Saturday , September 23 2017
Home / ادبی ڈائری / زندگی دھوپ ، تم گھنا سایہ

زندگی دھوپ ، تم گھنا سایہ

نفیسہ خان
اس بار خان صاحب کے گھر اور خاندان میں بہار آئی ہوئی تھی ، مہینہ جولائی کے ساتھ ساتھ رمضان کا بھی تھا وہ سب رم جھم بارش کے مزے لوٹنے آئے تھے لیکن یہاں تو گرمی اپنے شباب پر تھی اسکے باوجود شہر حیدرآباد کی رونقیں کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھیں ۔ بیرون ملک سے آنے والے افراد خاندان کی اس سال حاضری بھی مکمل تھی ورنہ ہوتا یوں تھا کہ شوہر کے رشتے داروں میں شادی ہو یا موت وہی آئے گا اور بیوی اپنے بچوں کو لیکر وہیں رہ جائے گی اور جو بیوی بچے آئیں گے تو شوہر نہ آپائیں گے ۔ کبھی ایک بیٹا آتا تو دوسرا غائب رہتا تھا ، بیٹی آتی تو داماد جی ندارد ہوا کرتے تھے ،لیکن اس بار بات عید منانے کی تھی ۔ چھٹیاں بھی تھیں ، شادیاں بھی تھیں ، بچت کے نام پر پیسہ بھی ہاتھ میں تھا اسلئے سبھی آئے ہوئے تھے ۔ آبائی مکان کے چھوٹے بڑے آنگن اور دالان اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کررہے تھے ۔ ہر ایک کے کھاتے میں منائے جانے والی تقاریب کی لمبی چوڑی فہرست تھی ، جیسے عقیقے ، ہدیئے ، تسمیہ خوانی ، سالگرہ ، روزہ رکھائی وغیرہ ۔ یہ تقاریب حیدرآباد میں رنگ جمانے والی تھیں ۔ پکنک پارٹیاں ، Get Together ان کے علاوہ تھے ۔ ان سارے پروگراموں کو قبل از وقت حیدرآباد کی سرزمین سے کوسوں دور تقوت دے دی گئی تھی ۔ جلاوطنی اور سخت محنت سے حاصل شدہ رقم کا شاید کوئی دوسرا مصرف ہو ہی نہیں سکتا تھا اسلئے عید کے سوا بھی ہر روز عید اور ہر رات شب برات تھی ۔ کدھر دن نکلتا ہے اور کدھر رات گذر جاتی ہے معلوم ہی نہیں ہورہا تھا ۔ ویسے بھی باہر والوں کی صبح گیارہ بجے کے بعد ہوتی ہے اور ناشتہ ختم ہونے تک بارہ بج جاتے ہیں ۔ ایسی ہی بے قاعدگی دوپہر اور رات کے کھانے کے معاملے میں تھی نہ سب کا دسترایک ساتھ بچھایا جاسکتا تھا نہ کسی دن کسی وقت سب کا ساتھ بیٹھ کر کھانے کا کوئی امکان تھا ۔ ویسے بھی خان صاحب اپنی عمر کی پچھتر سیڑھیاں چڑھ چکے تھے اسلئے کمزوری و نقاہت انہیں زیادہ تر اپنے کمرے تک محدود کئے ہوئے تھی کیونکہ
رخصت ہوئی شباب کے ہمراہ زندگی
کہنے کی بات ہے کہ جئے جارہا ہوں میں
کے مصداق خان صاحب چاہتے تھے کہ ان کی بیوی شیریں ان کے آس پاس ہی رہے ۔ جوں جوں عمر بڑھ رہی تھی خان صاحب کی شیریں سے محبت و وارفتگی بڑھتی جارہی تھی جسے شیریں شوہر کے عدم تحفظ کے احساس پر محمول کرتی تھیں ۔ شاید خان صاحب بھی یہ محسوس کرنے لگے تھے کہ بیٹے ، بہوؤں ، بیٹیوں ، دامادوں اور بچوں کے آئے دن کے مختلف مشاغل میں عمر رسیدہ لوگوں کا وجود کچھ زیادہ گوارا نہیں ہوتا ہے ۔ اور وہ ان غیر ضروری ہنگاموں کے نہ ذہنی ، نہ جسمانی اور نہ ہی اخلاقی طور پر متحمل ہوسکتے تھے ۔ طویل العمری نے نظام حواس کو کمزور و درہم برہم کردیا ہے ۔ کسی پر شکستہ پرندے کی طرح قوت پرواز معدوم ہوگئی ہے ۔ اس لئے التفات خاص کے خواہاں رہتے ہیں ۔ ایسے میں سعی دلداری شیریں کے سوا کون کرسکتا تھا ، لیکن ایک بیوی کے علاوہ گھر گرہستی کی ذمہ دار خاتون اور ماں کے ناطے شیریں کو اپنی تمام تر ذمے داریاں نبھانی ہی پڑرہی تھیں کہ

یہ ہجرتوں کے تماشے یہ قرض رشتوں کے
میں خود کو جوڑتے رہنے میں ٹوٹ جاتی ہوں
ویسے بھی رشتوں میں خلوص ، محبت ، اپنائیت کا ہونا اشد ضروری ہوتا ہے، لیکن شیریں بھی اب محسوس کرنے لگی تھی کہ وہ حرارت اور گرمجوشی اب معدوم ہوتی جارہی تھی پھر بھی شیریں کو پہلے خود کو سنبھالنا پھر شوہر کی مرضی کو ملحوظ رکھ کر ہر قدم اٹھانا پڑتا تھا اور اب تو بھرے پرے گھر کی بے شمار مصروفیات نے انہیں متحرک کررکھا تھا ۔خان صاحب چاہتے تھے کہ شیریں ساری گھریلو ذمہ داریوں کو ترک کرکے بس ان کی جی حضوری میں لگی رہیں ۔ جانے یہ احساس انہیں کیوں پریشان کررہا تھا کہ اگر شیریں نہ ہو تو کیا ہوگا ؟ اولاد ان کی بھی تھی لیکن سوائے شیریں کے ان کا ہمدم ان کا دوست اورساتھی وہ کسی اور کو نہ مانتے تھے ۔ ان کے عدم تحفظ کے احساس نے وقتی طور پر تشویش کی حد تک سب کو پریشان کررکھا تھا کہ اماں ذہنی و جسمانی طور پر سب کو سمیٹتے ہوئے ہراساں ہورہی ہیں لیکن ان بچوں کا ہر احساس لمحاتی ہوتا ہے ان کیلئے اپنی چھٹیوں کو بیکار و فضول خیالات کی آماجگاہ بنا کر غارت کرنا کہاں کی عقلمندی تھی ۔ بس یہی پروگرام بناتے رہے کہ آج کہاں جائیں گے ، کل کا کیا پروگرام ہوگا ، مکانات ناکافی ہوں تو کسی کے فارم ہاوس یا ریسورٹ پر نظر تھی کہ کہاں کس مقام یا گھر کونسی پارٹی یا تقریب کا اہتمام کیا جاسکتا ہے کیونکہ وسیع ہال کے ساتھ اہل خانہ کا وسیع القلب و فراخ دل بھی تو ہونا ضروری ہوتا ہے ورنہ اب نئی نسل کے لئے شہر حیدرآباد میں رکھا ہی کیا ہے ۔ آثار قدیمہ کی طرح خاندان کے بچے کھچے ضعیف افراد جن کے پاس بوسیدہ دیواروں کے گھر اور محبت کے سوا دینے کیلئے رہ بھی کیا گیا ہے ، لیکن وہ التفات کے متلاشی ہیں کہ جدائی کا دائمی غم دے کر جو جاچکے ہیں جب بھی لوٹ کر آئیں تو کم از کم ان کی نظروں کے سامنے رہیں ۔ ان سے اپنائیت ، خلوص ، محبت کا ٹوٹ کر اظہار ہو۔

