Friday , August 18 2017
Home / اضلاع کی خبریں / زندگی کو شریعت محمدیؐ کے سانچے میں ڈھالنے کی تلقین

زندگی کو شریعت محمدیؐ کے سانچے میں ڈھالنے کی تلقین

سادگی سے شادی کرنے کا مشورہ ، ظہیرآباد میں سہ روزہ تبلیغی اجتماع کا افتتاح، مختلف علماء کرام کا خطاب

ظہیرآباد۔ 15 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مولانا عتیق احمد قاسمی نے یہاں سہ روزہ تبلیغی اجتماع کے اختتام سے قبل بعد نماز عصر انجام دی گئی اجتماعی شادیوں کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شادی، انسان کی فطری ضرورت کی تکمیل ہے جبکہ دین اسلام ’’دین فطرت‘‘ ہے جس نے انسان کو مجرد زندگی گزارنے کا حکم نہیں دیا ہے۔ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نکاح میری سنت ہے جو میری سنت سے اعراض کرے تو وہ میری امت میں سے نہیں ہے جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ سرور کائنات کی امت میں داخل ہونا ہے تو نکاح ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکاح ایک ایسا مقدس عمل ہے جس میں ایک اجنبی لڑکا اور ایک لڑکی رشتہ ازدواج سے منسلک ہوجاتے ہیں اور یہ ایک ایسا پاکیزہ عمل ہے جس کی مثال دنیا کی کسی مذہب میں نہیں ملتی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں نے شادیوں کے موقع پر ایسے رسومات کی ادائیگی کو اپنے طور پر لازمی حیثیت دے دی ہے جن کا شریعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں۔ جو شادی سادگی سے ہوگی، وہ حق تعالیٰ کی برکتوں سے مالا مال ہوگی اور جو شادی شہرت اور دکھاوے کے لئے ہوگی، وہ حق تعالیٰ کی برکتوں سے محروم ہوگی۔ مولانا عتیق احمد قاسمی ناظم جامعہ گلشن خیرالنساء ظہیرآباد نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لئے خاوند پر زور دیا کہ وہ بیوی کو نظرانداز نہ کریں۔ اس کو اپنا وقت دیں۔ اس کی عزت کریں۔ طلاق کی دھمکی نہ دیں اور یہ کہ بیوی کے اقارب سے بے اعتنائی نہ برتیں۔ خود بھی شریعت پر عمل کریں اور اپنی بیوی کو عمل کرنے کی تلقین کریں۔ انہوں نے شرعی احکام کے مطابق شادی کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یاد دلایا کہ جو عمارت دین کی بنیاد پر بنے گی، حق تعالیٰ اس کو پائیداری عطا کریں گے۔ اس موقع پر آٹھ نوجوان رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے۔ ضلع سطح کے اس سہ روزہ تبلیغی اجتماع کے پہلے دن بعد نماز عصر مولانا محمد مزمل نے اسلام میں ذکر کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اللہ کا ذکر کرنے والا بندہ کبھی بھی موت سے غافل نہیں ہوتا۔ بعد مغرب مولانا عارف الدین نے اللہ کے راستہ میں وقت نکالنے کی اہمیت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے انسان کو جو زندگی عطا کی ہے، وہ ایک عظیم نعمت ہے اور اس نعمت کی قدر یہ ہے کہ اس زندگی کو شریعت محمدی کے سانچے میں ڈھال دی جائے۔ اجتماع کے دوسرے روز 12 نومبر کو بعد نماز فجر مولانا مفتی محمد حسام الدین نے ’’وعدے اور وعیدوں کا یقین‘‘ کے زیرعنوان خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وعدہ کا اگر یقین ہو تو عمل کرنا اور کوئی بھی نیک کام کرنا آسان ہوجاتا ہے اور اسی طرح وعید کا خوف ہو تو گناہوں سے گناہوں سے بچنا بھی آسان ہوجاتا ہے۔ مفتی عبدالصمد (حیدرآباد) نے اللہ کے احکامات پر قربانی‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ مفتی محمد کلیم گجویل نے ذکر کی اہمیت پر خطاب کیا۔ نیلور کے مفتی عبدالوہاب رشادی نے ’’دعوت دین کی عصر حاضر میں اہمیت‘‘ کے عنوان پر خطاب کیا۔ اجتماع کے تیسرے اور آخری روز بعد نماز فجر مفتی اسلم سلطان نے ’’معاشرتی زندگی میں اخلاقیات‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ مولانا محمد نجیب نے کہا کہ اللہ کے راستے میں جانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے جو اپنی زندگی گھر اور اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر اللہ کے دین کی تبلیغ کے لئے دور دراز مقامات کا سفرم کررہے ہیں۔ دیگر علماء کرام مفتی عبدالکلیم، مفتی عبدالباسط، مولانا امام الدین، مولانا مجیب احمد قاسمی، حافظ محمد سلیم، مولانا نذر احمد اور دیگر نے بھی مخاطب کیا۔ تبلیغی جماعت کے ضلع صدر حضرت محمد سلیمان صوفی کی زیرنگرانی محمد غوث بھائی، محمد ہاشم علی، خیرات بھائی، عبدالقیوم، ڈاکٹر عبدالسلام، عبدالستار، عبداللہ، عظمت باشاہ، زاہد علی، محمد جاوید علی، گورے میاں سکندر، مقصود بھائی اور دوسروں نے اجتماع کے انعقاد میں اہم رول ادا کیا۔ ایم ایل سی جناب محمد فریدالدین نے آئی ڈی ایس ایم ٹی کالونی میں اجتماع کے انعقاد کو یقینی بنانے میں اپنے اثر و رسوخ استعمال کیا۔

TOPPOPULARRECENT