Sunday , September 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / زندہ شوہر کو مرحوم بتاکر نکاح کرنا

زندہ شوہر کو مرحوم بتاکر نکاح کرنا

سوال :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا نکاح عمر سے ہوا ، عمر زندہ ہے لیکن ہندہ کے والدین نے عمر کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیکر کہ عمر کی وفات ہوچکی ہے،ہندہ کا نکاح بکر سے کردیا ۔ نکاح کے بعد بکر نے ایک تحریری طلاق بھی دیدی ہے‘ کیا یہ نکاح اور طلاق دونوں واقع ہوئے یا نہیں۔ عمر کے بارے میں  کیا حکم ہے ؟
جواب :  صورت مسئول عنہا میں ہندہ منکوحۃ الغیر یعنی عمر کی زوجہ ہے۔ جب تک عمر زندہ ہے ‘ اس وقت تک اس کا نکاح کسی اور سے جائز نہیں جب تک کہ وہ طلاق یا خلع کے ذریعہ اپنے رشتہ نکاح کو منقطع نہ کردے ۔ مذکورہ نکاح‘ نکاح فاسد ہے ۔ نکاح فاسد کا حکم یہ ہے کہ وہ دونوں فوری علحدہ ہوجائیں۔ تاتارخانیہ ج ۳ ص ۱۱ میں ہے: و أما النکاح  الفاسد نحوما اذا تزوجھا فی نکاح الغیرأ وعدۃ الغیر … ولکل واحد من الزوجین فسخ النکاح بغیر محضرمن صاحبہ عند بعض المشائخ ۔ مذکورہ نکاح میںطلاق کا شرعاً اعتبار نہیں۔
ہندہ علی حالہ عمر سے کئے گئے سابقہ نکاح پر برقرار ہے۔ ہندہ سے اگر نکاح فاسد کے بعد بکر نے مباشرت کی ہے تو عمر تین حیض تک ہندہ کے ساتھ مباشرت سے اجتناب کرے۔
زوجہء متبنٰی کا مہر گود لینے والے پر نہیں
سوال :  کیافرما تے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر نے ایک لڑکے کومتبنٰی بنالیا اور اسکی پرورش وتعلیم وتربیت کی ۔ لڑکا باشعور ہونے کے بعد بکر کی اجازت کے بغیر اپنی شادی کرلی ۔ شادی کے بعد بھی یہ لڑکا اور اسکی بیوی بکر کے ہی زیر پرورش رہے ۔ بعدہ اس لڑکے کا انتقال ہوگیا ہے اور اس کے متروکہ میں کوئی اثاثہ نہیں ہے  ایسی صورت میں کیا مہرکی ادائی بکر کے ذمہ رہے گی  ؟
جواب :  صورت مسئول عنہا میں متبنیٰ کی بیوی کے زر مہر کی ادائی بکر پر واجب نہیں کیونکہ بکر مہرکا ضامن نہیں ہواتھا ۔ اگرچہ متبنیٰ مرحوم کے ترکہ میں کوئی اثاثہ نہیں ہے ۔ بہرحال دوسروں پر خـواہ وہ ولی ہو یا اجنبی جب تک ضامن نہ بنے مہرکی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ۔ ×
حکم ِنکاح از منکوحئہ غیر
سوال :  کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ ہندہ کا عقد عُمرسے ہوا ۔ اس کے بعد ہندہ عُمر کے عقد میں رہتے ہوئے بکر سے یہ باور کراکے عقد کیا کہ یہ اس کا عقد اولیٰ ہے ۔ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے  ؟
جواب :  صورت مسئول عنہامیں ہندہ نے اپنے شوہر (عُمر) سے تفریق حاصل کئے بغیر بکر کو غلط باور کراکے کہ وہ ناکتخدا ہے عقد کیا ہے اور بکر کو علم نہ تھا کہ ہندہ منکوحئہ غیر ہے اس نے لاعلمی کی بناء پر عقد کیا تو یہ نکاح فاسد ہے۔رد المحتار جلد دوم ص ۵۸۰ میں ہے:  (قولہ نکاحاً فاسداً)ھی المنکوحۃ بغیر شہود ونکاح امرأۃ الغیر بلاعلم أنھا متزوجۃ ونکاح المحارم مع العلم بعدم الحل فاسد  ۔ بکر کو چاہئے کہ وہ فوراً ہندہ سے علحدہ ہوجائے اور اس کو نکاح سے خارج کردے ۔ البتہ نکاح فاسد میں صحبت ہوجائے تو مہرمثل( ہندہ کا خاندانی مہر) اور مہرمقررہ میں جو کم ہو وہ ہندہ کو دیاجائے ۔ وان کان قد دخل بھا فلھا الأقل مما سمی ومن مہر مثلہا ۔ عالمگیری جلد اول ص ۳۳۰ ۔                                فقط واﷲ أعلم

TOPPOPULARRECENT