تھوڑی سی محبت کے تو حقدار ہیں ہم لوگ
گذری ہوئی تہذیب کے آثار ہیں ہم لوگ
بچوں نے تلاش روزگار کے لئے بلکہ ڈھیر سا روپیہ کمانے کے لئے وطن چھوڑا ہے روزی روٹی تو یہاں بھی میسر تھی ۔ اس سے پیٹ بھر سکتا تھا لیکن آرام و آسائش کی ہر چیز خریدی نہ جاسکتی تھی ۔ اب انہیں وطن کی یاد کم کم ہی آتی ہے اور وہ رشتوں کے تقدس کو فراموش کرچکے ہیں خصوصاً تیسری نسل ان کے معنی و مفہوم سے قطعی بیگانہ ہے ، لیکن شیریں اپنے بکھرے ہوئے خاندان کے شیرازہ کو سمیٹنے میں لگی تھی ۔ طے شدہ تقریبات کی فہرست یوں بھی طویل ترین تھی ۔ اتنے میں خان صاحب کے جگری دوست جن کی بیوی دو تین سال میں ایک بار کم از کم تین چار ماہ کیلئے بلالی جاتی تھیں اور بیچارے یکا وتنہا ہوجایا کرتے تھے ، بہو کا سلوک بھی ناروا سا ہوتا تھا ، اسلئے وہ خان صاحب کے پاس آجایا کرتے تھے ۔ انہوں نے یہ انکشاف کردیا کہ شیریں و خان صاحب اپنی اٹوٹ محبت ، وابستگی ، پیار محبت ، اپنائیت کے ساتھ ازدواجی زندگی کے پچاس سال پورے کرنے جارہے ہیں ۔ یہ سن کر نئی نسل کو ازدواجی وابستگی ، خوش حال زندگی کے پچاس سال کی تکمیل جیسے اردو کے ثقیل الفاظ سمجھ میں نہیں آئے لیکن جب کسی نے لفظ ’’گولڈن جوبلی‘‘ کا اضافہ کردیا تو سب کی ایک ساتھ آواز ’’واؤ‘‘ سے گھر گونج گیا ۔ پھر کیا تھا اس کے بعد Let’s Celebrate کے نعرے بلند ہونے لگے ۔ خان صاحب ان سب باتوں سے لاتعلق سے تھے۔ بس گھر کے موجودہ رنگ و نور میں شیریں کہیں ان سے غافل نہ ہوجائے یہی فکر ان کو لاحق تھی ۔ کہیں ان کے بیٹے بیٹیاں شیریں کو بیرون ملک اپنے ساتھ نہ لے جائیں اسی فکر میں دن میں کئی کئی بار بلا ضرورت بھی شیریں ،شیریں کا نام الاپتے رہتے ۔ انہیں گویا دوسروں سے کوئی سروکار نہ تھا ۔ شیریں بھی بڑی تندہی و خندہ پیشانی سے خاں صاحب کی آواز پر لبیک کہا کرتی تھیں کہ ان دنوں کے یہ جشن ، یہ قہقہے ، یہ رونقیں سب کچھ وقتی ہیں پھر وہی گھر ، وہی بجھا بجھا سا ماحول رہے گا ۔ وہ سوچتیں ہجر و وصال میں کیا فرق ہے ۔ وہی فرق نا جو کہ خزاں و بہار میں ہے یا پھر جوانی اور بڑھاپے میں ہے

، لیکن جوانی سے بڑھاپے تک کا طویل فاصلہ طے کرتے ہوئے شیریں اور خان صاحب ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہوگئے تھے ۔ بچوں نے گولڈن جوبلی منانے کیلئے سارے انتظامات مکمل کردیئے تھے ۔ ناتے ناتیوں نے دادا دادی اور نانا نانی کیلئے نئے ملبوسات نئے فیشن کے مطابق سلوائے تھے ۔ شیریں کی ہتھیلیوں پر حنا کا رنگ اپنی چھب دکھارہا تھا ، انہیں یاد بھی نہ تھا کہ انہوں نے کب کتنے سال پہلے مہندی لگائی تھی ۔ سنجیدہ مزاج شیریں کے احتجاج کے باوجود انہیں سنوار کر صوفے پر براجمان خان صاحب کی طرف لانے لگیں ۔ خان صاحب کی نظروں نے دیکھا کہ بڑھاپے کی جھریوں کے پیچھے شیریں کا روئے زیبا روشن و تابندہ تھا گویا ہوا کہ ایک جھونکے نے زندگی کے کئی اوراق یکدم پلٹ دیئے ہوں ۔

