Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / زندگی کو بہتر بنانے دولت و ثروت سے زیادہ ’’ حسن اخلاق ‘‘ ضروری

زندگی کو بہتر بنانے دولت و ثروت سے زیادہ ’’ حسن اخلاق ‘‘ ضروری

نوجوان اخلاق و کردار سے عاری ، والدین و سرپرستوں میں مایوسی ، بچوں کو احساس دلانے کی ضرورت
گر تو مسلمان ہے

قسط (7 )
حیدرآباد۔ 12مئی (سیاست نیوز) زندگی کو بہتر بنانے کیلئے دولت و ثروت سے زیادہ’’ حسن اخلاق‘‘ ضروری ہے۔ روئے زمین پر بسنے والے ہر شخص کی دو علحدہ زندگیاں ہوتی ہیں وہ خانگی زندگی کے ساتھ اجتماعی زندگی بھی گزارتا ہے۔ خانگی زندگی وہ ہے جس کا حصہ اہل خانہ ہوتے ہیں جبکہ معاشرتی زندگی دوست و احباب ‘ رشتہ دار ‘ عزیز و اقارب ‘ برادری ‘ ملنے جلنے والے افراد ‘ پڑوسی وغیرہ سے وجود میں آتی ہے لیکن دونوں زندگیوں میں ایک شئے یکساں ہے۔ جب تک ان دونوں زندگیوں میں انسان حسن اخلاق کا مظاہرہ نہیں کرتا اس وقت تک وہ پر اعتماد ‘ خوش و خرم زندگی گزارنے سے محروم رہتا ہے۔ نبی رحمت ﷺ نے امت مسلمہ کو معاشرتی و نجی زندگی کے رہنماء اصولوں سے واقف کرواتے ہوئے متعدد مقامات پر اخلاق کو بہتر بنانے کی تلقین کی ہے لیکن عام طور پر یہ دیکھا جانے لگا ہے کہ نوجوان اخلاق و کردار سے عاری ہوتے جا رہے ہیں اور والدین و سرپرست نوجوان نسل کی اس بگڑتی صورتحال سے مایوسی کا شکار ہونے لگے ہیں۔ نوجوانوں میں آنے والے اس بگاڑ کیلئے ذمہ دار وجوہات کا جائزہ لینے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اقدام کی ضرورت ہے چونکہ جب تک اقدام نہیں کیا جاتا اس وقت تک حالات کی تبدیلی ناممکن ہوتی ہے اسی لئے فوری طور پر اخلاقیات کی بنیادی تعلیم کا آغاز کیا جانا ضروری ہے۔حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ’’ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا بندے کی میزان میں قیامت کے روز اخلاق حسنہ سے زیادہ کوئی چیز بھاری نہیں ہوگی اور اللہ فحش بکنے والے اور بیہودہ باتیں کرنے والے کو پسند نہیں کرتا‘‘ دین اسلام کی کئی تعلیمات پر اغیار عمل کرتے ہوئے ترقی کی منازل طئے کر رہے ہیں لیکن ان تعلیمات سے دوری اختیار کرتے ہوئے ہماری نوجوان نسل تباہی کی راہ اختیار کئے ہوئے ہے۔

ماضی قریب تک بھی تعلیمی نصاب میں اخلاقیات کا مضمون ہوا کرتا تھا لیکن اخلاقیات سے عاری نسل کے فروغ کے خواہشمند سازشی عناصر اخلاقی گراوٹ کو بڑھاوا دینے میں مصروف ہیں اور اسی سازش کے تحت نصاب سے بھی بتدریج اخلاقی سائنس کا مضمون ختم کردیا گیا۔ بچوں کی پرورش میں والدین و سرپرستوں کے اخلاق کا اہم دخل ہوتا ہے لیکن جب معاشرے کے اثرات انسان قبول کرنے لگتا ہے تو اس کا اثر اس کے اخلاق پر شروع ہو جاتا ہے۔ اسی لئے یہ ضروری ہے کہ ہم نہ صرف خاندانی و نجی زندگی میں حسن اخلاق پیش کریں بلکہ ایک صالح معاشرے کی تشکیل بھی ہماری اپنی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنا ضروری ہے۔ اس بات کا احساس اگر ہر فرد امت میں پیدا ہو جائے تو حالات میں یکسر تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

نوجوانوں میں بڑھ رہی گالی گلوچ و فحش کلامی کے ماحول پر جو اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس سے نہ صرف ان نوجوانوں کی شبیہہ متاثر ہونے لگتی ہے بلکہ ان کا یہ طرز گفتگو اکثر ایک قوم کی شناخت بننے لگتا ہے۔ نوجوان خواہ تعلیم یافتہ ہوں یا ناخواندگی کا شکار ہوں ان میں موجود اخلاق و کردار انہیں بلندی پر پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ دین اسلام کی تعلیمات میں استاد کا مرتبہ باپ کے برابر قرار دیا گیا ہے لیکن حالیہ عرصہ میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ والدین و سرپرست بچوں کے سامنے استاد کے متعلق توہین آمیز رویہ اختیار کر لیتے ہیں جس کے منفی اثرات بچوں کے اخلاق پر مرتب ہوتے ہیں اور بچے ابتدائی طور پر اساتذہ کا احترام کرنا بند کر دیتے ہیں اور پھر بتدریج ان میں سے ہر بڑے کا ادب ختم ہونے لگتا ہے اور جب والدین و سرپرست بچوں کے ساتھ شفیق رہنا بند کردیتے ہیں تو بچے بھی اپنے سے چھوٹے بچوں کے ہمراہ شفیق نہیں رہ سکتے اور ایسے ہی ان کی کردار سازی ہونے لگتی ہے۔ جب یہ بچہ اس کردار کے ساتھ نجی و خاندانی زندگی سے نکل کر معاشرتی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو اس کے منفی اثرات اس کی شخصیت پر پڑنے لگتے ہیں اور اسی کردار کے حامل چند افراد کا گروہ جب بن جاتا ہے تو یہ گروہ سماج کے لئے تکلیف دہ بننے لگتا ہے۔ اسی لئے یہ ضروری ہے کہ اخلاقی تربیت کا خصوصی اہتمام کیا جائے چونکہ اخلاقیات کے ذریعہ ہی دلوں کو فتح کیا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں میں انقلابی تبدیلی لانے کیلئے یہ ضروری نہیں کہ انہیں ہر مقام پر ٹوکا جائے بلکہ ان کے ہمراہ بہتر سلوک اور معاشرتی و نجی زندگی کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے گفتگو کی جائے اور انہیں اس بات کا احساس دلوایا جائے کہ ان کے اخلاق ہی ان کی شخصیت کے آئینہ دار ثابت ہوتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT