Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / زندگی کی مصیبتوں کو بے تکان جدوجہد سے آسانیوں میں بدلنے کی مثال

زندگی کی مصیبتوں کو بے تکان جدوجہد سے آسانیوں میں بدلنے کی مثال

س40سالہ شیخ نجمہ لاکھوں نوجوانوں و خواتین کیلئے چراغ راہ
شوہر سے علیحدگی، بچوں سے دوری کے باوجود مسائل سے ہار ماننے تیار نہیں
ہفتہ وار بازار میں ہوٹل اور ہفتہ بھر گھر پر ترکاری کی فروخت

محمد نعیم وجاہت
زندگی کی جدوجہد میں اکثر لوگ تھک کر ہار مان لیتے ہیں یا بے بس ہوجاتے ہیں۔ وہی لوگ زمین پر قدم جما پاتے ہیں جنھیں گر کر اُٹھنے اور دوبارہ چلنے کا ہنر آتا ہے۔ آج ہم قارئین سیاست کے سامنے ایسی خاتون کو پیش کررہے ہیں جس کا حوصلہ ہمالیہ سے بلند ہے اور خود اعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ہم 10 دن قبل 12 فیصد مسلم تحفظات کی بھوک ہڑتال میں شرکت کے لئے کھمم جارہے تھے، سوریہ پیٹ کے ٹول پوائنٹ پر جیسے ہی ہماری گاڑی رُکی ہم نے دیکھا کہ ایک برقعہ پوش خاتون اپنی بائیک پر سامان سے لدی تھیلیوں کے بوجھ کے ساتھ سائے کی طرح فراٹے بھرتے ہوئے ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ تب ہی ہم نے ٹھان لیا تھا کہ اس خاتون کا ضرور انٹرویو کیا جائے۔ جیسے ہی ہم آگے بڑھے، کیا دیکھتے ہیں کہ یہ برقعہ پوش خاتون سڑک کے کنارے اپنی بائیک کو روک کر سامان سے لدی بوجھ کی بے ترتیب تھیلیوں کو درست کرتے ہوئے ترتیب سے جمارہی تھی۔ ہم نے بھی کچھ دور  اپنی گاڑی روکی اور اس برقعہ پوش خاتون سے بات چیت کی تو پتہ چلا کہ اس خاتون کا نام شیخ نجمہ ہے اور وہ سوریہ پیٹ کی رہنے والی ہے۔ اردو میڈیم سے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کرچکی ہے۔ شادی سے قبل وہ نلگنڈہ میں رہا کرتی تھی۔ شادی کے بعد سوریہ پیٹ منتقل ہوگئی۔ ان کے والد محکمہ پولیس میں ہیڈ کانسٹبل تھے جن کی دو بیویاں تھیں۔ ان کی ماں سے 9 بچے تھے جن میں 5 لڑکے اور 4 لڑکیاں شامل تھیں اور دوسری بیوی سے 7 بچے تھے۔ جب وہ 12 سال کی تھی ایک ایسے شخص سے ان کی شادی کردی گئی جو پہلے سے شادی شدہ تھا۔ تاہم وہ اپنی پہلی شریک حیات سے طلاق لے چکا تھا۔ انھیں شادی کے بعد سسرال میں کافی مصیبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ شوہر نے انھیں کافی پریشان کیا، تکالیف کے باوجود انھوں نے شوہر کا ساتھ نہ چھوڑا اور نہ ہی میکے گئی کیوں کہ ان کی مزید تین بہنیں تھیں وہ گھر پہونچ کر اپنے والد اور بھائی بہنوں پر بوجھ بننا نہیں چاہتی تھیں۔ وہ عمر کے 22 سال تک پہونچنے تک 5 بچوں کی ماں بن گئی جن میں 2 لڑکے اور 3 لڑکیاں شامل تھیں۔ اتنے سال زندگی گزارنے کے باوجود ان کے شوہر کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ ان کے ظلم و ستم اور شک کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوتا گیا جس سے وہ دلبرداشتہ ہوکر اپنی پانچویں بچی جس کی ایک سال عمر تھی اس وقت 100 روپے اور 2 جوڑوں کے ساتھ گھر چھوڑ کر نکل گئی اور حیدرآباد میں ایک سہیلی کے پاس ٹھہر کر پاسپورٹ بنایا اور 40 ہزار روپئے قرض حاصل کرتے ہوئے سعودی عرب چلی گئی جہاں انھوں نے زندگی کے 12 سال گزار دیئے۔ سعودی عرب میں کفیل کی والدہ کی خدمت کیلئے انھیں بلایا گیا تھا مگر والدہ کی خدمات کے علاوہ گھر کا تمام کام کرایا جاتا تھا۔ انھوں نے اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کرتے ہوئے تمام مصیبتوں کو برداشت کیا لیکن جب لوٹ کر واپس آئی تو سب کچھ بدل گیا تھا۔ شوہر سے خلع لے چکی تھی۔ مگر ان کے بچے ان کے نہیں رہے۔ میرے اپنے بھائی بہنوں نے میرے تعلق سے میرے بچوں کو غلط باور کراکے انھیں مجھ سے کافی دور کردیا تھا۔ وہ مجھ سے ملاقات کرنا بھی گوارا نہیں کررہے تھے۔ اسی اثناء میں ہمیشہ کے لئے مستقل طور پر سوریہ پیٹ میں قیام کرنے کا فیصلہ کیا جو قرض لیا تھا وہ بھی ادا کردیا اور اپنے لئے ذاتی مکان بھی خریدا۔ پھر سے نئی زندگی شروع کرنے کے لئے دوڑ دھوپ میں مصروف تھیں۔ چارمینار سے کپڑے وغیرہ خرید کر سوریہ پیٹ میں گھر سے فروخت کرنے کے کام آغاز ہوا تھا۔ اب وہ تنہا اپنی زندگی گزار رہی ہیں۔ پیر کے دن سوریہ پیٹ پر بازار لگتا ہے۔ وہاں ایک دن چھوٹی موٹی ہوٹل لگاتی ہیں پھر ہفتے کے 7 دن گھر پر ترکاری وغیرہ فروخت کرتی ہیں۔ ریڈی میڈ کپڑے خرید کر فروخت کرتی ہیں۔ انھیں ٹیلرنگ کا بھی کام آتا ہے۔ مشکلات بہت ہیں مگر وہ خدا کی ذات سے مایوس نہیں ہیں اور نہ ہی کسی کے احسان تلے جینا چاہتی ہیں۔  انھوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ مشکلات سے نہ گھبرائیں حالات کا ڈٹ کر سامنا کریں جو بھی ہنر جانتے ہوں اس کو ذریعہ بناکر آگے بڑھے اور خودکشی وغیرہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اپنی کمزوریوں کو پہچان کر اس کو طاقت بنانے کی کوشش کریں۔

TOPPOPULARRECENT