Tuesday , August 22 2017
Home / ادبی ڈائری / ’’زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے‘‘ رضا وصفی ؔ

’’زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے‘‘ رضا وصفی ؔ

ڈاکٹر فاروق شکیل

اجمالی تعارف :
نام : سید رضا حسین، قلمی نام : رضا وصفیؔ، پیدائش : 1935 ء ، وفات : 11 اپریل 1996 ء ، کتابیں : ’’بوند بھر دریا‘‘ (2011 ء) مجموعہ کلام۔
رضا وصفیؔ حیدرآباد کے ان گنے چنے شعراء میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے خوبصورت جدیدیت کو پر وان چڑھایا۔ انہوں نے برہنہ حرف گوئی سے گریز کرتے ہوئے اشاروں کنایوں سے کام لیا اور معنویت کو چمکایا۔ رضا وصفیؔ کی شاعری میں انفرادی جدیدیت ہے ۔ انہوں نے صرف الفاظ کے نئے پن سے اپنے افکار کو نہیں چمکایا بلکہ فکر و احساس کی تازہ کاری نے ان کی شاعری میں تا ثیر پیدا کردی ہے ۔ پر وفیسر مغنی تبسم رقم طراز ہیں۔ ’’رضا وصفی کی کائناتِ فکر و خیال وسیع ہے ۔ ارضی زندگی کے تجر بات سے لے کر مابعد اطبیاتی مسائل تک ان کے موضوعات کا دائرہ پھیلا ہوا ہے ۔ رصا وصفیؔ نے عصر حاضر کی زندگی کی صورت حال اور انسانی وجود پر اس کے اثرات کو جو تنہائی ، اجنبیت اور خوف کے احساس کی صورت میں نمایاں ہوئے ہیں، بڑے ہی موثر انداز میں پیش کیا ہے ‘‘۔
مرے اک شعر کا اس کو دکھا دو آنکھ بھر چہرہ
اگر آنکھوں نے اسکی بوند بھر دریا نہیں دیکھا
جو دلوں کے نرم گوشوں تک پہنچ سکتی نہیں
ایسی بینائی کو اندھی کھائی میں پھینک آیئے

غزل
نہیں ہے راس زمانے کا رکھ رکھاؤ مجھے
میں اک چٹائی ہوں محلوں میں مت بچھاؤ مجھے
ابھی تو قید ہوں میں اپنی گونج کے اندر
صدائیں دو نہ ابھی دور کی صداؤ مجھے
ادب ہوں اور نہ کوئی فلسفہ نہ منطق ہوں
میں اک حرف ہوں ہر درس میں پڑھاؤ مجھے
مرے سکوت نے بخشی ہے تم کو گویائی
بٹھاؤ سر پہ مرے شہر کی ہواؤ مجھے
سنوں تو کس کی سنوں کس کی سمت دوڑوں میں
یہاں تو ایک ہی آواز ہے بچاؤ مجھے
انا کی آگ ہوں شعلوں کا جسم ہوں وصفیؔ
جلارہا ہے مری ذات کا ا لاؤ مجھے
رضا وصفیؔ کی زندگی میں ان کا کوئی مجموعہ کلام منظر عام پر نہیں آیا لیکن ان کی وفات کے بعد ان کے بھتیجے سید طاہر حسین نے اپنے تایا رضا وصفی کے مجموعۂ کلام ’’بوند بھر دریا‘‘ کو 2011 ء میں شائع کروایا ۔ سید طاہر حسین نے اس مجموعۂ کلام کو انتہائی خوبصورت انداز میں آرٹ پیپر پر سنہری بارڈر کے ساتھ شائع کر کے ہزاروں میں ایک بنادیا۔
منتخب اشعار :
جب تک خیال و خواب کے خانوں میں کچھ نہ تھا
میرا مقام میرے بیانوں میں کچھ نہ تھا
دکھی دل ، دکھتی آنکھوں پر ہوا بھی بار ہوتی ہے
مہکتی ڈالیوں کو اس کا اندا زہ نہیں ہوتا
کئی لاشوں کو دفنانا پڑے گا
کشادہ دل کا قبرستان رکھنا
کوئی خیال نہ تشہیر تھی نہ کوئی پیام
مرے قلم میں مری زندگی کے چھالے تھے
جو اندر ترے پھڑ پھراتے ہیں وصفیؔ
وہ سارے پرندوں کے پر کاٹ دینا
عقل ملفوف ہے لباسوں میں
اور جنوں بے لباس ہے اُس کا
حرف اور صوت کے مابین رہا کرتی ہے
وہ خموشی جو بہت شور بپا کرتی ہے

TOPPOPULARRECENT