ان کی خالہ زاد بہن شوخ و چنچل شیریں زینوں سے چھلانگیں بلکہ ہرن کی طرح چوکڑیاں و قلانچیں مارتی ہوئی اتر رہی تھیں لہراتا دوپٹہ ، بل کھاتی چوٹیاں ، سانسوں کا زیر وبم ، پیشانی پر عود کر آنے والی موتیوں جیسی پسینے کی بوندیں ، جمال یار کا نظارہ خان صاحب کی آنکھوں میں ابھر آیا ۔ شیریں قریب آئی تو انہوں نے بڑھ کر ان کا ہاتھ تھام لیا اور اپنے ساتھ صوفے پر بٹھالیا ۔ آج بھی شیریں کی ہتھیلیوں پر مہندی رچی تھی اور دست حنائی کی حرارت و نرمی خان صاحب کے لاغر ناتواں جسم کو حرارت بخش رہی تھی ۔ خان صاحب کا چہرہ مسرتوں کا پرتو لئے دمکنے لگا ۔ ایک شان بے نیازی سے انہوں نے اپنے بھرے خاندان کے افراد پر ایک طائرانہ نظر ڈالی اور گویا ہوئے ’’شیریں نے میری زندگی ، میرے جینے کا انداز ہی بدل دیا ہے ۔ وہ صرف میری بیوی ہی نہیں بلکہ میری دوست ، میری رہنما ، میری رہبر ، میری دلبر بلکہ میرے اپنے وجود کا ایک حصہ رہی ہے۔ تھوڑی دیر بھی وہ میرے اطراف نظر نہ آئے تو میں بڑا بے چین ہوجاتا ہوں ۔ مجھے اس کے سائے ، اس کی پناہ کی عادت سی ہوگئی ہے ۔ یہی میرا مرکز ، سوچ و فکر ہے ، میرے تصورات کے تانے بانے انہیں کے اطراف بنے گئے ہیں ۔ بس دعا کرو کہ پاک پروردگار تاحیات میرا یہ سہارا مجھ سے نہ چھینے ، تم لوگوں کی جدائی تو میں برداشت کرچکا ہوں لیکن شیریں کہیں مجھ سے جدا نہ ہوجائے یہ خوف مجھے پریشان کرتا رہتا ہے ۔ میرے جیتے جی تم لوگ مجھے اس سے جدا نہ کرنا ، مختصر مدت ہی کے لئے سہی اپنے ساتھ لیکر نہ چلے جانا ۔ شیریں کے بغیر میں زندہ درگور ہوجاؤں گا ۔ خان صاحب کے الفاظ شیریں کے صبیح چہرے اور لبوں پر چھائی ملکوتی مسکراہٹ کو اور دلکش بنارہے تھے ۔ وہ خوشیوں کے بیکراں وسعتوں میں خود کو اڑتا ہوا محسوس کررہی تھی ۔ اس رخ روشن کی معصومیت و تازگی پر ہزاروں صباحتیں قربان ہورہی تھیں ۔ ہمیشہ اس کی دلآویز مسکراہٹیں ساری کلفت مٹادیا کرتی تھیں ۔ شیریں کے ساتھ ان کی ہمنوائی کے بغیر شاید خان صاحب کی عمر رائیگاں جاتی اور شیریں خود بھی ساتھ نبھانے اور تعلقات کو مستحکم کرنے کے وصف سے بخوبی واقف تھی ۔ اب عمر کی اس منزل میں ایک معمر جوڑے میں الفاظ کا تبادلہ کم اور گناہوں کی زباں کا کام بڑھ جاتا ہے نا ؟ زندگی کی اساس بس نازک احساسات پر قائم رہ جاتی ہے ۔ دونوں میں ایک باہم ربط رہ جاتا ہے وہ بھی اس طرح کہ نہ پہلا دوسرے سے غافل ہوتا ہے نہ دوسرا پہلے سے بے نیاز رہ پاتا ہے ۔ خان صاحب کے الفاظ سن کر شیریں اپنی جگہ سے اٹھی اور جھک کر انہیں سلام کیا ۔ بچوں نے جھوم جھوم کر تالیاں بجائیں ۔ یوں لگ رہا تھا کہ اس ضعیف جوڑے پر اس رنگ و بو کے ماحول میں خدا کی رحمتوں و برکتوں کا نزول ہورہا ہو ۔ اور دونوں ہی اپنے دل میں سوچ رہے ہوں کہ
ہم سفر چاہئے ہجوم نہیں
اک مسافر ہی قافلہ ہے مجھے

TOPPOPULARRECENT