سچے اور کھرے اظہار میں انہوں نے اس طور اسلوب کی نئی جہتیں تلاش کیں۔ ان کی نظموں میں بھی معاصر زندگی میں اقدار کی پامالی کا احساس ملتا ہے ۔ احمد ابن تابؔ کا مجموعہ کلام ’’خامۂ دل‘‘ ان کے انتقال کے بعد 1973 ء مئی میں ادبی ٹرسٹ کی جانب سے شائع کیا گیا۔
منتخب اشعار:
روتے روتے ہنس دیتے ہیں ہنستے ہنستے روتے ہیں
کیا جانے ایسے دیوانے کس عالم میں ہوتے ہیں
کیا خبر تھی اک تبسم کیلئے
کتنی ہی کلیوں کو مرجھانا پڑا
کچھ اور دیر رہو دوستو چراغ بکف
رخِ سحر پہ اندھیروں کا ہے غبار ابھی
جہاں ہم مسکراکر آنسوؤں کو روک لیتے ہیں
وہاں جذبات کی آسودگی کچھ اور ہوتی ہے
زندگی ہم کو ملی بھی تو کچھ اس طرح ملی
کانپتے ہاتھوں میں جیسے کوئی پیمانہ ہے
کل تک جنہیں تعینِ منزل پہ ناز تھا
کچھ ایسے لوگ آج سرِ رہ گزر لئے
سب کی زبان بند ہے اب کس سے کیا کہیں
جو آپ کے ہیں ان کا ہی خون مانگتے ہیں آپ
رات تاریک سہی رات سے ڈرنا کیا
اپنی آنکھوں میں لئے نورِ سحر چلتے ہیں
حد سے بڑھ جاتا ہے جب پاؤں میں زنجیر کا بوجھ
راہ گلنار نظر آتی ہے سر چلتے ہیں
کرو نہ ہم کو فراموش تم اجالوں میں
تلاشِ صبح میں گم ہوگئے تھے شام سے ہم
پیغمبروں کا صبر لئے بڑھ رہے ہیں ہم
اب تک جئے تو کیسے جئے ہیں نہ پوچھئے
حرم کی دیر کی راہوں سے ہوکے گزرا ہوں

رباعیات
انساں کے لئے عارنہیں ہوں یا رب
تقویٰ کا گنہ گار نہیں ہوں یا رب
لیکن میں ریاکار نہیں ہوں یا رب
اب کوئی نیا گل نہیں کھلنے والا
یہ چاک گریباں نہیں سلنے والا
کعبے کو تو مل جائیںگے کتنے ہی غلاف
دیوانے کو دامن نہیں ملنے والا

نظم
شکست
دل و دماغ و بصارت پہ پڑ گئے تالے
ہمارے سامنے ہوتی رہی شعورکی موت
ہر اک برائی کو اچھائی جان کر ہم لوگ
لباسِ خضر میں رہزن سے پیار کرتے ہیں
ہمارے ہاتھوں سے سقراط زہر پیتا ہے
ہم ہی نے رام کو بن باس دے دیا یارو
ہم ہی حسین کے قاتل
ہم ہی یزید کی فوج
کئی شہیدوں کا خون ہے ہماری گردن پر
ہمارے دوش پہ سچائی کا جنازہ ہے
ہمارا کذبِ جنوں ہر قدم پہ تازہ ہے

TOPPOPULARRECENT