Saturday , September 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / ’’زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے‘‘ قاضی انجمؔ عارفی

’’زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے‘‘ قاضی انجمؔ عارفی

ڈاکٹر فاروق شکیل

اجمالی تعارف :
نام : قاضی سید علی اکبر، قلمی نام : قاضی انجمؔ عارفی، پیدائش : 10 نومبر 1931 ء ، وفات : یکم ڈسمبر 2005 ء، تعلیم : منشی ، منشی فاضل ، بی او ایل ، ایم اے لینگویجس (عثمانیہ) ، ملازمت: ناظرالقضاۃ (آندھراپردیش حیدرآباد) ، سکریٹری انجمن قضاۃ، صدر قاضی (ہت نورہ تعلقہ نرسا پور ضلع میدک) ، کتابیں: ’’انجم زار‘‘ (شعری مجموعہ) 2001 ء
محبت ، مروت ، اخوت ، شرافت، صداقت، اخلاق، انکسار، تہذیب و ثقافت، یہ تمام اوصاف قاضی انجمؔ عارفی کی شخصیت میں ضم تھے ۔ ان کے والد قاضی میر لطف علی عارف ابوالعلائی کا تعلق مشائخ گھرانے سے تھا ۔ وہ اپنے وقت کے معتبر شاعر و ادیب تھے اور 12 کتابوں کے مصنف و مولف تھے ۔ انہیں استادِ شاہ فصاحت جنگ جلیل سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ دینی و علمی گھرانے کے خاندانی اوصاف قاضی انجم عارفی کو ورثے میں ملے تھے، یہی وجہ تھی کہ وہ ہر دل عزیز تھے ۔ ان کے مجموعہ کلام ’’انجم زار‘‘ میں نعتیں ، غزلیں، نظمیںاور قطعات شامل ہیں۔ نعتیں رسول کریمؐ کی محبت میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ غزلوں میں روایت کا حسن بھی ہے اور عصری تلخیاں بھی ہیں ۔ لہجے میں شائستگی و شرافت مسکراتی نظر آتی ہے ۔ زبان میں سلاست و سادگی دل نشینی کی مظہر ہے۔ ڈاکٹر علی احمد جلیلی رقم طراز ہیں۔ انجم عارفی نے بڑی صلابت، سنجیدگی اور اعتدال پسندی کے ساتھ اپنا شعری سفر طئے کیا ہے جس میں جمالیات کے چراغ بھی روشن ہیں اور نئی غزل سے چھن کر آتے ہوئے اجمالوں کی دھوپ چھاؤں بھی ہے۔ قاضی انجم عارفی کے لائق فرزند ممتاز شاعر قاضی فاروق عارفی اپنے خاندانی اوصاف کے ساتھ اس ورثے کی حفاظت کر رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنے دادا میر لطف علی عارف ابوالعلائی کی یاد میں ’’قاضی عارف ابوالعلائی اکیڈیمی‘‘  قائم کی جس کے تحت نہ صرف جلسے اور مشاعرے منعقد کرتے ہیں بلکہ قاضی انجم عارفی اور ڈاکٹر امیر عارفی کے نام سے حیدرآباد کے معتبر شعراء و ادبا کو ایوارڈ بھی دیتے ہیں۔ قاضی فاروق عارفی وقف بورڈ میں ایک اچھے عہدے پر بھی فائز ہیں۔ قاضی انجمؔ عارفی اپنے تمام اوصاف کے ساتھ آج بھی سینکڑوں دلوں میں زندہ ہیں۔
منتخب اشعار :
سرکارِؐ دوعالم کی کیا شانِ رسالت ہے
دنیا میں عنایت ہے محشر میں شفاعت ہے
ان کی آنکھوں میں نظر آتے ہیں انوارِ حرم
روز و شب دیکھ کے جو روضۂ اطہر آئے
فاصلہ ہے لمحوں کا موت و زندگانی میں
اک چرا غ بجھتے ہی اک چراغ جلتا ہے
اپنوں کی بے رخی کی شکایت نہ کیجئے
تھا جس پہ ناز آج وہ تہذیب مرگئی
ہم نے احساس کی قندیل جلا رکھی ہے
ہم کو معلوم ہے کس وقت اندھیرا ہوگا
مرے عیوب مرے سامنے عیاں ہوں گے
حریف لوگوں سے رکھی ہے دوستی میں نے
خنجر سے کام لیتا ہے کوئی زبان سے
ہوتا ہے قاتلوں کا طریقہ الگ الگ
دیکھ پچھتائے گا بجھاکے مجھے
میں ترے شہر کا اجالا ہوں
قطعہ
رہِ حیات بہت خار زاد تھی لیکن
مسرتوں کا گلستاں بنادیا میں نے
جہاں جہاں بھی اندھیروں کا راج تھا انجمؔ
وہیں چراغِ محبت جلادیا میں نے
غزل
جو گناہوں پہ شرمسار نہیں
لائقِ فضلِ کردگار نہیں
ہاں کبھی اختیار تھا اُن پر
اب تو خود پر بھی اختیار نہیں
ضبطِ غم کر کے مسکراتے ہیں
نم تو ہے آنکھ اشکبار نہیں
بدگمانی کا اب یہ عالم ہے
جیسے خود پر بھی اعتبار نہیں
ہیں گنہہ میرے بے حساب اگر
تیری رحمت کا بھی شمار نہیں
جب سے ہے انجمؔ انتظار اپنا
پھر کسی کا بھی انتظار نہیں

TOPPOPULARRECENT